کرونا وائرس سے متعلق ایس ایس ایف کا آن لائن سیشن

69

عوام کی آگاہی اور عالمی وبا سے نمٹنے کے لئے ایس ایس ایف کی جانب سے آگاہی اور تربیتی آنلائن سیشن کا انعقاد کیا گیا۔

سیشن میں عالمی وبا کرونا وائرس اور حفاظتی تدابیر پر روشنی ڈالی گئی۔ سیشن کے ابتداء میں ماہرین نے عالمی وبا کرونا وائرس کی تاریخ پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس آج کی دریافت نہیں بلکہ ایک مہلک وائرس کی نئی شکل ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر غلام سرور پرکانی نے اس وبا کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہ یہ وائرس ۳۱ دسمبر ۲۰۱۹ کو متعارف کیا گیا جس کی وجہ سے اس کا نام CoVID’19 رکھا گیا۔

اس موقع پر ڈاکٹروں کے لئے حفاظتی تدابیر کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وبا سے لڑنے کے لئے تمام ڈاکٹروں کے پاس پی پی ای موجود ہونی چاہیے تاکہ وہ بھی اس مہلک وبا سے اپنی محفوظ ہوسکے۔ حفاظتی تدابیر پر روشنی ڈالتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ غیر ضروری میل ملاپ سے اجتناب کریں، گھر میں ہی خود کو علیحدہ رکھے۔

عالمی وبا کے متعلق ڈاکٹر عبداللہ کا کہنا تھا اس وباہ سے۸۰ فیصد مریض صحت یاب ہو جاتے ہے بشرطیکہ احتیاطی تدابیر کو بروئے کار لایا جائے۔

اس موقع پر ڈاکٹر عبداللہ نے احتیاطی تدابیر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خشک کھانسی، نزلہ اور بخار سے متاثرہ افراد خود کو علیحدہ رکھے، اپنے ہاتھ متواتر ۲۰ سیکنڈ تک دھوتے رہے، ہاتھ دھوتے وقت اپنے انگلیوں بشمول انگوٹھے کو اچھی طرح سے صاف کریں، گرم پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور باقیوں کو بھی یہی ہدایات دیں۔

ڈاکٹر عبدالوحید کا کہنا تھا اس مہلک مرض کے پھیلاؤ کی شرح بہت ہی زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہ کم وقت میں بہت ہی زیادہ تیزی سے پہل رہی ہے۔ عالمی وباہ کرونا وائرس کے متعلق احتیاطی تدابیر پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس مہلک مرض کا علاج خود کو علیحدہ رکھنا ہی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ عوام ان پھلوں کا زیادہ استعمال کریں جن میں وٹامن C وافرمقدار میں موجود ہو، جسم کے دفاعی نظام کو مزید مظبوط رکھنے اور اس وبا کے خلاف جسم کا دفاع کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ دن میں سویا کریں۔

سیشن کے آخر میں چیئرمین فضل یعقوب بلوچ نے ڈاکٹروں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور یقین دہانی کرائی کے ایس ایس ایف مزید ایسے سیشنز کے لئے ہر ممکن کوشش کریگا اور ایسے ہی ہفتہ وار سرکلز بھی منعقد کریگا۔

سیشن کے آخر میں سوالات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ایک سوال کے جواب میں ماہرین کا کہنا تھا کہ اس وبا کے پھیلاؤ میں کرنسی نوٹ بہت  زیادہ اس مرض کی پھیلاؤ کا ذریعہ بن چکے ہیں تو ان نوٹوں کو استعمال سے پہلے ضروری احتیاطی تدابیر اپنائیں۔