بلوچستان اور برطانوی مؤرخین – ڈاکٹر فاروق بلوچ – قسط 1

981

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

بلوچستان اور برطانوی مؤرخین
مصنف: ڈاکٹر فاروق بلوچ

قسط 1 | بلوچستان جغرافیائی کیفیت (حصہ اول)

(ایک تعارف)

            بلوچستان ایک وسیع وعریض خطہ زمین ہے جو وسط ایشیاء جنوب مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے عین نکڑ پر واقع ہے۔ قومی و نسلی حوالے سے اس قطعہ ارضی کا کل رقبہ تو 6 سے 7 لاکھ مربع میل تک پھیلا ہوا ہے کہ جہاں تک بلوچ آباد ہیں مگر سیاسی و جغرافیائی حوالے سے اس کا کل رقبہ بیان کرنے میں مورخین و ماہرین میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

            اکثر مورخین جن میں عنایت اللہ بلوچ اور محمد سردار خان قابل ذکر ہیں بلوچستان کا کل رقبہ 3,40,000 مربع میل بیان کرتے ہیں۔(1) موجودہ وقت میں یہ رقبہ تین مختلف ممالک ایران، افغانستان اور پاکستان میں منقسم ہے جبکہ پاکستانی حصے کے بھی بعض علاقے مثلاً کراچی، جیکب آباد (خان گڑھ) شکار پور سندھ میں، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور کوہ سلیمان کا ایک وسیع حصہ پنجاب میں جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی اور اتالا تک صوبہ خیبر پختونخواہ میں شامل ہیں۔ یہ وسیع و عریض خطہ مختلف اقسام کی طبعی کیفیت کا حامل ہے جو اس کی اہمیت میں مزید اضافہ کرتی ہیں ۔ اس کا زیادہ تر حصہ تقریباً 60 سے 70 فیصد اونچے نیچے پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے۔ بلند ترین پہاڑی سلسلے 12 ہزار فٹ سے 5000 فٹ جبکہ نشیبی پہاڑی سلسلے 5000 سے 1200 فٹ تک بلند ہیں۔ سبی، کچھی، بیلہ اور دشت مکران کے علاقے میدانی جبکہ خاران اور چاغی ریگستانی علاقے ہیں، کچھ پہاڑی سلسلوں میں گھنے جنگلات بھی ہیں مگر کافی حد تک کم۔ زرغون، ہربوئی اور خواجہ عمران کے پہاڑی سلسلوں میں جنگلات اور گھاس سے بھرئی ہوئی وادیاں ہیں جہاں سارا سال بلوچ چرواہے اپنی بھیڑ بکریاں چراتے رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں کوہ سیاہان، کوہ وسطی مکران، ساحلی مکران، کوہ پب، کوہ کیرتھر، کوہ سلیمان وغیرہ کے مشہور پہاڑی سلسلے بھی اسی خطے کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ کچھی کا علاقہ تو ماضی قدیم سے زرخیز و آباد چلا آرہا ہے مگر لسبیلہ اور دشت مکران کے وسیع میدان آہستہ آہستہ ویرانی سے ہریالی میں تبدیل ہورہے ہیں۔چاغی، نوشکی اور خاران کے علاقے ریگستانی ہیں۔ یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور گڑھے عام طور پر ملتے ہیں جو بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ یہ دراصل دشت لوط ہی کا حصہ ہیں جہاں سارا سال ریت کا سفر جاری رہتا ہے۔ یہاں ایک ہوا چلتی ہے جسے بادِ صد و بیست روز ( ایک سو بیس دن یعنی چار مہینے چلنے والی ہوا) (2) کہتے ہیں۔ ان ہوائوں کے چلنے کے دوران ان صحرائی خطوں میں سفر کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے کیونکہ اس دوران ریت کے مہیب پہاڑ تیز جھکڑوں کی وجہ سے شدید شکست و ریخت سے دوچار ہوتے ہیں اور گہرے گڑھے یا ریت کے گہرے کنویں بھر جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے گڑھے بن جاتے ہیں اس دوران جب ہوا چلتی ہے اور ریت اڑتی ہے تو بعض اوقات حد نظر صفر ہوجاتی ہے اور تیز ہوائوں اور جھکڑوں کی وجہ سے آگے چلنا ناممکن ہوجاتا ہے اور بسا اوقات انسان اور جانور سبھی ریت کے سمندر میں دفن ہوجاتے ہیں۔

            ان پہاڑی سلسلوں، دشتوں اور میدانوں میں کئی اقسام کے جانور اور پرندے ملتے ہیں جن میں لگڑ بھگڑ، بھیڑیے، لومڑی، گیدڑ، خرگوش، جنگلی کتے، کئی اقسام کے دیگر گوشت خور جانور، جنگلی بکرے، ہرن، غزال اور کئی اقسام کے پرندے شامل ہیں۔ چلتن نیشنل پارک اور ہنگول نیشنل پارک میں درج بالا جانور اور پرندے عام طور پر نظر آتے ہیں جبکہ دریجی، وڈھ، سارونہ، خضدار اور لسبیلہ کے کئی پہاڑی علاقوں کو مقامی طور پر تحفظ دیکر جانوروں کے لئے پناہ گاہیں بنائی گئی ہیں جبکہ زیارت، کوہ سلیمان کے گھنے جنگلات اور لسبیلہ کے ہنگول پارک میں چیتوں کی بھی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

            بلوچستان کا ساحل ایک طویل مسافت پر مشتمل ہے۔ ساحلی علاقہ ایران اور پاکستان میں تقسیم ہے جبکہ پاکستان میں بھی کچھ حصہ صوبہ سندھ میں شامل ہے۔ یہ کل ساحل کراچی سے میناب ( بندر عباس کے قریب ایک بندرگاہ) تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی طوالت کے بارے میں ماہرین میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عنایت اللہ بلوچ اور بعض دیگر مستند مورخین اس ساحل کی طوالت 600 میل رقم کرتے ہیں۔(3) جن میں سے 771 کلو میٹر یعنی 454 میل پاکستانی بلوچستان میں شامل ہے جبکہ 146 میل ایرانی بلوچستان میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ چند میل کی طوالت سندھ میں شامل کی گئی ہے۔ خوردنی اور دیگر مچھلیاں، جھینگے، سبز کچھوے اور دیگر آبی حیات اور سمندری پرندوں کی لاتعداد اقسام ملتی ہیں، ساحلی علاقہ زیادہ تر بے ترتیب اور کٹا پھٹا ہے مگر بعض مقامات پر ساحلی ٹاپو اور جزیرہ نما پائے جاتے ہیں کہ جہاں آسانی کے ساتھ بڑی بندرگاہیں بنائی جاسکتی ہیں ایسا ہی ایک میگا پروجیکٹ گوادر میں مکمل کیا گیا ہے کہ جہاں بڑے بحری جہاز آکر لنگر انداز ہوتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔