حیدر آباد سے مزید دو طالب علم رہنماء لاپتہ، کراچی میں مظاہرہ

155

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سندھ کے شہر حیدرآباد سے گذشتہ رات مزید دو سندھی طالب علم رہنماوں کو پاکستانی فوسز کے اہلکاروں نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، طالب علم رہنماوں سمیت دیگر افراد کے گمشدگی و عدم بازیابی پر کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں حیدر آباد میں اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے لیئے لانگ مارچ کرنے والی فورم ‘یوتھ ایکشن کمیٹی’ کے دو طالب علم رہنماوں حمز علی چانڈیو اور کاشف بھٹو کو رات دیر سے پاکستانی فورسز نے حیدرآباد میں ان کے فلیٹس پر چھاپہ مارکر حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پے منتقل کردیا۔

اس موقع پر یوتھ ایکشن کمیٹی کی رہنماء سندھو نواز گھانگھرو، سرمن بروہی اور سہیل بھٹو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں سندھی طالب علم رہنماوں کو اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کی تحریک چلانے کی وجہ سے پاکستانی عکسری اداروں نے اٹھاکر لاپتہ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر اٹھائے گئے طالب علم رہنماوں کو آزاد نہیں کیا گیا تو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا کر جدوجہد کی شروعات کی جائے گی۔

دوسری جانب گذشتہ دنوں کراچی سے لاپتہ کیئے گئے جیئے سندھ تحریک کے رہنماء مسعود شاہ اور شوکت مرکھنڈ کی آزادی کے لیئے پارٹی کی جانب سے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا گیا۔

احتجاج میں پارٹی رہنماوں سمیت کارکنان نے بڑی تعداد میں حصہ لیا جبکہ قبل ازیں احتجاجی ریلی نکالی گئی جو کراچی پریس کلب پہنچی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سندھ سے چار سیاسی کارکنان کو اٹھاکر لاپتہ کیا گیا ہے جبکہ گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی سندھ بھر سے جبری گمشدگیوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔