بلوچ نیشنل لیگ کے قیام کا مقصد – ڈاکٹر علی اکبر بلوچ

290

بلوچ نیشنل لیگ کے قیام کا مقصد

تحریر: ڈاکٹر علی اکبر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ نیشنل لیگ کا قیام اس بات کا غماز ہے کہ موجودہ تحریک آزادی میں کمزوریاں وجود رکھتی ہیں، بلوچ قومی تحریک کی حالیہ پس منظر و موجود مسائل و پیچیدگیوں کو مدنظر رکھ کر پہ در پہ گروہیت و پارٹیوں کو بلوچ مجموعی تحریک سے بالاتر سمجھ کر سراسیمگی کی جو صورتحال  پیدا ہوچکی ہے اور بلوچ جہد آزادی آج ایک ایسے موڑ پر ہے، جہاں پیچیدگیاں بہت ہیں، اور حالات نے  ایسی رخ اختیار کی ہے کہ نا چاہتے ہوئے بھی بلوچ قومی جدوجہد طبقات میں بٹ چکا ہے، کوئی اچانک سے مڈل کلاس بن گیا ہے، تو کسی کو اپنے نوابزادگی کا احساس ہو چلا ہے۔ کہیں کوئی کسی کو یہ احساس دلا رہا ہے، ہم قبائلی لوگ ہیں اور تحریک ہماری مرہونِ منت ہے، تو کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ تحریک پڑھے لکھے باشعور بلوچ نوجوانوں کی شروع کردہ تحریک ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے، اگر ہم قبائلی بشمول ہمارے سردار پاکستان سے مذاکرات کرلیں تو مڈل کلاس کو انکی اوقات اور اہمیت کا اندازہ ہوجائےگا۔

ان تمام محرکات کو سامنے رکھ کر آج ہر وہ کارکن جنہوں نے اس تحریک کی آبیاری کے لئے اپنا خون بہایا، اپنا سب کچھ قربان کر دیا، جن کا مقصد ایک مضبوط تحریک کی بنیاد رکھ کر آزادی کے لئے جدوجہد کرنا تھا بہ حالتِ مجبوری انہوں نے “بلوچ نیشنل لیگ”کے نام سے ایک قومی پارٹی تشکیل دی ہے، جس کا مقصد بلوچ سرزمین کو غیروں سے نجات دینے سمیت بلوچ سیاسی سماج کے ہر اس جہدکار کو آگے لانا ہے جو اقرباء پروری، سفارش کلچر، گروہیت سمیت شخصیات کی اجارہ داری کے خلاف ہے۔

بلوچ نیشنل لیگ بلوچ قومی آزادی کے اس جدوجہد میں اس عزم کو لیکر آگے بڑھے گی جس سے اداروں کی مضبوطی اولیت رکھتا ہو، بلوچ مجموعی تحریک کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنا بی این ایل کا شعار ہوگا۔
تحریک آزادی کے لئے برسرپیکار مسلح جہدکاروں کی اخلاقی حمایت ہمارا منشور ہے لیکن اس بات کا قطعاً مقصد نہیں کہ اداروں کے مابین تصادم پیدا ہو اور دوسرا کوئی ادارہ آکر ہمیں ڈکٹیٹ کرے، بلوچ نیشنل لیگ خالص جمہوری روایات کو اپنا کر بلوچ قومی آزادی کے لئے میدانِ عمل میں اپنا کردار ادا کریگا، بی این ایل کے قیام کا اولین مقصد میں سے ایک یہ ہے کہ بلوچ جہد آزادی میں موجود باقی پارٹیوں کی ریشہ دوانیاں، گروہیت کا فروغ اور اداروں سے زیادہ شخصیات کی اجارہ داری کے خلاف ایک مضبوط آواز بننا ہے اوراسی مقصد کو لیکر ہم آگے اپنا منشور پیش کرینگے اور بلوچ قومی تحریک کی بنیادی مقصد کو فروغ دیکر اپنا جہد جاری رکھیں گے۔

بلوچ قومی آزادی کے موجودہ تحریک کے اندر  سیاسی پارٹیوں کے درمیان  پائی جانے والی دوریاں،ثانوی اختلافات  اور ایک دوسرے کا گریبان چاک کرنا یقینا سیاسی عمل نہیں۔

بہ حیثیت بلوچ نیشنل لیگ کے آرگنائزر میں ڈاکٹر علی اکبر بلوچ نے بی این ایل کے قیام پر سوشل میڈیا سمیت دوسرے زرائع سے موصول ہونے والی تنقید اور سوالات کا جواب اس طرح دیتا ہوں کہ گذشتہ ستر سالہ تحریک کی طویل زندگی کو ہمارے سیاسی پارٹیوں کے باہمی اختلافات، ذاتی نمود و نمائش اور خود پرستی  کے علاوہ اور کوئی شئے دکھائی نہیں دے رہا۔ خطے کی بدلتی صورت حال اور بلوچ زمین کی اہمیت کو مدنظر رکھ کر بلوچ نیشنل لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا کیونکہ ہم نے بارہا کوششیں کیں کہ بلوچ قومی آزادی کے لئے برسر پیکار موجودہ سیاسی پارٹیاں اپنا قبلہ درست کرکے اپنے مقصد پر دیہان دے کر بلوچ مسئلے کو عالمی دنیا کے سامنے پیش کریں لیکن بدقسمتی سے ہم نے ہمیشہ یہی دیکھا کہ ثانوی اختلافات ذاتی خواہش کے حصول کو قومی تحریک  پر بالا رکھ کر  ہمیشہ تقسیم در تقسیم کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

چند قوتوں نے ہمیشہ بلوچ قومی تحریک کو یرغمال بنا کر یہ کوشش کی کہ اپنے ذاتی مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے صرف اس استعارے کو استعمال کرلیں کہ  اس تحریک کے اندر موجود پہلے پارٹیوں کو مضبوط کیا جائے میں ان لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ کس طرح؟ جب ایک پارٹی جمہوری روایات کو پس پشت ڈال کر اپنے کارکنان کو یہ حق نا دے کہ وہ سوال کریں وہ مثبت تنقید کریں ہر جگہ خود بنائی گئی لابیز کو اہمیت دے کر مخلص کارکنان کو نظر انداز کرکے راہ فرار اختیار کریں تو کس طرح ان لوگوں کے ساتھ مل کر جمہوری عمل کو زندہ رکھا جاسکتا ہے؟

بلوچ نیشنل لیگ کا قیام ان تمام پالیسیوں کے خلاف ایک مضبوط آواز ہوگی جس سے بلوچ قومی تحریک کو ذاتی مقاصد کے بھینٹ چڑھایا جارہا ہے، بلوچ نیشنل لیگ اس بات پر مضبوط یقین رکھتا ہے کہ راستوں کی بندش اور ایک دوسرے سے کنارہ کرنا ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ سیاسی و جمہوری روایات کی پاسداری سیاسی عمل کو اہمیت دینا اور کارکنان کو ان کی حقیقی تشخص کی بحالی کا یقین دلانے پر ایمان رکھتا ہے، سیاسی عمل ہی مستقل راہوں کو مضبوط بناتا ہے ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کل کلاں موجودہ سیاسی پارٹیوں کے اندر جمہوری روایات مضبوط ہوئیں تو ہم اپنی حیثیت ان کے اندر تحلیل کرنے کو تیار ہونگے۔ یقینا ہمیں قومی تحریک عزیز ہے نا کہ ذاتی مقاصد کا حصول۔

آج بلوچستان میں ریاستی جبر اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے بلوچ تشخص خطرے میں ہے سیاسی عمل کا حصول میدان میں ناپید ہوچکا ہے اس ناپیدگی کا سبب وہ غیر سیاسی عوامل ہیں جنہیں ہم نے اپنے ذاتی عمل کی تکمیل کے لیئے بند گلی کی جانب دھکیل دیا ہے اب ہم کس طرح یہ برداشت کرسکتے ہیں کہ قومی تحریک کو خواہشات کے بھینٹ چڑھا کر صرف مایوسی پھیلائیں؟ بلوچ نیشنل لیگ ان تمام مخلص سیاسی کارکنان کو یقین دلاتا ہے جن کی موجودہ غیر سیاسی عمل میں حق تلفی ہوئی ہے اور بلوچ نیشنل لیگ اس عمل کو فروغ دیگا جس سے سیاسی و جمہوری عمل پروان چڑھے نا کہ ذاتی مقاصد کی حصول تک لابیز بنا کر مخلص سیاسی کارکنان کو دیوار سے لگایا جائے۔

میں بذات خود  اس امر کے لئے تیار ہوں کہ ہمارا مقصد تقسیم در تقسیم نہیں بلکہ قومی تحریک کے اندر موجود باقی سیاسی پارٹیوں کے منفی اعمال کو سدھار کر انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ گذشتہ ستر سالہ تحریک کو منزل مقصود کی جانب رواں دواں کریں نا کہ خواہشات کو تکمیل دیکر سیاسی عمل کا جنازہ نکالا جائے۔ کچھ لوگ ہمیں یہ احساس دلا رہے ہیں کہ ہم تقسیم در تقسیم کا موجب بن رہے ہیں لیکن انہیں یہ احساس نہیں کہ اس تقسیم در تقسیم کا اصل سبب کون ہیں۔ ہم اب بھی سیاسی عمل پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر آج بلوچ قومی تحریک کے اندر موجود باقی پارٹیاں اپنا قبلہ درست کرکے سیاسی عمل کو فروغ دیں تو ہم اپنی حیثیت ان کے اندر تحلیل کرنے کو تیار ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔