بلوچستان اور برطانوی مؤرخین | قسط 16 – برطانوی جاسوسوں کی آمد اور ان کے مقاصد

72

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

بلوچستان اور برطانوی مؤرخین
مصنف: ڈاکٹر فاروق بلوچ

قسط 16 | برطانوی جاسوسوں کی آمد اور ان کے مقاصد (دسواں حصہ)

ڈیمز بھی برطانوی پالیسی سازوں سے نہ بچ سکا اور انہوں نے بھی نسلی اور قومی تاریخ کو اور زیادہ گنجلک اورپیچیدہ بنا دیا ۔ انہوں نے فردوسی کے شاعری کے ردیف کو زیر بحث لا کر بلوچ قبائل کو کوچ و بلوچ میں تقسیم کردیا۔ حالانکہ اولاً تو فردوسی نے شاعری کے اوزان کو برابر کرنے اور کچھ تشبیہات کی خاطر لفظ کوچ کو بلوچ کے ہم وزن اور ہم پلہ بیان کیا ہے اور دوئم یہ کہ کوچ و بلوچ کے الفاظ ایک ہی نسلی گروہ کے لیے استعمال کیا ہے کیونکہ بقول شاہنامہ وہ ایک ہی امیر کے تحت جنگوں میں حصہ لیتے تھے، جسے ڈیمز نے ایک الگ قوم یا قبیلہ بیان کیا مگر وہ یہ بھول گیا کہ چند صدیوں میں یہ عظیم قبیلہ کوچ یک دم و یکسر تاریخ کے صفحات اور اپنے مسکن سے کہاں غائب ہوا جبکہ اس کی ہم پلہ و ہم وزن قوم بلوچ زیادہ بڑے کردار کے ساتھ آج بھی تاریخ کے صفحات پر موجود ہے۔ فردوسی کے ان اشعار میں سے چند ایک درج ذیل ہیں کہ جنکو بنیاد بنا کر ڈیمز نے بلوچ قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی :

سپاہی زگردان کوچ و بلوچ
سگالیدہ جنگند مانند قوچ (51)

            علاوہ ازیں فردوسی اپنے مصرعوں کا وزن برابر کرنے کی خاطر ردیف کے طور پر کوچ و بلوچ کو یکساں تحریر کرتا ہے اور پھر ان کا کوئی ہموزن لفظ دوسرے مصرعے میں استعمال کرتا ہے اور کوچ سے مراد کوئی مخصوص گروہ نہیں لیتا بلکہ ایک تو مصرعے کا وزن یکساں رکھنے کی خاطر اس لفظ کو استعمال کرتا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ یہ لفظ بلا تفریق ان تمام قبائل کے لئے استعمال کرتا ہے کہ جنھیں وہ وحشی، صحرانورد، پہاڑی وغیرہ سمجھتا ہے اور انہیں ایرانی تہذیب کے مقابلے میں غیر مہذب اور بادیہ نشین تحریر کرتا ہے ایک جگہ وہ لکھتا ہے کہ

نشتند درآں دشت بسیار کوچ
زاوغان ولا چین وکرد وبلوچ (52)

            اس شعر میں یہ صاف عیاں ہے کہ وہ ایرانی ہمسایوں یا ایرانی مقبوضات میں رہنے والے تمام قبائل بشمول افغان ، تورانی لاچین (دہوار) کرد اور بلوچ وغیرہ کو بلا تفریق اور بلا امتیاز کوچ یعنی وحشی اور غیر مہذب قرار دیتا ہے ۔

            پوٹینگر اور ڈیمز اور اس طبقہ فکر کے دوسرے دانش ور بعینہ ایرانیوں کے اس قدیم نظریے کے پیروکار نظر آتے ہیں جس طرح ایرانی ان قبائل کو تقسیم کرتے اور ان پر حکومت کرتے نظر آتے ہیں بالکل اسی طرح برطانوی نو آبادیات قائم کرنے والوں نے جہاں جہاں اپنے پر پھیلائے وہاں انہوں نے مقامی آبادی کو نسلی اور قومی تقسیم میں مبتلا کر کے آپس میں لڑایا اور خود ان کے مابین ثالث بن کر ان پر حکمرانی کرتے رہے۔ برطانوی قابضین نے بلوچستان میں یہی عمل شدومد کے ساتھ دھرایا۔ پہلے انہیں براہوئی اور بلوچ میں تقسیم کرنے کی مذموم کوشش کی اور بعد ازاں آپس میں سالوں تک بلوچ قبائل اور ان کے حکمران کو خانہ جنگی کی بھڑکتی ہوئی بھٹی میں ڈالا تاآنکہ 1876ء میں معاہدہ مستونگ(53) کے ذریعے برطانیہ نے ثالث بن کر ان کا یعنی بلوچ قبائل اور خان بلوچ کا آپس میں تصفیہ کروایا۔ 13 جولائی 1876ء کے اس دن کے بارے میں ایک فاضل مورخ لکھتا ہے کہ ،

            ’’ یہی وہ منحوس دن تھا کہ جب خدائید اد خان کا تاج سنڈیمن کے قدموں میں تھا اوربلوچستان اس کی مٹھی میں تھا ۔‘‘(54)

            دنیا کے بیشتر مقبوضات میں برطانیہ نے یہی پالیسی اپنائی جہاں اس کے سامنے شدید مزاحمت ہوئی اور اسے زیادہ نقصان کا اندیشہ ہوا تو اس نے معاہدات، سازشوں اور عیاری و مکاری سے کام لیا اور جہاں طاقت کی ضرورت پڑی تو اس نے اس کا بے دریغ استعمال کیا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب بڑی طاقتیں کسی قوم و ملک کو غلام بناتی ہیں تو سب سے پہلا وار ان کی تاریخ و تہذیب پر کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کی پہلی انٹری کے ساتھ ہی تاریخ سے نابلد لوگ یہاں کی تاریخ اور ثقافتی و سماجی اداروں پرلکھنے لگے۔

            انگریزوں کی سازش اور بلوچ تاریخ و تہذیب پر حملے کی ایک مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ کئی برطانوی فوجی و سول افسروں اور دانشوروں نے بلوچ قوم کی تاریخ پر بڑی تصنیفات رقم کیں اور ہر ایک نے بلوچ نسلی تعلق کو بیان کیا مگر حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ کثیر تعداد میں موجود دانش ور بلوچ نسلی یا قومی تعلق کے بارے میں کسی ایک نقطے پر متحد اور متفق نہیں ہیں بلکہ ہر ایک نے دوسرے سے بالکل مختلف رائے دی اور مختلف نسلی گروہوں کے ساتھ بلوچوں کا رشتہ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس بارے میں ان کی رائے زنی سے کئی نتائج نکلتے ہیں اول یہ کہ ان کی سامراجی سوچ اور فکر یعنی چھوٹی قوموں کو غلام بنانے کے لئے ان پر قبضہ کرنا لہٰذا ان کی تاریخ مسخ کردینا، ان غلام قوموں کو اپنی پستی کا احساس دلا کر انہیں کمتر درجے پر رکھنا، انہیں ان کی تاریخ سے بیگانہ کرکے تاریخ کے گنجلک اور پیچیدہ مسائل سے دوچار کرنا، انہیں سماجی طور پر پست درجہ رکھنا، ان کی توجہ اصل مسائل یعنی بیرونی قبضہ واختیار کے خلاف جدوجہد سے ہٹانا وغیرہ ۔ یہی وہ ہتھیار ہے کہ جس کے ذریعے نہ صرف برطانیہ بلکہ ہر غالب قوت نے دیگر قوموں پر قبضہ واختیار حاصل کیا ۔

            جی ۔پی ٹیٹ بھی ان افسروں میں سے تھا کہ جس نے اپنی سرکاری ملازمت کا بیشتر حصہ بلوچستان اور افغانستان میں گزارا اور ان ممالک کی سیر و سیاحت کی اس نے بھی ڈیمز کی طرح کافی زیادہ تحریری مواد فراہم کیا ہے ۔ اس کی مشہور تصنیفات میں The Frontiers of Balochistan, The Kingdom of Afghanistan اور Siestanشامل ہیں ۔ وہ بھی اپنے دیگر مقلدین اور ہم پیشہ افراد کی طرح بلوچستان اور افغانستان کے موضوعات پر طبع آزمائی کرتا ہے اور انہوں نے برطانوی سامراجی مفادات کو مدنظر رکھ کر ان خطوں اور ان میں بود و باش رکھنے والوں کی تاریخ، سیاست اور جغرافیہ پر ضخیم کتابیں تحریر کیں۔ ٹیٹ کی کتابوں کے مطالعے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ برطانیہ کا ہر مصنف جانبدارانہ طریقے سے اور صرف اپنے مفادات کو عزیز سمجھتا ہے۔ انہیں حقیقی تاریخ سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ وہی کچھ تحریر کرتا ہے جو اس کے نزدیک بہتر ہے وگرنہ اکثر و بیشتر حقیقی بیانات اور تاریخی حقائق سے وہ چشم پوشی یا روگردانی کرتا ہے ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔