بلوچستان سندھ مرکزی شاہراہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار، چھ مہینے میں 87 افراد جانبحق

268
فائل فوٹو

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی این اے 65 بلوچستان سندھ مرکزی شاہراہ ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے قاتل شاہراہ بن گئی، چھ ماہ کے دوران مختلف حادثات میں 87مسافر جانحق 170سے زائد زخمی، کروڑوں روپے کی بسیں، ٹرکیں، کاریں، موٹر سائیکلیں مختلف حادثات میں تباہ ہوگئی، گاڑیوں کے ٹائر برسٹ ہونے لگے۔

ڈیرہ مراد جمالی شہر میں مرکزی شاہراہ کا نام ونشان مٹنے لگا،ٹرانسپورٹروں نے ٹول پلازہ کا بائیکاٹ کرکے ٹریفک حادثات میں ہلاک زخمیوں کے مقدمات این ایچ اے کے احکام درج کرنے کا اعلان کردیا، نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے کمشنر نصیرآباد ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کے ڈیرہ مراد جمالی شہر میں مرمت کے احکامات بھی ہوا میں اڑا دیئے گئے۔

بلوچستان کی واحد اکلوتی نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی این اے 65سندھ بلوچستان قومی شاہراہ ڈیرہ مراد جمالی شہر، نوتال، بختیار آبا، د ڈیرہ اللہ یار اور بولان میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے مرمت نہ ہونے کی وجہ سے اکثر قومی شاہرہ پر ٹریفک حادثات میں روز بروز اضافہ ہونے سے قاتل شاہراہ بنتی جارہی ہے۔

ڈیرہ مراد جمالی شہر میں قومی شاہراہ مکمل طور پر ٹوٹنے سے سندھ بلوچستان سے آنے والی ٹریفک کو حادثات پیش آنے لگے ہیں، مٹی کے دھول اڑنے سے تاجر برادری سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ہیں۔

ذرائع کے مطابق عوامی شکایات پر کمشنر نصیرآباد جاوید اختر محمود،ڈپٹی کمشنر نصیرآباد ظفر بلوچ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے رابطہ کر کے ڈیرہ مراد جمالی شہر میں مرکزی شاہراہ کی مرمت کے احکامات جاری کیئے تھے لیکن نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام نے احکامات بھی ہوا میں اڑا دیئے۔

اسی حوالے سے پڑھے: بلوچستان کی قاتل شاہرائیں – ٹی بی پی رپورٹ

معروف کچھی ٹرانسپورٹ کے سربراہ میر شوکت خان بنگلزئی، نصیرآباد ٹرانسپورٹرز کے صدر میر امداد علی بنگلزئی نے کہاکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ڈیرہ مراد جمالی شہر اور این اے 65کی فوری مرمت نہیں کی تو احتجاج کرتے ہوئے ڈیرہ مراد جمالی میں ٹرانسپورٹرز ٹول پلازہ کو ٹیکس دینے کا بائیکاٹ کردیں گے اورمرکزی شاہرہ میں ہلاک ہو نے مسافروں کے مقدمات بھی نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے خلاف درج کرائے جائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری نیشنل ہائی وے اتھارٹی پر عائد ہوگی۔