بلوچستان اور برطانوی مؤرخین | قسط 20 – برطانوی جاسوسوں کی آمد کے اثرات

66

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

بلوچستان اور برطانوی مؤرخین
مصنف: ڈاکٹر فاروق بلوچ

قسط 20 | برطانوی جاسوسوں کی آمد کے اثرات (تیسرا حصہ)

برطانیہ نے بلوچستان کے حصے بخرے کئے اور اس کے حقیقی جغرافیائی حدود کو شدید نقصان پہنچایا۔ وقتاً فوقتاً برطانوی سامراج نے ایران اور افغانستان میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر بلوچستان کے بعض حصے شامل کئے اور مشرق میں بعض بلوچ علاقوں کو پنجاب و سندھ میں شامل کرکے بلوچستان کے قدیم سیاسی جغرافیائی حدود کو پائمال کیا اور اندرونی طورپر بھی بلوچستان میں ریاستی نظام قائم کرکے خاران، بیلہ اور مکران کو قلات سے جدا گانہ حیثیت دینے کی جسارت کی اور کوئٹہ نوشکی، نصیر آباد، کوہ سلیمان اور کئی دیگر علاقوں کو اجارے اور معاہدات کے ذریعے حاصل کرکے ایک الگ نام یعنی برٹش بلوچستان کا صوبہ بنایا اور اس طرح بلوچستان کے جغرافیائی حدود کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ لہٰذا ایسی شاطر اور سامراجی قوتوں کے دانشوروں سے کیسے یہ امید کی جاتی کہ وہ بلوچستان کے جغرافیائی حدود کو حقیقی معنوں اور بلوچ مفادات کے مطابق بیان کریں گے برطانوی مورخ نما جاسوسوں کا وار یقیناً کاری تھا۔

برطانوی مصنفین نے بلوچ معاشرے کے خدوخال پر بھی طبع آزمائی کی اور اسے الفاظ میں بیان بھی کیا مگر یہ تمام کام سطحی تھا۔ انہوں نے بلوچ قبائلی معاشرتی نظام کے خدوخال کا ظاہری جائزہ لیکر اسے بس قبائلی نظام کا نام دیا۔ انہوں نے کبھی اس کے ارتقائی عمل کو کڑی درکڑی ملا کر اس کی اصل بنیاد کو واضح کرنے کی کوشش نہیں کی اور جس مصنف نے اس کی بنیادیں مختلف اقوام سے بھی ملائیں تو اس نظام قبائل کو اس بیان کردہ قدیم قوم کی بگڑی ہوئی شکل کہا حالانکہ درست حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچ قبائلی نظام کو خود انگریزوں نے ہی بگاڑا۔ جنہوں نے قبائلی سرداروں اور معتبرین کو اپنی دھن دولت کے بل بوتے پر خرید کر اپنی مرضی کے نظام کو بلوچ قبائلی نظام کا نام دیکر بلوچ قبائل پر مسلط کیا اور بلوچ قبائلی نظام کی اصل اور قدیم روح کو فنا کردیا۔ سرداروں کو موروثی بنایا گیا۔ قبائل کو غلاموں کی حیثیت دی گئی۔ مالیاتی اور ارضیاتی تقسیم کو سردار پر چھوڑا گیا۔ حتیٰ کہ ہر طرح سے قدیم بلوچ قبائلی نظام کی بیخ کنی کرنے کی کوشش کی گئی۔ رابرٹ سندیمن کی اصلاحات لیوی سسٹم، جرگہ سسٹم اور سنڈیمن سسٹم بلوچ قبائلی نظام کی تبدیلی کی بہترین مثالیں ہیں۔ (16) انگریزوں کی آمد سے قبل بلوچستان کا قبائلی نظام بالکل مختلف تھا۔ مستند بلوچ ذرائع اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ میر نصیر خان کے دور میں جب قبائلی اصلاحات کی گئیں تو سردار کے انتخاب کے لئے جمہوری اور خفیہ رائے دہی کا طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا یعنی خاندانی اور موروثی سرداریت اور حاکمیت ختم کردی گئی تھی جبکہ قبائل کو یہ اختیار حاصل تھا کہ نااہلیت کی بنا پر اکثریت کی رائے سے سردار کو اس کے عہدے سے ہٹایا جاسکتا تھا اور اس کی جگہ کوئی اہل شخص اس منصب پر فائز ہوتا (17) یعنی یہ کہ سردار اپنے قبیلے کا محافظ ہوا کرتا تھا اور اس کے مفادات کے لئے کام کرتا تھا نہ کہ سردار قوم کو لوٹنے والا ڈاکو۔ جیسا کہ برطانیہ نے بعد ازاں اس کے اختیارات بڑھا کر اور اس کی موروثیت قائم کرکے اسے قوم کو لوٹنے والا ڈاکو اور مارنے والا جلاد بنا دیا۔ ایک عام قبائلی فرد کو پس پشت ڈالا گیا۔ انگریزوں نے جو بھی اقدام کرنا ہوتا تو وہ صرف علاقائی اور قبائلی سرداروں کو اعتماد میں لیتا۔ استعمال سارا قبیلہ ہوتا مگر ان کی قیمت سردار وصول کرتا تھا اس طرح برطانوی ایجنٹوں نے بلوچستان کے ہزاروں سال سے قائم دائم قبائلی نظام کو تباہ و برباد کرکے اپنے پسند کے قبائلی نظام کو متعارف کروایا۔حالانکہ یہ بھی ایک درست اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بلوچوں میں سرداری کا کوئی رواج نہ تھا بلکہ وہ اپنے قبائلی میروں کے زیرسایہ پرسکون زندگی گذارتے تھے اورمیرِ قبیلہ کی حالت ان سے کبھی مختلف نہ ہوتی تھی البتہ وہ دانائی اور قوت فیصلہ میں ان میں سے سب سے بہتر اور زیرک شخص ہوتا تھا۔ خود رند و لاشاری ایک ہی مشترکہ میر کے زیرِ اثر رہتے تھے کہ جس کا انتخاب اس یونین میں شامل تمام قبائلی میر و معتبرین مل کرکرتے تھے۔ اور یہ ضروری نہیں تھا کہ وہ رند قبیلہ سے ہوتا بلکہ وہ کوئی بھی دانا شخص ہوتا کہ جو ان کے مال اسباب اور جان و آبرو کی حفاظت کرسکتا۔ اور جب اس طریقہ کی خلاف ورزی میرشہک سے ہوئی یعنی جب انہوں نے اپنے بیٹے میر چاکر کو اپنی طرف سے میر مقرر کیا تو اس کے بڑے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے اور لاشار قبائل اس یونین سے نکل گئے جس کی وجہ سے بلوچوں کی قوت دو حصوں میں بٹ گئی اور وہ آپس میں ہی برسرِپیکارہوگئے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ یہ بس صرف ایک قبائلی نظام تھا ہرگز درست نہیں ہے بلکہ یہ ایک قدیم اشتمالی طرز کا نظام حیات تھا کہ جسے انگریزوں نے بدترین طریقوں سے بگاڑ دیا۔ برطانوی قبائلی اقدامات کے اثرات آج بھی بلوچ قبائل میں موجود ہیں اور جنکی وجہ سے عام لوگ قبائلی نظام کی اصل خوبیوں سے آگاہ نہیں اور اسے صرف سرداروں کے مفادات کا ذریعہ اور سرداری نظام سمجھ کر ٹھکرایا جاتا ہے حالانکہ حقیقت حال اس کے بالکل برعکس ہے، اور سب سے پہلے اہم حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچوں میں سرداری کا تصور بالکل نہیں تھا بلکہ ان کا قبائلی سربراہ میر کہلاتا ہے سردار کا ٹائٹل تو دراصل انگریزی تحفہ تھا جسے میر بلوچ نے قبول کیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔