بلوچستان میں ریاستی مظالم پر اقوام متحدہ کی خاموشی افسوسناک ہے – الطاف حسین

213

بلوچ قوم کی آواز کو فوجی طاقت سے کچلا جارہا ہے، اقوام متحدہ بلوچوں اور مہاجروں پرڈھائے جانے والے ریاستی مظالم کوبند کرائے ۔ ایم کیو ایم رہنما الطاف حسین

دی بلوچستان پوسٹ ویب ڈیسک رپورٹ کے مطابق متحدہ قومی موؤمنٹ کے رہنماء الطاف حسین نے ’’مسئلہ بلوچستان اوراس کا تاریخی پس منظر‘‘ کے موضوع پر تیسرے لیکچر میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ عوام آزادی اور خودمختاری کے ساتھ جینے کاحق مانگ رہے ہیں لیکن ان کی آواز کوفوجی طاقت سے کچلا جارہا ہے، بلوچوں کی آواز کو دبانے کیلئے ڈیتھ اسکواڈ بنائے گئے ہیں اور کالعدم تنظیموں کو بھی ان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا بلوچ سیاسی کارکنوں، رہنماؤں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں، وکیلوں اورتاجرو ں کوبھی نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کوماورائے عدالت قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جارہی ہیں جبکہ بلوچوں کی اجتماعی قبریں مل رہی ہیں۔بلوچ نوجوانوں اوربزرگوں کے بعد اب بلوچ خواتین کوبھی لاپتہ کیاجا رہا ہے، خواتین اور بچوں تک کوشہید کیا جارہا ہے۔ لاپتہ بلوچوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی ہے جبکہ لاپتہ افراد کیلئے آوازاٹھانے والوں تک کوغائب کیا جارہا ہے۔ بلوچوں اور مہاجروں پر ڈھائے جانے والے ریاستی مظالم پر اقوام متحدہ کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے۔

الطاف حسین نے کہا کہ میڈیا بلیک آؤٹ کے سبب بلوچستان میں ہونے والے ریاستی مظالم کے واقعات سامنے نہیں آرہے، ٹاک شوز میں کوئی بات نہیں کی جاتی ہے۔ بلوچستان میں باربارعوامی مینڈیٹ کا قتل کیا گیا اور پانچ بارگورنر راج نافذ کیا گیا جبکہ بلوچستان کا کوئی وزیراعلیٰ اپنی مدت پوری نہیں کرسکا ہے۔

انہوں نے کہا بلوچستان پر فوج کے قبضے اورریاستی مظالم کی وجہ وہاں موجود معدنیات کی دولت ہے، اس دولت کو لوٹا جارہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے پالیسی ساز 1971ء کے سقوط ڈھاکہ سے سبق حاصل کریں۔ اگر پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں توبلوچستان پر فوج کشی بند کریں، بلوچوں اورمہاجروں کے ماورائے عدالت قتل اورجبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائیں۔