کورونا وائرس اور گھریلو تشدد میں اضافہ – تانیا سیلوارتنم

38

کورونا وائرس اور گھریلو تشدد میں اضافہ

تحریر: تانیا سیلوارتنم

دی بلوچستان پوسٹ

دنیا میں کسی عورت کے لیے سب سے خطرناک جگہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ National Coalition Against Domestic Violence کے مطابق قریبی ساتھی کا تشدد ہر سال لاکھوں عورتوں کو متاثر کرتا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ایک بدزبان پارٹنر کے گھر میں موجود ہونے سے اس کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ چین میں گھریلو تشدد میں اضافہ پہلے ہی ریکارڈ ہوچکا ہے۔ ایک تشدد مخالف غیر منافع بخش تنظیم کی بانی وین فی نے Sixth Tone نامی میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جب سے شہروں میں لاک ڈاﺅن شروع ہوا ہے، گھریلو تشدد کے واقعات دُو گنا ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں بھی ایک تشویش ناک صورت حال پیدا ہوچکی ہے، جہاں گذشتہ سال انگلینڈ اور ویلز میں سولہ لاکھ خواتین کو گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اب وہاں بھی لاک ڈاﺅن کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ متاثرہ خواتین بیرونی مدد لینے سے پہلے خود ہی معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ انتظار کرتی ہیں کہ ان کا پارٹنر اپنے کام پر چلا جائے۔ وہ چھپ کر اپنے کسی دوست کے پاس چلی جاتی ہیں۔ جب ان پر کسی بچے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نہیں ہوتی تو وہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتی ہیں۔ اب یہ تمام آپشن ختم ہورہے ہیں۔

کورونا وائرس نے متاثرہ خواتین کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھا دیئے ہیں، جنہیں اس وقت ہمارے شہر، ریاست، فیڈرل ایجنسیوں اور این جی اوز کی طرف سے شدید توجہ کی ضرورت ہے۔ جب آپ سب سے خوفناک جگہ یعنی اپنے گھر میں قید ہوں تو آپ کیا کرتی ہیں؟ اس وباء کے پھوٹنے کے بعد جب گھریلو تشدد کی شکار خواتین کی طرف سے 911 پر کال جاتی ہے، تو پولیس کا ردعمل کیسا ہوتا ہے؟ اس وقت جب ہسپتالوں کا سارا فوکس کورونا وائرس کے مریضوں پر ہے تو کیا گھریلو تشدد کی شکار عورت کو اپنی طبی امداد کے لیے کسی ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں جانے سے گریز کرنا چاہیے؟ کیا وہاں اسے کورونا وائرس کی انفیکشن کا خطرہ ہوگا؟ جینیفر فریڈمین نیویارک سٹی کے دو فیملی جسٹس سنٹرز کے لیفل پروجیکٹ کی ڈائریکٹر ہیں، جو متاثرہ خواتین اور ان کے بچوں کو قانونی امداد فراہم کرتی ہیں۔ جب میں نیویارک ریاست کے سابق اٹارنی جنرل ایرک شینائڈرمین کے ساتھ اپنے کشیدہ تعلقات ختم کرنے کی کوشش کررہی تھی تو اس وقت وہ میری گائیڈ تھیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس کورونا وائرس کے زمانے میں آپ کو کون کون سے چیلنجز درپیش ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ نیویارک سٹی میں واقع شیلٹرز کو ”لازمی سروسز“ میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ ابھی تک کام کررہی ہیں مگر کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے گھریلو تشدد کے خلاف خدمات فراہم کرنے والے متاثرہ خواتین کو نہیں مل رہے ہیں بلکہ وہ انہیں ہاٹ لائینز یا فون پر مشاورت فراہم کررہے ہیں یا پھر انہیں آن لائن سیشن کروارہے ہیں۔

نیویارک سٹیٹ کے چیف جج نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے، جس کے ذریعے اس نے پروٹیکشن کے عارضی حکم میں توسیع کردی ہے۔ جینیفر کا سٹاف اپنے تمام کلائنٹس کو مشورہ دے رہا ہے کہ وہ اپنے عارضی حکم نامے اپنے جج کے پاس لے جائیں اور ہر مرتبہ چیف جج کے اس حکم نامے کی ایک کاپی بھی ساتھ لے جائیں، چونکہ وکلاء اور عدالتی عملے کے زیادہ تر کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آرہے ہیں اس لیے اسی ہفتے نیویارک ریاست کی فیملی کورٹس بند ہو جائیں گی۔ اب  وہ ریمورٹ طریقے سے کام کریں گی یعنی جو نئی درخواستیں ای میلز کے ذریعے آئیں گی ان میں سے انتہائی ضروری درخواستوں کی ویڈیو یا فون پر سماعت ہوگی۔

الائنس فار ہوپ انٹرنیشنل کے صدر کیسی گوین کہتے ہیں کہ 42 ریاستوں کے فیملی جسٹس سنٹرز میں سے نصف آج بھی کھلے ہیں جبکہ باقی نصف الیکٹرانک کمیونکیشن پر چلے گئے ہیں، کیلی فورنیا میں مسٹر گوین کی تنظیم چوبیس سنٹرز سپورٹ کررہی ہے۔ انہیں توقع ہے کہ یہ سنٹرز بھی واک ان سروس دینے کی بجائے الیکٹرانک کمیونی کیشن پر جانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ان کا نیٹ ورک یہ درخواست کرنے والا ہے کہ مختلف ریاستوں کا عدالتی نظام پروٹیکشن آرڈرز میں توسیع کردے، جو بچے سکول یا ڈے کیئر سنٹر جانے کے قابل نہیں ہیں انہیں بھی سنگین رسک کا سامنا ہوگا، عام حالات میں نوے فیصد بچوں کو گھر پر متشدد پارٹنر کی طرف سے تشدد کا خطرہ ہوتا ہے۔

یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق اب بچوں پر جسمانی اور جنسی تشدد کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ مسٹر گوین کی تنظیم کیمپ ہوپ امریکا کے نام سے ملک بھر کی پچیس ریاستوں میں ٹراما سے گزرنے والے بچوں کے لیے مینٹورنگ کیمپ لگاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر اجتماع پر عائد پابندیاں جاری رہیں تو وہ اپنے ان کیمپوں کو جاری رکھنے کے لیے اور انہیں بچوں کی مقامی کمیونٹیز تک لے جانے سمیت دیگر آپشنز پر غور کریں گے، وہ اس میں فوج اور ڈیجیٹل کمیونکیشنز سروسز کو بھی استعمال کرنے کی پلاننگ کررہے ہیں، ہم اس وقت تو شاید اس کے اعداد و شمار میں اضافہ نہ دیکھیں۔

جب پچھلے ہفتے میں نے نیشنل ڈومیسٹک و ایلوینس ہاٹ لائن کی چیف ایگزیکٹو کیٹی رے جونز سے بات کی تو اس نے مجھے بتایا کہ مجھے روزانہ 1800 سے لے کر 2000 تک کالز موصول ہوتی تھیں، وہ اب کم ہوکر 1700 ہوگئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ تشدد میں کمی ہوگئی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ متاثرہ خواتین کے لیے رپورٹ کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ انہیں سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ ہم ان کی مدد کے لیے نہیں پہنچ سکتے، جب ان کے پارٹنر ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوں تو متاثرہ خواتین فون پر بات نہیں کرسکتیں، ان خواتین کی فون کالز کو مانیٹر بھی کیا جاتا ہے۔

رے جونز نے دیکھا کہ ایک متشدد پارٹنر کس طرح کورونا وائرس کو خوفزدہ کرنے آئسولیشن اور دھونس بازی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ایک کالر نے فون کال پر بتایا کہ اس کا پارٹنر اسے اتنی بار ہاتھ دھونے پر مجبور کرتا ہے کہ اس کے ہاتھوں سے خون بہنے لگتا ہے، ایک اور پارٹنر نے دھمکی دی کہ وہ اسے اپنے گھر سے باہر پھینک دے گا تاکہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہوجائے۔

اس وقت پوری دنیا کو کورونا وائرس جیسے ایک سنگین خطرے کا سامنا ہے، ہماری یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہم ان لوگوں تک پہنچیں جو آسانی سے بیماری سے متاثر ہوسکتے ہیں، جو ضعیف العمر ہیں یا وہ پہلے ہی نظام تنفس کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ ہمیں اپنے ان دوستوں اور عزیزوں کے معاملے میں زیادہ الرٹ ہونا پڑے گا جنہیں پرتشدد تعلقات کا سامنا ہو اور ان حالات میں ان کے متاثر ہونے کے زیادہ امکانات ہوں جب سماجی فاصلے رکھنے پر زور دیا جارہا ہو۔

رے جونز متاثرہ خواتین کو مشورہ دیتی ہیں کہ جب کبھی جھگڑا شروع ہوجائے تو گھر میں محفوظ ترین جگہ پر پناہ لی جائے اور کچن اور باتھ روم کی ان اشیاء سے حتیٰ المقدور دور رہنے کی کوشش کی جائے، جنہیں بطور ہتھیار استعمال کیا جاسکتا ہو۔ ایسی صورت حال کے لیے تیار رہیں، جب آپ کا پارٹنر صابن جیسی بنیادی ضروریات کی سپلائی کو بند کرسکتا ہو۔

اس وقت جب ہمیں ایک وباء کا سامنا ہے ہمارے پاس محدود وسائل ہیں۔ اس سلسلے میں میں نے ماہرین سے بات چیت کی تو انہوں نے متاثرین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ شیلٹرز، ہاٹھ لائینز، تھراپسٹس اور کونسلرز سے رابطہ کیا جائے۔ جہاں واک ان سروس اب دستیاب نہیں ہے وہاں فون اور ڈیجیٹل کمیونی کیشن ابھی تک کام کررہے ہیں۔ National Coalition Against Domestic Violence کی چیف ایگزیکٹو اور صدر روتھ گلین متاثرہ خواتین کو مشورہ دیتی ہیں کہ اگر ممکن ہو تو انہیں اپنے کسی بااعتماد دوست یا فیملی ممبر کی مدد لینی چاہیے، جو ان کی طرف سے فوری طور پر فون کال کرسکے۔ مس فریڈ مین کہتی ہیں کہ ایمرجنسی کی صورت میں 911 کی مدد بھی لی جاسکتی ہے۔ جب میں اپنے حالات سے نبردآزما ہونے میں مصروف تھی تو ایک متاثرہ خاتون نے مجھے کہا کہ ”آپ اس وقت تنہا نہیں ہیں۔“ اگر آپ کسی متشدد پارٹنر کے ساتھ ایک ہی گھر میں قرنظینہ پر مجبور ہیں تو اس طرح کے وسائل آپ کے لیے ایک لائف لائن ثابت ہوسکتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔