لسبیلہ: ملیریا سے خواتین و بچوں سمیت 9 افراد جانبحق

182
فائل فوٹو: سول اسپتال کوئٹہ کا ایک منظر—.فوٹو بشکریہ راشد سعید

لسبیلہ میں ملیریا کی وباء نے تباہی مچادی، گزشتہ دس دنوں کے دوران بچوں و خواتین سمیت 9 افراد جاںبحق، لسبیلہ میں اب تک دو ہزار سے زائد مریضوں میں ملیریا کی تشخیص ہوچکی ہے، لسبیلہ میں اس وقت ملیریا کی صورتحال الارمنگ ہے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر احمد مینگل کی صحافیوں سے گفتگو

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں گزشتہ دس دنوں کے دوران ملیریا نے تباہی مچا دی، تحصیل کنراج میں صاحب خان گوٹھ،عمرگوٹھ، حاجی لیماں، گوٹھ زمان، ساند، مٹھڑی، روچ کنڈ میں اب تک سینکڑوں مریض ملیریا کا شکار ہوچکے ہیں۔

ان علاقوں میں سے مٹھڑی میں ایک بچی جانبحق ہوچکی ہے جبکہ اوتھل کے نواحی علاقے چماسرہ میں بھی ایک بچی ملیریا کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے، کوسٹل بیلٹ لیاری، دبہ لیاری، پھورون او پھورٹو میں بھی سینکڑوں مریضوں میں ملیریا کی تشخیص ہوچکی ہے۔

اس حوالے سے یونین کونسل لیاری کے سابق ناظم سردار غلام سرور پھورائی کا کہنا ہے کہ پھورون میں اس وقت ملیریا نے وباء کی شکل اختیار کرلی ہے گزشتہ دس دنوں کے دوران سات افراد جانبحق ہوچکے ہیں جن میں دو خواتین ایک مرد او چار بچے شامل ہیں اور آج بھی کچھ مریض تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اوتھل اور پرائیویٹ کلینکس میں منتقل کیے گئے ہیں اگر جلد صورتحال کو کنٹرول نہ کیاگیا تو مزید ہلاکتوں کا احتمال ہے۔

ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر احمد مینگل کے مطابق لسبیلہ میں اس وقت ملیریا کی صورتحال خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لسبیلہ میں پچھلے سال ملیریا کے تقریباً گیارہ سو کیسز رپورٹ ہوئے تھے لیکن اس سال ملیریا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو ہزار سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی پی ایچ آئی اور محکمہ صحت کے ذمہ داران کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں ادویات اور ملیریا کی تشخیص کیلئے کٹس روانہ کردی گئی ہے جبکہ حب، وندر، اوتھل اور بیلہ میں مچھر مار اسپرے کروائے جارہے ہیں تاکہ مزید ان علاقوں میں ملیریا نہ پھیلے۔

اس حوالے سے پی پی ایچ آئی لسبیلہ کے ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر تنویر آفتاب بلوچ کا کہنا ہے کہ ملیریا سے متاثرہ علاقوں میں پی پی ایچ آئی کا عملہ ملیریا کو کنٹرول کرنے کی حتیٰ المقدور کوشش کررہا ہے ان متاثرہ علاقوں میں زیادہ مریضوں کو فیلسی پیرم ملیریا کی تشخیص ہوئی ہے اور یہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ اس میں انسانی اعضاء کے متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے او یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

تنویر آفتاب کے مطابق متاثرہ علاقوں میں جہاں جہاں ہماری بی ایچ یوز ہیں وہاں ہم نے اپنے عملے کو ملیریا کی تشخیص کیلئے کٹس فراہم کردی ہیں۔

واضح رہے کہ ملیریا بخار مچھر سے پھیلنے والا ایک متعدی مرض ہے۔ ملیریا ایک جراثیمی بیماری ہے یہ مچھروں کے کاٹنے کے باعث پھیلتی ہے، ملیریا سے متاثرہ مریض کے جگر میں یہ جرثومے ہفتوں سے مہینوں او ر سالوں نمو پاتے ہیں تاہم اس کی علامات نظر آنے میں زیادہ دیر بھی لگ سکتی ہے او ر جب ایک خاص تعداد میں یہ جرثومے پیدا ہوتے ہیں تو ملیریا کا واضح حملہ ہوتا ہے۔

ملیریا بخار کی علامات مچھر کے کاٹنے کے ایک سے چار ہفتے بعد تک ظاہر ہوتی ہیں یہ جراثیم افزائش پاکر خون کے سرخ خلیوں کو تباہ کردیتے ہیں یہ قابل علاج مرض ہے اگر بروقت تشخیص کرکے اس کا علاج کیا جائے۔