سبی:اساتذہ کا مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ

148

صوبے کے ہزاروں اسکول عمارت اور چار دیواری سمیت پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں – بلوچستان ایجوکیشن الائنس ایکشن کمیٹی

سبی کے اساتذہ اپنے مطالبات کے حق میں سٹرکوں پر نکل آئے ہیں۔ بلوچستان ایجوکیشن الائنس ایکشن کمیٹی سبی کے پروفیسروں اور اساتذہ نے اپنے جائر مطالبات کے حق میں احتجاجی ریلی نکالی اور مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت اساتذہ کے جائز مطالبات کو تسلیم کریں تعلیمی ایکٹ 2018 کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے حکومت بلوچستان تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیت فراہم کریں۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے تعلیمی ایکٹ 2018 کے فیصلے کے خلاف بلوچستان ایجوکیشن الائنس ایکشن کمیٹی سبی کے پروفیسروں اور اساتذہ نے اپنے مطالبات کے حق میں ڈگری کالج سبی سے ایک احتجاجی ریلی نکالی جس کی قیادت پروفیسر ظفر اللہ گشکوری، محمد انور لاشاری کر رہے تھے۔

ریلی میں تمام اساتذہ تنظیموں نے شرکت کی، احتجاجی ریلی کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جبکہ ریلی شہر کے مختلف شاہراوں سے ہوتا ہوا سبی پریس کلب پہنچا جہاں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرے میں اساتذہ تنظیم کے رہنماوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اساتذہ کے خلاف ناروا سکوک بند کر کے تعلیمی اداروں کو بنیادی سہولیات فراہم کریں، صوبے کے ہزاروں اسکول بلڈنگ اور چار دیواری سمیت پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے اساتذہ تعلیمی ایکٹ 2018 کو کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے، صوبائی حکومت اساتذہ کے بنیادی مسائل کو حل کریں اور تعلیمی ایکٹ 2018 کے فیصلے کو واپس لیں بصورت دیگر صوبہ بھر میں تحریک کا آغاز کیاجائے گا۔

یاد رہے اس سے قبل بھی اساتذہ کے جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تنخواہوں کے 50 فیصد کٹوتی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جاچکے ہیں۔

بلوچستان وہ خطہ ہے جہاں صحت اور بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی تباہ حالی کا شکار رہا ہے جہاں 60 فیصد سے زائد بچے علاقوں میں اسکول نا ہونے کے باعث تعلیم سے محروم ہیں جبکہ جن علاقوں میں اسکول ہیں تو وہ بھی سہولیات سے محروم ہے۔