بلوچستان اور برطانوی مؤرخین | قسط 5 – ڈاکٹر فاروق بلوچ

138

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

بلوچستان اور برطانوی مؤرخین
مصنف: ڈاکٹر فاروق بلوچ

قسط 5 |برطانوی جاسوسوں کی آمد سے قبل بلوچستان کے سیاسی حالات ( حصہ سوئم)

اٹھارہویں صدی کے دوسرے نصف کے دوران بلوچستان میں حقیقتاً ایک مثالی حکومت قائم تھی حکمران اور اس کے نائبین کے زیر سایہ بلوچ عوام آرام وآسائش کی زندگی گزار رہے تھے میر نصیر خان ایک ذہین اور فطین انسان تھے انہوں نے اپنی زندگی کے وہ ماہ وسال دربار نادری میں ایک یرغمالی شہزادے کے طور پر گزارے تھے کہ جس میں ایک انسان سن بلوغت میں داخل ہورہا ہوتا ہے۔ اس عمر میں انسان میں سیکھنے اور ذہن نشین کرنے کا عمل تیز ہوتا ہے اور نصیرخان کو اللہ نے ویسے ہی ذہانت دی تھی۔ انہوں نے دربار نادری میں رہتے ہوئے ہیبت نادری اور طرز حکومت نادر ی کا بغور مشاہدہ ومطالعہ کیا تھا اور کئی مہمات میں اس کے ہمرکاب رہا تھا لہٰذا جب انہیں قلات پر حکومت کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے اپنے انہی تجربات کو استعمال کیا اور نہ صرف اپنے ملک کا جغرافیہ واضح کیا بلکہ اس پورے خطے میں کہ جس کی آبادی مورخین ایک سے دوکروڑ کے مابین بیان کرتے ہیں۔ 12) (ایک ہی آئین وقانون کی حکومت قائم کی اور تمام لوگوں کو ان کی استطاعت کے مطابق مرتبہ عطا کیا اور ان کو محفوظ ومامون بنایا ۔ ان کے 45 سالہ دورِ حکومت میں بلوچستان میں امن وامان رہا اور بلوچ حکومت کو عروج حاصل ہوا۔ سیاسی، معاشی، معاشرتی، عسکری حتیٰ کہ ہر لحاظ سے یہ ایک مثالی خطہ تھا کہ جس کے اختیار میں اتنے وسائل تھے کہ جو اس پورے علاقے کے لوگوں کی خوشحالی اور استحکام کا ضامن بن سکتے تھے اور نصیر خان جیسا ایک ذہین سیاستدان ان وسائل سے بھر پور فائدہ اُٹھا کر انہیں ملکی استحکام اور عوامی خوشحالی وآسودگی پر خرچ کررہا تھا۔ اٹھارہویں صدی کے دوران بلوچستان ایک مضبوط اور مستحکم مملکت میں تبدیل ہو چکا تھا اور اس وسیع وعریض خطے میں ہر طرف امن، آشتی اور سکون تھا۔ عوام الناس جو کہ بلوچ قبائل پر مشتمل تھے اور خواص جو کہ قبائلی سردار اور حکومتی عمائدین تھے سبھی مملکت کی خوشحالی اور امن واستحکام میں خوش تھے اور اسے مزید مضبوط بنانے کے لئے کوشاں تھے ہمسایہ ممالک خصوصاً افغانستان کے ساتھ انتہائی دوستانہ تعلقات کے استوار ہونے کے بعد بلوچستان روز افزوں ترقی وجدت کی طرف گامزن تھا ۔ حتیٰ کہ یہ سلسلہ 1794ء تک اسی طرح چلتا رہا تاآنکہ میر نصیر خان نوری کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات کے بعد بلوچ قبائلی سرداروں اور عمائدین نے متفقہ طورپر ان کے بڑے بیٹے میر محمود خان اول کو قلات کے تخت پر متمکن کیا جبکہ اس وقت ان کی عمر 10 سال اور بعض مورخین کے مطابق 7 سال تھی۔ 13) ( لہٰذا ان کی کمسنی اور ناتجربہ کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے آخوند فتح محمد کو ان کا اتالیق مقرر کیا گیا(14) کمسن محمود خان کی ناتجربہ کاری اور آخوند فتح محمد کے اتالیق مقرر ہونے کے بعد بلوچ حکومت آہستہ آہستہ روبہ زوال ہونے لگی ۔1795ء میں تالپوروں نے کراچی کی بندرگاہ پر قبضہ کر کے اسے سندھ میں شامل کیا 15) ( بعد ازاں میر محمود خان نے اپنے چھوٹے بھائیوں میر رحیم خان اور میر مصطفیٰ خان کو بھی مختلف اوقات میں قتل کروا کے بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب پیدا کیا۔(16)

             1795ء میں انگریزی جاسوسوں کا ورود ہوا اور برطانوی حکومت ہند نے جو کہ اس وقت ایسٹ اندیا کمپنی کہلاتی تھی۔ غلام سرور نامی ایک شخص کو اندرون بلوچستان وسیستان جاسوسی کی غرض سے روانہ کیا 17) ( میر نصیر خان کی رحلت کے بعد حالات نے یکسر پلٹا کھایا اور غیر ملکی اکابرین کا دربار قلات میں اثر ورسوخ بڑھتا گیا۔ قبائلی سرداروں نے اپنی من مانیاں شروع کیں اور سرکاری اراضیات اور انعامی زمینوں پر قبضہ کرنے لگے آئین و قانون کا نام آہستہ آہستہ مٹتا جارہا تھا اور حالات روز بروز خراب ہوتے جارہے تھے ۔

            دوسری طرف ہندوستان میں جب 1761ء میں مرہٹوں کو شکست ہوئی اور پانی پت کے میدان میں افغان و بلوچ لشکر نے لاشوں کے انبار لگادئیے(18) تو مرہٹوں کا زور ٹو ٹ گیا مگر افغان بھی دہلی میںقدم نہ جماسکے اور مغل حکمران کو مزید دولت سے محروم کرکے اکیلا اور تن تنہا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے انگریزوں کو ہندوستان میں اپنے قدم مضبوطی سے جمانے کا موقع مل گیا۔ 1757ء میں انگریزوں نے بنگال کے حکمران نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر بنگال پر قبضہ کرلیا ۔(19) اور ساتھ ہی سلطان فتح علی ٹیپو کو بھی شکست ہوئی جس کی وجہ سے جنوبی ہندوستان پر انگریزوں نے قبضہ کرکے فرانسیسی اثر ورسوخ کا مکمل طور پر صفایا کردیا ۔(20)ہندوستان میں اٹھارہویں صدی کے اختتام تک انگریز ایک بہترین پوزیشن پر آچکے تھے اور مغل حکمران محض بے بسی کی تصویر بنے ہوئے تھے ۔ ہندوستا ن میں قدم جمانے اور یہاں کی وسیع معاشی منڈی پر اختیار حاصل کرنے کے بعد انگریزوں نے اپنی پیش قدمی مزید شمال اور مغرب کی جانب جاری رکھی اور نام نہاد روسی خطرے کا بہانہ کرکے کئی آزاد اور خود مختار ریاستوں مثلاً سندھ، بہاولپور، بلوچستان اور افغانستان پر اپنا قبضہ جمایا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔