بلوچستان اور برطانوی مؤرخین | قسط 14 – برطانوی جاسوسوں کی آمد اور ان کے مقاصد

84

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

بلوچستان اور برطانوی مؤرخین
مصنف: ڈاکٹر فاروق بلوچ

قسط 14 | برطانوی جاسوسوں کی آمد اور ان کے مقاصد (آٹھواں حصہ)

سقوط قلات کے بعد بلوچستان میں برطانوی اہلکاروں اور جاسوسوں کی آمد و رفت بڑھ گئی اور انہوں نے اس سارے خطے میں اپنا نیٹ ورک پھیلایا اور اسے روز بروز وسعت دیتے رہے۔ قلات کے سقوط سے قبل آنے والے جاسوس بہروپ بدل بدل کر اس خطے کی سیاحت کرتے رہے۔ مگر بعد از سقوط قلات یہ لوگ بلوچستان بھر میں دندناتے پھرنے لگے اور زیادہ سے زیادہ معلوم داری حاصل کرنے لگے۔ ان ہی برطانوی جاسوسوں میں ایچ ۔جی ریورٹی بھی قابل ذکر ہے کہ جس نے افغان اور بلوچ سرزمین کی جامع سیاحت کی اور برسوں کے سفرنامے اور تجربات کو بالآخر ایک کتاب کی شکل میں شائع کروایا ۔ اس ضخیم کتاب کا عنوان Notes On Afghanistan and Balochistanہے، جسے نساء ٹریڈرز کوئٹہ نے شائع کیا بعد ازاں اس کا اردو ترجمہ ’’سرزمین افغان و بلوچ ‘‘ کے نام سے پروفیسر سعید احمد رفیق نے کیا اور گوشہ ادب نے اسے کوئٹہ سے چپواکر شائع کیا۔

مسٹر ریورٹی کو بھی پیش روئوں کی طرح فوجی نقل و حرکت اور ذرائع آمدورفت کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کی غرض سے ان خطوں کی جانب بھیجا گیا تھا وہ بھی بنیادی طور پر ایک فوجی تھا اور علم تاریخ سے اس کا دور تک کوئی لگائو نہیں تھا مگر پوٹینگر کی طرح ان کی تحریر بھی بے شمار اغلاط کے باوجود بلوچستان کے بارے میں معلومات کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

برطانوی مصنفین اکثر ناموں کے لکھنے میں احتیاط نہیں برتتے اور ان کو اپنے لب و لہجے میں بیان کرتے ہیں۔ ریورٹی نے بھی قندھار کے قدیم نام کو اپنے انداز میں بیان کیا ہے۔ قندھار جسے عرب مورخین یا دیگر فارسی اردو اور عربی ذرائع بالش، بیلوش یا بیلوس لکھتے ہیں۔32) ( ریورٹی اسے بالیوس تحریر کرتا ہے (33) جو یقیناً بیلوس کی بگڑی ہوئی شکل ہے جیسا کہ پوٹینگر نے مستونگ کے قصبے پڑنگ آباد کو پڑنگو وڈ تحریر کیا ہے34) (جو یقیناً برطانوی انگریزی تلفظ ہے یا جیسا کہ قدیم لفظ اربوئی (35) کو بگاڑ کر براہوئی بنادیا اور لفظ اربوئی کو قلات کے ایک مخصوص پہاڑی تفریح گاہ تک محدود کیا گیا حالانکہ یہ لفظ اربوئی (جسے پوٹینگر فارسی کے ہربوئی یعنی ہر قسم کی خوشبو سے تشبہیہ دیتا ہے) سکندر اعظم کے ہندوستان سے براستہ مکران و بیلہ ایران کی جانب واپسی کے سفر کے دوران یونانی تحریروں میں ملتا ہے جو نہ صرف یہ لفظ جھلاوان میں آباد قبائل کے لئے استعمال کرتے ہیں بلکہ ان قبائل کے پہاڑی مساکن حتیٰ کہ دریا کا بھی بعینہ یہی نام تحریر کرتے ہیں۔36) ( ممکن ہے پوٹینگر نے یونانی ٹیکسٹ کا مطالعہ نہ کیا ہو اور مقامی سطح پر لوگوں سے لفظ ہربوئی سن کر تحریر کیا ہو یا پھر ممکن ہے کہ پوٹینگر نے یہ سب کچھ ایک سامراجی سکیم کے تحت کیا ہو تاکہ زبان کے اختلاف کو بہانہ بنا کر بلوچ قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کر سکے ۔ بہرحال پوٹینگر کی تحریر میں اغلاط کی کثرت ہے اور اس کے مطالعے سے یہ بات واضح طور پر عیاں ہوتی ہے کہ یہ کتاب سامراج کے عزائم اور مفادات کو مدنظر رکھ کر تحریر کی گئی ہے۔ جبکہ ریورٹی کی کتاب بھی تاریخی اغلاط سے خالی نہیں ہے اور اس میں بعض تاریخی اور اہم ترین واقعات کو ضبط تحریر میں نہیں لایا گیا ہے اور بلوچستان کے بارے میں بعض واقعات کے بیان میں غلطی کی گئی ہے۔ مثلاً قلات و قندھار کے مابین طے پانے والا مشہور زمانہ عہدنامہ قلات یا عہدنامہ عدم مداخلت 1758ء(37) کا تذکرہ شرائط اور تبصرہ و تنقید سے ریورٹی نے اجتناب کیا ہے کیونکہ برطانوی مفادات افغانستان کے ساتھ وابستہ تھے اور وہ کوئی ایسی بات بیان نہیں کرنا چاہتا تھا کہ جس سے افغانستان کے اٹھارہویں صدی کی حقیقی پوزیشن بحوالہ بلوچستان واضح ہوجائے لہٰذا اس نے اس معاہدہ کا تذکرہ نہیں کیا کیونکہ یہ معاہدہ افغانستان کے بعض دعووں کی جھوٹی قلعی کھولتا تھا اور بلوچستان کی کامل آزادی کی تصدیق کرتا تھا۔

ریورٹی کے اس احتیاطی رویے نے بلوچستان وافغانستان کی اٹھارہویں صدی کی سیاست میں ایک خلا پیدا کیا جبکہ میلسن جس نے افغانستان کی تاریخ رقم کی وہ اپنی کتاب میں اس عہدنامے کا تفصیلی تذکرہ کرتا ہے۔ (38) اگر میلسن کی تحریر میں یہ معاہدہ مذکور نہ ہوتا تو یقیناً تمام تر برطانوی مواد بلوچستان کے حوالے سے بیکار ہوتا کیونکہ جغرافیہ یا نسلی و قومی تاریخ وثقافت ایسی چیزیں ہیں کہ جو ظاہراً موجود ہوتی ہیں نہ تو جغرافیہ کو چھپایا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی کی نسلی و قومی تاریخ و ثقافت کو درپردہ رکھا جاسکتا ہے البتہ سیاسی تاریخ ایسی چیز ہے کہ جسے ضابطہ تحریر میں حقائق کے عین مطابق اور حوالہ جاتی طور پر بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس میں ردوبدل کی گنجائش بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اس میں جانبداری کو ہمیشہ مرکوز نظر رکھا جاتا ہے زیادہ تر برطانوی مورخین نے اپنے افغانستان سے منسلک وابستہ مفادات کی خاطر بلوچستان کی نسلی و قومی، جغرافیائی اور سیاسی تاریخ میں جان بوجھ کر اغلاط کیں اور ہمیشہ جانبداری کا مظاہرہ کیا یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر مورخین بلوچستان کو افغانستان کا ایک ذیلی حصہ تحریر کرنے کی غلطی کرتے ہیں یا تو بعض تاریخی حقائق کو ماننے سے منکر ہوتے ہیں یا پھر ان کو مسخ کرکے پیش کرتے ہیں۔ جیسا کہ پروفیسر رائو لنسن نے کیا کہ اندھا دھند بلوچ قوم کوکلدانی تحریر کیا یعنی سامی النسل کلدانی (39) اور شاہ بابل نمرود (بعض مذہبی کتابوں اورتاریخی ذرائع کے مطابق یہ دراصل حامی النسل تھا) (40) کی اولاد لکھا اور بیلوس کو اس کا لقب اور بعل دیوتا اور بابل سے تشبہیہ دی۔ (41) شاید پروفیسر رائولنسن یہ نہیں جانتا تھا کہ تاریخ میں جتنے بھی نمرود گزرے ہیں طبقات ابن سعد جیسے مستند تاریخی مسودے کے مطابق سب کے سب حامی النسل تھے  (42) اور تاریخی ذرائع اس بارے میں کوئی بھی رائے دینے سے معذور ہیں کہ آیا کبھی بابل کے کلدانی جو عظیم شہروں کے وارث اور زرخیز زمینوں کے مالک تھے کیا انہوں نے تاریخ کے کسی زمانے میں بلوچستان کی جانب مہاجرت کی ہے؟ بلوچستان کی قدیم تہذیبی آثار میں کلدانیوں کے آنے اور یہاں آباد ہونے یا اپنی تہذیب و ثقافت اور مذہبی اعتقاد کو پھیلانے کی کوئی نشانی نہیں ملتی۔ مگر چونکہ پروفیسر رائولنسن بھی اس سامراجی ادارے کا ایک فرد تھا لہٰذا بحیثیت فاتح انہوں نے جو لکھا اس میں مفتوح کے خیالات کی ترجمانی کی ضرورت محسوس نہیں کی لیکن افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ بعد ازاں بلوچ تاریخ پر لکھنے والے بعض مقامی مشہور مورخین (43) نے اندھا دھند پروفیسر رائولنسن کی تقلید شروع کی باقی برطانوی مورخین و مصنفین کہ جو اصل میں فوجی یا سیاسی سرکاری ملازمین ہوتے تھے کی کتابوں میں موجود اغلاط کی طرح رائولنسن کی تحریر بھی اس سے محفوظ نہیں ہے ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔