بلوچستان اور برطانوی مؤرخین | قسط 17 – برطانوی جاسوسوں کی آمد اور ان کے مقاصد

65

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

بلوچستان اور برطانوی مؤرخین
مصنف: ڈاکٹر فاروق بلوچ

قسط 17 | برطانوی جاسوسوں کی آمد اور ان کے مقاصد (آخری حصہ)

سر رابرٹ گروز سنڈیمن کے نام سے علم تاریخ خصوصاً بلوچستان کی تاریخ سے شغف رکھنے والا ہر شخص واقف ہے۔ یہی وہ شخص تھا کہ جو معاہدہ مستونگ 1876ء میں ثالث بن کر آیا اور بلوچستان کو بغیر کوئی گولی چلائے فتح کرلیا۔ رابرٹ سنڈیمن کی سوانح حیات تھامس ہنری تھارنٹن نے لکھی ہے۔ علاوہ ازیں بھی اس کے بارے میں کئی دیگر اہل دانش نے قلم آزمائی کی ہے۔ اس برطانوی نمائندہ کی جائے پیدائش سکاٹ لینڈ تھی جہاں وہ 1835ء میں پیدا ہوا(55) پہلے برطانوی فوج میں خدمات سرانجام دیں اور پہلی جنگ عظیم کے دوران دوبار محاذ پر شدید زخمی ہوا لہٰذا فوج چھوڑ کر سویلین انتظامی عہدوں پر کام کرنے لگا(56) ڈیرہ غازی خان میں بحیثیت اسسٹنٹ کمشنر گرانقدر خدمات انجام دیں اور کوہ سلیمان کے سرکش بلوچ قبائل کو انتہائی چالاکی، عیاری اور لالچ کے ذریعے رام کرلیا اور اس پورے علاقے میں مثالی امن قائم کرلیا۔ اس کے رفاہی اور فلاحی کاموں کی وجہ سے کوہ سلیمان کے بلوچ سردار اور قبائل اس کے دلدادہ ہوگئے لہٰذا 1875ء میں وہ قلات چلا آیا اور خان میر خدائیداد خان سے ملاقات کی(57) مگر خان نے اس کے ساتھ سوائے رسمی بات چیت کے کوئی سرکاری بات نہ کی کیونکہ وہ باقاعدہ برطانوی نمائند ہ بن کر نہیں آیا تھا بلکہ اپنی مرضی سے آیا تھا مگر اگلے سال یعنی 1876ء میں وہ بلوچ سرداروں کی معیت میں برطانوی ثالث کی حیثیت سے مستونگ آیا اور ایک دربار منعقد کرکے سرداروں اور خان قلات کے مابین ثالث بن کر تصفیہ کروایا اور 21 سالہ خانہ جنگی کہ جو بذات خود برطانوی ایجنٹوں کی لگائی ہوئی آگ تھی کو بجھانے میں کامیاب ہوا۔

سنڈیمن کی ساری زندگی برطانیہ کی خدمت کرنے میں گزری اور اس شخص نے مختلف معاہدات، معاہدہ مستونگ 1876ء معاہدہ بولان 1876ء معاہدہ کوئٹہ 1883ء(58) وغیر ہ کے ذریعے بلوچستان کے اکثر علاقے خان قلات سے ہتھیالیے اور انہیں برطانوی تحویل میں دے دیا۔ 1885ء میں کوئٹہ کو معاہدہ گنڈامک 1879ء کے ذریعے زیر قبضہ آنے والے علاقوں میں رکھا اور ڈیورنڈ لائن معاہدہ 1893ء کے بعد کوئٹہ کو برٹش بلوچستان میں شامل کرکے اس کا دارالخلافہ بنا دیا، علاوہ ازیں نوشکی، نصیر آباد اور کئی دیگر علاقوں کو خان قلات سے معاہدات کے ذریعے 99 سالہ لیز پر حاصل کر لیا۔ اس طرح سنڈیمن اپنی چالاکی اور عیاری کے ذریعے بلوچستان کے حصے بخرے کرنے میں کامیاب ہوا۔

برٹش بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ میں سنڈیمن ہائی سکول، سنڈیمن پراونشل ہسپتال، سنڈیمن میوزیم، سنڈیمن لائبریری، سنڈیمن ہال اور لیڈی سنڈیمن گرلز ہائی سکول وغیرہ اسی برطانوی نمائندے کی نشانیاں ہیں۔ اسی شخص کے بلوچستان میں سروس کے دوران دوسری اینگلو افغان جنگ 1878ء لڑی گئی۔ کوئٹہ اور بولان نے اس جنگ میں مرکزی علاقائی کردار ادا کیا اور یہ سب کچھ رابرٹ سنڈیمن کے اقدامات کی وجہ سے ممکن ہوسکا۔ معاہدہ گنڈامک 1879ء بھی سنڈیمن کی کوئٹہ میں تعیناتی کے دوران طے پایا تھا۔ مختصر یہ کہ ہنری پوٹینگر اور اس کے ساتھی کیپٹن کرسٹی نے جس ملک کی سیاحت کی تھی اور جس خطے کا دروازہ برطانیہ کے لئے کھولا تھا آخر کار اس دروازے کی چابیاں پوٹینگر کی آمد کے 66 سال بعد سنڈیمن کے قبضے میں آگئیں۔ سنڈیمن نے اپنی باقی ماندہ زندگی بلوچستان میں گزاری اور لسبیلہ کے دورے کے دوران وہیں پر بیمار ہوکر 1892ء میں فوت ہوا(59) اور وصیت کے مطابق انہیں وہیں پر دفنا دیا گیا۔

ایسے ہی برطانوی جاسوسوں میں رچرڈ آئزک بروس بھی شامل ہیں کہ جنہوں نے ایک جاسوس ہی کی حیثیت سے ان خطوں یعنی بلوچستان اور افغانستان کی سیاحت کی تھی۔ ان کے سفر کی پوری روداد اور برطانوی پالیسی ان کی تحریر کردہ کتاب (سفرنامے ) سے ہی واضح ہوتی ہے کہ جس کا عنوان ہی اس وضاحت کے لئے کافی ہے۔ عنوان ہے Forword Policy and its Resultsہے اور بک ورلڈ نے اسے شائع کیا ہے۔(60) اس کتاب کا ہر صفحہ برطانوی سامراجی عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ کمانڈر ٹی۔ جی، چارلس ایک برطانوی میرین تھا جس نے لسبیلہ کے ساحلوں پر اتر کر اندرون ملک کی سیاحت کی تھی ۔ یہی وہ شخص تھا کہ جس نے لسبیلہ میں ماہی پیر کے مقام پر واقع شہر روغان کے قدیم غاروں کی نشاندہی کی تھی(61) اسی طرح کچھ برطانوی افسروں کو بلوچستان کا ضلعی گزیٹیئر مرتب کرنے کی ذمہ داری دی گئی جن میں میگانگی McCongey کا نام قابل ذکر ہے کہ جس نے نہ صرف بلوچستان میں خدمات انجام دیں بلکہ ضلعی گزیٹئیر کا زیادہ تر حصہ مرتب کیا۔ بلوچستان کے ضلعی گزیٹیئر میں بلوچستان کے تمام علاقوں، اقوام اور تہذیب وثقافت کے بارے میں اہم اور بنیادی معلومات ملتی ہیں۔(62) تاریخ بلوچستان سمجھنے کے لئے ان کا مطالعہ نہایت ضروری ہے مسٹر ایم ۔سی میک گریگر بھی صحرا نوردی کرنے والے برطانوی فوجیوں میں سے تھا کہ جو اندرون بلوچستان گھومتا پھرتا رہا ان کی کتاب Wonderings in Balochistan جسے انڈس پبلیکشنز کراچی نے چھاپا ہے(63) بلوچستان کے اکثر خفیہ گوشوں کے بارے میں دلچسپ معلومات فراہم کرتا ہے۔

اس لائن میں بے شمار دیگر نام شامل ہیں کہ جن میں سے ہر ایک نے اپنی بساط سے بڑھ کر اپنے ملک کی سامراجی عزائم کی تکمیل کی خاطر جدوجہد کی اور اپنے حکامِ اعلیٰ کو معلومات فراہم کرتا رہا اور ساتھ ساتھ یہ افسران بلوچ قوم کی تاریخ پر بھی طبع آزمائیاں کرکے اس کی الجھنوں میں مزید اضافہ کرتے رہے۔ اس ضمن میں برٹن، کرنل موکلر، پرسی مونسورتھ سائیکس، ایڈورڈویکنیلیڈ، سرٹی ہولڈچ اور کئی دیگر معروف نام آتے ہیں۔

المختصر یہ کہ برطانوی جاسوسوں اور ایجنٹوں کی ایک لمبی قطار ہے کہ جو بلوچستان کے اٹھاروہویں اور انیسویں صدی کی تاریخ میں نظر آتی ہے۔ اس قطار میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے بلوچستان کے حوالے سے کوئی تحریری مواد نہیں چھوڑا مگر ان کے تذکرے دیگر کتب میں ملتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ جن کے بارے میں دوسرے لوگوں نے تحریر کیا۔ مگر سب سے زیادہ اہمیت کے حامل وہ لوگ سمجھے جاتے ہیں کہ جنہوں نے بلوچستان کے بارے میں ذاتی طور پر رقم کیا اور اپنے چشم دید حالات رقم کئے جن کی تاریخ نویسی میں سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ بلاشبہ ان جاسوسوں اور توسیع پسندانہ عزائم سے مسلح افراد کی بلوچستان کے بارے میں لکھی جانے والی کتابیں اہمیت کی حامل ہیں اور غور و فکر کے کئی دروازے ان کے مطالعے سے کھل جاتی ہیں۔ بیشمار اغلاط کے باوجود ان کتابوں کی بلوچستان کی تاریخ و تہذیب اور جغرافیہ و سیاست کے حوالے سے اہمیت کو کم نہیں کیا جاسکتا۔ مگر ایک بات یہ بھی واضح ہو کہ بسا اوقات ان لوگوں نے تفویض کردہ اختیارات سے تجاوز کیا اور بعض ایسے بے بنیاد شوشے چھوڑے کہ جن کی وجہ سے آنے والے وقتوں میں بلوچستان اور بلوچ قوم شدید متاثر ہوئی اور ان کی قومی تاریخ تاریکی کے دبیز پردوں میں جا کر چُھپ گئی اور اسے کاری ضرب لگی۔ یہ جاسوس جتنا چاہتے بلوچستان کے بارے میں معلومات اکٹھا کرتے اور جس طرح چاہتے یہاں اپنی جاسوسی مہم کو جاری رکھتے گوکہ یہ سب کچھ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھی مگرانہیں یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ بلوچ قوم کی قومی یا نسلی تاریخ پر رائے زنی کرتے اور اسے غلط انداز میں بیان کرتے۔ انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے تھا کہ جب آنے والے وقتوں میں ان کی جانبداری، توسیع پسندی، منافقت، مکاری، عیاری اور تاریخ کے علم سے نابلد ہونے کا راز کھل جائے گا تب اس وقت ان کی کیا حیثیت باقی رہ جائیگی اورعلمی و تحقیقی حلقوں میں انھیں کن الفاظ میں یاد کیا جائے گا۔ البتہ یہ انہی جاسوسوں کی کاوشیں تھیں کہ ان کی فوجیں اور سیاست دان بہت جلد بلوچستان پر قابض ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔


حوالہ جات:

.1        عنایت اللہ بلوچ، دی پرابلم آف گریٹر بلوچستان، جی ایم بی ایچ، سٹٹ گرٹ، جرمنی، 1987،19
.2        کارل مارکس، ہندوستان کا تاریخی خاکہ، تخلیقات، لاہور، 2002، 73
.3        شاہ محمد مری، بلوچ قوم قدیم عہد سے عصر حاضر تک، تخلیقات، لاہور، 2000،167
.4        عنایت اللہ بلوچ،119
.5        ایضاً،119-20
.6        ہیرلڈ لیم،سکندر اعظم، مترجم، غلام رسول مہر، فکشن ہاؤس، لاہور، 2006، سیکنڈ ایڈیشن، 297-306
.7        عزیز اللہ عزیز براوی، ماہنامہ اولس، اسلام آباد، مارچ اپریل، 1986،25
.8        حمید بلوچ، مکران، سید ہاشمی اکیڈیمی، کراچی،2008،237
.9        لینن، اقوام مشرق کی تحریک آزادی، فکشن ہاؤس، لاہور، 2007،193
.10     ہنری پوٹینگر، ٹریول ان سندھ اینڈ بلوچستان، مترجم: پروفیسر ایم انور رومان، نساء ٹریڈرز، کوئٹہ، 1983، سیکنڈایڈیشن،20-21
.11     ایضاً،21
.12     ایضاً،140
.13     ایضاً،12
.14     ایضاً،12
.15     ایضاً،22-23
.16     ایضاً،28
.17     ایضاً،31
.18     ایضاً،48,49
.19     ایضاً،61,62
.20     ایضاً،62,63
.21     ایضاً،64
.22     ایضاً،100
.23     ایضاً،266
.24     ایضاً،17
.25     بلوچ، فاروق، خان اعظم میر نصیر خان نوری، حکومت، سیاست، کردار اور شخصیت، فکشن ہاؤس، لاہور،2012،219
.26     ونسنٹ اے سمتھ ، قدیم تاریخ ہند، ترجمہ : مولانا محمد جمیل الرحمان، تخلیقات، لاہور، 122-26, 2001
.27     ایضاً،122-26
.28     میر گل خان نصیر، تاریخ بلوچستان، قلات پبلشرز، کوئٹہ،2000،2
.29     ہنری پوٹینگر،69
.30     ایضاً،268
.31     بلوچ، فاروق ،بلوچ اور ان کا وطن، فکشن ہاؤس، لاہور، 2012،13-14
.32     جی۔لی، سٹرینج، جغرافیہ خلافت مشرقی، مترجم:محمد جمیل الرحمان، مقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد،1986،501
.33     ایچ۔جی۔ریورٹی، سرزمین افغان و بلوچ، مترجم: پروفیسرسعید احمد خالد، نساء ٹریڈرز، کوئٹہ،1999،801-2
.34     ہنری پوٹینگر،382
.35     ونسنٹ اے سمتھ،122-26
.36     ایضاً،122-26
.37     عنایت اللہ بلوچ،105
.38     ایضاً،112
.39     ایضاً،39
.40     محمد سردار خان بلوچ، ہسٹری آف بلوچ ریس، گوشہ ادب، کوئٹہ، 1958،9
.41     ایضاً،9
.42     محمد ابن سعد، طبقات ابن سعد، مترجم: علامہ عبداللہ العماری، نفیس اکیڈمی، کراچی،61
.43     بلوچ تاریخ نویسی میں کئی ایسے نامور شخصیات شامل ہیں کہ جنہوں نے من و عن یا تشبیہاتی حد تک پروفیسرراؤلنسن سے اتفاق کیا ہے ۔ مثلاً محمد سردارخان، میر گل خان نصیر، میر احمد یار خان، مولانا نور احمد فریدی، پروفیسرعزیز محمد بگٹی وغیرہ۔
.44     ایڈ ورڈای۔آلیور، اے کراس دی بارڈر، یا پٹھان اور بلوچ، سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور، 2000،18-26
.45     اے ڈبلیو ہیوز، دی کنٹری آف بلوچستان، سیلز اینڈ سروسز، کوئٹہ، 2002،151-71
.46     ایضاً،96-99
.47     اے ڈبلیو ہیوز، سرزمین بلوچستان، مترجم، ایم انور رومان، نساء ٹریڈرز، کوئٹہ، 2011، سیکنڈایڈیشن،134-38 , 202-36
.48     لانگ ورتھ ڈیمز، پاپولر پوئیٹری آف بلوچیز، بلوچی اکیڈیمی، کوئٹہ، 1988، سیکنڈ ایڈیشن
.49     شیر محمد مری، بلوچی کہنیں شاعری، بلوچ اکیڈیمی، کوئٹہ،1970
.50     جسٹس میر خدا بخش بجارانی مری، بلوچی کہنیں شاعری، بلوچی اکیڈیمی، کوئٹہ،1974
.51     میر گل خان نصیر، کوچ و بلوچ، سیلز اینڈ سروسز، کوئٹہ،1999،31
.52     ایضاً،24
.53     محمد سعید دہوار، تاریخ بلوچستان، نساء ٹریڈرز، کوئٹہ،1990،690
.54     میر گل خان نصیر،2000،282
.55     ہنری تھارنٹن، کرنل سر رابرٹ سنڈیمن، نساء ٹریڈرز،کوئٹہ، 1977، 16
.56     ایضاً،5-11
.57     میر گل خان نصیر،2000،269
.58     میر احمد یار خان، تاریخ قوم بلوچ و خوانین بلوچ، العصرپبلی کیشنز، لاہور، 2007،127
.59     ہنری تھارنٹن،266-67
.60     رچرڈ آئزک بروس، فارورڈ پالیسی اینڈ اٹس رزلٹس، بک ورلڈ، کوئٹہ، 2002۔
.61     گورنمنٹ ریکارڈ، بلوچستان ڈسٹرکٹ گزیٹئیر (لسبیلہ)، گوشہ ادب، کوئٹہ، 1997
.62     گورنمنٹ ریکارڈ، بلوچستان تھرو دی ایجیز، نساء ٹریڈرز، کوئٹہ
.63     میگ گریگر، ونڈر نگز ان بلوچستان، انڈس پبلیکیشنز، کراچی، 2003، سیکنڈایڈیشن


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔