بلوچستان اور برطانوی مؤرخین | قسط 9 – برطانوی جاسوسوں کی آمد اور ان کے مقاصد

71

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

بلوچستان اور برطانوی مؤرخین
مصنف: ڈاکٹر فاروق بلوچ

قسط 9 | برطانوی جاسوسوں کی آمد اور ان کے مقاصد (حصہ سوئم)

پوٹینگراورکرسٹی بمبئی سے گجرات اور پھر 10 جنوری 1810ء کو بلوچستان کے حدود میں داخل ہوئے اپنی 10 جنوری کی روداد میں وہ لکھتا ہے کہ:

            ’’اسی دن شام کو 8 بجے ہم راس مواری (موتر) اور جزیرہ چرنا (چلنی) کے درمیان سے گزرے۔ ہمارا سفر وسطی رودبار پر تھا جو پون میل (ایک چوتھائی) سے زیادہ لمبی نہیں ہے۔ لیکن گہری اور خطرے سے محفوظ ہے چاندنی میں جزیرہ اور مقابل کنارہ ویران معلوم ہوتا تھا اور اول الذکر میں نہ تازہ پانی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی روئیدگی۔ اب ہم خلیج سونمیانی (بلوچستان) میں داخل ہوئے اور جو ایک طرف راس مواری اور جزیرہ چرنا اور دوسری طرف راس عربو (عربہ) سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ ایک نفیس چادر آب ہے جس میں چٹانیں اور خفیہ رکاوٹیں نہیں ہیں اور بڑے سے بڑا بیڑہ بھی یہاں لنگر انداز ہو سکتا ہے۔ مشہور ہے کہ یہ نیارکس (نیروخس) کا مستقر رہا اور وہ یہاں کچھ عرصہ قیام پذیر رہا۔ ڈاکٹر ونسنٹ نے ایرئین کی سند پر بندر اسکندر کی جو تصویر کھینچی ہے وہ اصل سے اتنی مشابہ ہے کہ یونانی مورخ کی ثقاہت و صداقت کا واضح ثبوت ہے۔‘‘(15)

            16جنوری کو پوٹینگر اور کرسٹی سونمیانی میں ایک گائوں میں ٹھہرے اور یہیں سے انہوں نے اندرون ملک داخل ہونے کی حکمت عملی کو آخری شکل دی اور براستہ لسبیلہ جانب قلات عزم سفر کرلیا حالانکہ ان کے ایک قندھاری سوداگر رفیق سفر نے اس راستے پر ممکنہ طور پر خطرات کے پیش آنے سے انہیں متنبہ کیا اور خود ان کا ساتھ چھوڑ دیا مگر یہ دونوں مہم جو فوجی اپنے مقصد کے حصول کی خاطر کسی بھی قسم کے خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے راستے پر گامزن رہے اور 21 جنوری کو اوتھل اور 22 جنوری کو بیلہ میں داخل ہوئے(16) ہر مقام پر ان کا استقبال ہندوستان کے ایک بنیئے سندر جی کے ہندو گماشتے کررہے تھے کہ جو اٹھارہویں صدی میں بلوچستان میں تجارت کے تمام ذرائع پر قابض تھے۔ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر پوٹینگر اور اس کے ساتھی کرسٹی نے بھی روپ بدلا تھا اور وہ ایک گھوڑے کے تاجر کے بھیس میں سفر کررہے تھے۔ جب وہ لسبیلہ میں جام آف لسبیلہ سے ملے تو جام نے ان سے کئی سوالات کئے۔ پوٹینگر لکھتا ہے کہ :

            ’’اس نے ہمارے نظریات و عزائم پر استفسار کیا اور ہم نے اسے ذرا تفصیل سے بتایا کہ ہم بمبئی کے ایک ہندو سوداگر سندرجی کے ملازم تھے جس نے ہمیں ہندوستانی منڈی کے لئے گھوڑے خریدنے کے لئے بھیجا تھا۔ آخر میں ہم نے استدعا کی کہ وہ ہمیں قلات بھیجنے کے لئے انتظامات فرمادے۔‘‘(17)

            پوٹینگر اور دیگر برطانوی مصنفین کی غلط بیانیوں کا اندازہ درج ذیل تحریر سے بخوبی ہوتا ہے کہ جس میں وہ براہوئی قبائل کو ایک طرف تو وحشی اور غیر مہذب خانہ بدوش تحریر کرتا ہے تو دوسری طرف ان کی نفاست، مہمان نوازی، خلوص، حرص و ہوس اور لالچ سے مبرا مخلصانہ محبت، ان کی صفائی ستھرائی اور امن و سکون کی بات کرتا ہے۔ جس سے اس کے خیالات میں موجود تضاد آشکارا ہوتا ہے۔ لکھتا ہے کہ :

            ’’ (3فروری) غروب آفتاب سے کچھ قبل ہم نے شب بسری کے لئے تین چار براہوئی چرواہوں کے گدانوں کے پاس ڈیرہ ڈالا۔ ان میں سے ایک نے ہمیں با افراط دودھ، ایندھن اور پانی مہیا کیا۔ اس گروہ نے ایک بڑے سلسلہ کوہ کے سائے میں ایک نہایت رومانوی اور پر سکون مقام کو اپنے ڈیرے کے لئے چنا تھا۔ ان کے طور طریقے معتدل، سادہ اور دل کو موہ لینے والی تھیں اور اس پناہ گاہ میں ان کی واحد کوشش اپنے ریوڑوں کو بھیڑیوں اور لگڑ بگڑوں کے راتوں کو ہونے والے حملوں سے بچانا تھا۔ دن کے وقت بحفاظت چرانا اور صبح و شام ان کا دودھ دوہنا تھا اور ان تمام مواقع پر مرد و عورت یکساں طور پر چست اور ماہر تھے۔ ہمارے اترنے سے ذراہی قبل ریوڑ گھر لائے گئے تھے اور حیران کن طور پران سب کو نہایت عجلت اور باقاعدگی سے دوہا گیا اور باڑوں میں بند کردیا گیا۔ اس وقت ہر شخص سربراہ سے لیکر چھوٹے بچے تک نے کام میں ہاتھ بٹایا بھیڑوں کو بکریوں سے علیحدہ برتنوں میں دوہا گیا کیونکہ ان کے مکھن سے بننے والا گھی دیرپا نہیں سمجھا جاتا جبکہ ان قبائل کے نزدیک یہ تازہ زیادہ تقویت بخش ہوتا ہے جب گھریلو کام پورے ہوگئے تو مستورات اور بچے ہمارے الائو کے گرد آگئے اور نہایت بے تکلف گپ شپ کرتے رہے۔ ان خواتین بچوں اور مردوں کے طور طریقوں اور گفتگو سے دوسروں کے کام آنے کی مخلصانہ کوشش و خواہش کا اظہار ہوتا تھا۔ جس میں انعام و اکرام کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ ہمیں ان وحشی اور غیرمہذب چرواہوں سے جو حسن و سلوک نصیب ہوا اس کی مسرت صرف وہی محدود چند لوگ محسوس کرسکتے ہیں جو ہماری جیسی صورتحال سے گزرے ہوں۔ اپنے میزبان کی بیٹی کو روٹی پکانے کے لئے کچھ آٹا دینے کے بعد مجھے روٹی کی تیاری یا عدم تیاری کے بہانے گدان کو اندر سے دیکھنے کا موقع مل گیا۔ میں اس غیر معمولی رہائش گاہ کی صفائی اور سکون سے بہت متاثر ہوا۔ یہ چند پتلی خمیدہ چھڑیوں کی ایک محرابی چھت تھی جسے کھردرے اور کالے کمبلوں سے ڈھانپ دیا گیا تھا جس گدان میں داخل ہوا اس میں بمشکل کھڑا ہوسکتا تھا۔ مجھے اس کی لمبائی اور چوڑائی یکساں طور پر دس یا بارہ گز معلوم ہوئی۔ اس کے فرش پر کھردری دریاں بچھائی ہوئی تھیں، جو خود براہوئی خواتین کی بافتہ ساختہ تھیں۔ آگ ایک کونے میں تھی اور صرف یہی باعث تکلیف تھی کیونکہ دھواں چمنی نہ ہونے کی وجہ سے دروازے سے نکلتا تھا البتہ اس کا فائدہ یہ تھا کہ اس سے گدان خوب گرم رہتا تھا جو ان غریب، معمولی کپڑے پہنے ہوئے لوگوں کے لئے واقعی ایک بہت بڑا مصرف ہے۔‘‘(18)

            درج بالا بیان سے ہنری پوٹینگر کے خیالات و افکار میں موجود تضادات کی واضح نشاندہی ہوتی ہے کہ جہاں ایک طرف وہ براہوئی قبائل کی معاشرتی و تہذیبی خوبیوں کے گن گاتا ہے تو دوسری طرف انہیں وحشی اور غیر مہذب لکھتا ہے۔

دراصل یہ ایک تاریخی ستم ہے کہ طاقتور اور فاتح اقوام جب کسی مفتوح قوم کی تاریخ لکھتے ہیں تو اس میں مفتوح اور مغلوب کی رائے کو مقدم نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی ان کی رائے کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے بلکہ فاتح ہمیشہ اپنی تلوار کی نوک مفتوح کے خون میں ڈبو کر اپنی مرضی کی تاریخ رقم کرتا ہے۔ اگر انسانی جذبات و احساسات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اصل وحشی تو خود یہی یورپی اقوام تھیں اور ہیں کہ جنہوں نے طاقت پکڑتے ہی پوری دنیا میں ایسے اقدامات کئے کہ جن سے انسانیت کی روح تک کانپ اٹھتی ہے۔ برطانیہ نے ہندوستان اور دیگر ایشیائی ممالک بشمول افغانستان و بلوچستان پر کیوں بلاوجہ حملے کئے اور اپنے سو سالہ دور میں لاکھوں انسانوں کو کس جرم کے تحت موت کے گھاٹ اتارا۔ اپنے خوفناک اور جدید ہتھیار وں سے آگ برسا کر ہندوستان، سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان، افغانستان اور کئی دیگر آزاد اور خود مختار پرامن ممالک کے گلی کوچوں میں انسانوں کا تن من اور دھن سب کچھ جلا کر خاکستر کردیا مگر اس سارے عمل کے باوجود وہ دنیا کے مہذب ترین لوگ کہلائے۔ پچھلی صدی میں روس نے افغانستان میں انقلاب کے دفاع کے بہانے مداخلت کرکے دس سالوں میں 30 لاکھ سے زائد افغانوں کا قتل عام کیا اور اتنی ہی تعداد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرکے دیگر ممالک کی جانب دھکیل دیا جس سے دنیا بھر میں بے چینی اور کھلبلی مچی مگر روس مہذب ترین تھا، زیادہ دور نہیں جاتے کیا آج دنیا کا سب سے مہذب ترین اور ترقی یافتہ ملک یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کے ہاتھ اور سارا جسم ویتنام، انگولا، السلواڈور، لاطینی امریکی ممالک، لیبیا، مصر، فلسطین، عراق اور افغانستان کے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے خون میں رنگا ہوا نہیں ہے اور پورے امریکہ سے انسانوں کے خون کی بو نہیں آتی؟ مگر اس آلودہ چہرے کے باوجود آج امریکہ دنیا کا مہذب ترین معاشرہ کہلاتا ہے اور درج بالا مظلوم ممالک کی اقوام کو وحشی اور جنگجو قرار دیکر انہیں اپنے تباہ کن آتشیں ہتھیاروں سے بھوننا دنیاوی امن کے لئے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ یقیناً وہ پہاڑی دامنوں میں اپنے اور دوسروں کے لئے امن کا باعث بننے والا چرواہا زیادہ مہذب ہے بہ نسبت اس وحشی اور درندے کے کہ جو اپنے خوفناک اور تباہ کن ہتھیار و عزائم کے ساتھ اپنے خوبصورت محلات کو چھوڑ کر ان معصوم اور پر امن لوگوں کے گدانوں پر حملہ آور ہوا۔ پوٹینگر 9 فروری کو قلات پہنچا بلاشبہ لسبیلہ سے خضدار و سوراب اور وہاں سے قلات تک کا سفر انتہائی تکلیف دہ تھا مگر ان مہم جوئوں نے ان تکالیف اور پریشانیوں کو اپنی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔