بلوچستان اور برطانوی مؤرخین | قسط 3 – ڈاکٹر فاروق بلوچ

145

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

بلوچستان اور برطانوی مؤرخین
مصنف: ڈاکٹر فاروق بلوچ

قسط 3 |برطانوی جاسوسوں کی آمد سے قبل بلوچستان کے سیاسی حالات

            بلوچستان میں برطانوی جاسوسوں کی آمد کا سلسلہ اٹھارہویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں شروع ہوا۔ برطانوی مداخلت سے قبل بلوچستان ایک منظم ملک تھا جس میں بلوچ قوم کی حکومت قائم تھی ۔ 1410ء سے جس حکومت کا آغاز بلوچوں کے کمبرانی میروانی قبائل نے کیا تھا وہ اب پھیل کر ایک مضبوط، مستحکم اور وسیع سلطنت کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ گو کہ آغاز میں ان قبائل کا دائرہ کار زیادہ وسیع نہ تھا اور وہ سوراب، نغاڑ، چپر، زیارت اور قلات تک محدود تھے اور بلوچستان پر مغلوں کی حکومت قائم تھی مگر سارے بلوچستان پر انہیں تسلط حاصل نہ تھا بلکہ وہ پایہ تخت قلات، مستونگ، کوئٹہ اور سبی وغیرہ پر تسلط رکھتے تھے یہ قبضہ صرف فوجی نوعیت کا تھا اور وہ لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے میں ناکام رہے تھے لہٰذا ایک عام بلوچ منگولوی تسلط کو اپنی غلامی سے تعبیر کرتا تھا اور ان کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل پیرا ہونے کی بجائے اپنی قومی اور قبائلی اقدار کو ترجیح دیتا تھا ۔ لہٰذا منگول کبھی بھی ان قبائل کی تسخیر نہ کر سکے ۔ 1410ء میں میروانی بلوچوں نے قلات کے دہواروں اور آس پاس کے دیگر قبائل سے مل کر منگول اقتدار کا خاتمہ کیا اور پایہ تخت پر قبضہ کرلیا اور بلوچ حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ جس وقت کمبرانی میروانی قبائل کو قلات اور سوراب میں اقتدار حاصل ہوا تو اس زمانے میں بلوچستان کا شیرازہ مکمل طور پر بکھرا ہوا تھا اور یہ مختلف علاقوں میں منقسم ہو کر مختلف قبائل کے زیر اثر تھا ۔ مکران پر ملکوں کے بعد بلیدی قبائل نے قبضہ کیا اور مکران کو ایک ایسی ریاست کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی کہ جو مقامی قبائل کے زیر اثر اور وسط ایشیائی یا ایرانی حکمرانوں کے ماتحت تھا۔ سیستان پر قبائل بلوچ کا تسلط ہونے کے باوجود وسط ایشیائی اور ایرانی خاندانوں نے ہمیشہ اسے اپنے زیر قبضہ رکھا حتیٰ کہ باقی ماندہ بلوچستان بھی ہمیشہ بیرونی اقتدار کے ماتحت رہا اور بیرونی حکمران ہمیشہ اس کے حصے بخرے کرتے رہے تاآنکہ کمبرانی بلوچوں نے قلات پر قبضہ کرکے بلوچی اقتدار کا آغاز کیا ۔ 1410ء سے 1666ء تک میروانی قبائل انتہائی نامساعد حالات اور وسائل نہ ہونے کے باوجود اپنی محنت اور خون سے اپنے خطے کی نہ صرف حفاظت کرتے رہے بلکہ اس کے مختلف حصوں کے اتحاد کے لئے بھی کوشاں رہے ۔ 1666 ء میں کمبرانی قبائل کی ایک اور ذیلی شاخ نے اقتدار سنبھالا اور میراحمد خان اوّل نے قلات پر اپنی حکمرانی شروع کی۔(1) اس دلیر و دبنگ حکمران نے بلوچستان کے بیشتر ٹوٹے ہوئے انگوں کو اکٹھا کرکے منظم کیا اور طمطراق کے ساتھ 29 سال حکمرانی کرنے کے بعد 1695ء میں رحلت فرمائی(2) اس کے بعد تخت قلات کو جو بھی حکمران ملے وہ میرا حمد خان جیسے عظیم حکمران (خان) کی مناسبت سے احمدزئی کہلائے۔ احمد زئی خاندان کے کئی قابل حکمرانوں نے بلوچستان کے بکھرے ہوئے شیرازے کو یکجا کرنے اور بلوچ قبائل کو ایک قومی دائرے میں لانے کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ خصوصاً میراحمدخان اول (1666-1695) میر عبداللہ خان قہار (1716-1731) اور میر نصیر خان نوری (1749-1794) بلوچستان کے قدیم جغرافیہ کی بحالی، اتحاد اور بلوچ قومی یکجہتی کے لئے ناقابل فراموش کردار ادا کرتے رہے۔ میر نصیر خان نوری کے عہد میں پہلی بار بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت واضح ہوئی اور بلوچستان کے خارجی تعلقات بیرونی دنیا کے ساتھ قائم ہوگئے اور بلوچستان کا رقبہ 3,40,000 مربع میل تک پھیل گیا۔ میر نصیر خان نوری کے زمانے کو اس لئے اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ برطانوی جاسوسی مہمات سے فوراً پہلے کا دور ہے  میر نصیر خان نے قلات ( بلوچستان ) پر اٹھارہویں صدی کے وسط سے آخری عشرے کے وسط تک یعنی 1749ء سے لے کر 1794ء تک حکمرانی کی اور اس دوران نہ صرف بلوچستان کے بکھرے اور علیحدہ ہوئے حصوں کو متحد کرنے میں کامیاب ہوا اور انہیں ایک ہی جغرافیائی لڑی میں پرودیا بلکہ منتشر اور قبائلی عصبیتوں کا شکار بلوچ قوم کو بھی متحدو منظم کرنے میں کامیاب ہوا۔

            انگریزی مداخلت سے قبل بلوچستان میں ایک وسیع قومی حکومت قائم تھی کہ جس کا مرکز قلات تھا۔ یہ حکومت کئی نشیب و فراز سے گزر کر اٹھارہویں صدی میں بام عروج پر جا پہنچی۔ اٹھارہویں صدی میں قلات کو دو ایسے حکمران نصیب ہوئے کہ جنہوں نے گمنامی اور پستی میں پڑی ہوئی بلوچ قوم کو سیاسی عروج اور شہرت عطا کی۔ ان میں اول شخصیت میر عبدا للہ خان قہار کی تھی کہ جنہوں نے مرکز قلات سے چاروں سمتوں میں دور دور تک کامیاب یلغاریں کرکے قندھار کی سر حدوں سے لے کر ساحل مکران تک اور بندر عباس سے ڈیرہ غازی خان تک وسیع علاقے کو 15 سالوں تک جولان گاہ بنائے رکھا، اور ان تمام حدود میں اپنے گھوڑے دوڑائے کہ جہاں بلوچ قبائل آباد تھے مگر مرکز قلات بلکہ بلوچ قومی دھارے سے کٹے ہوئے تھے میر عبدا للہ خان ایک عظیم سپاہی تھے مگر ان کا جانشین میر محبت خان ان کی طرح قابل اور بہادر ثابت نہ ہوا ۔ ایران میں نادر شاہ افشار نے ظہور پذیر ہوکر تمام ایران، افغانستان، سندھ، ہند اور وسط ایشیاء کی ریاستوں پر قبضہ کر لیا تو بلوچستان کے خان میر محبت خان بھی ان کے اتحادیوں میں شامل ہوئے اور نادری کیمپ کا ایک اہم حصہ بن گئے مگر اس کے اس فیصلے نے مستقبل میں بلوچستان کے لئے بہت مسائل پیدا کئے ۔

            میرمحبت خان اور میر اہلتاز خان یکے بعد دیگرے حکمران بنے مگر دونوں نااہل ثابت ہوئے اور بلوچستان بدستور نادر شاہ افشار کے زیر اثر رہا 1747ء میں نادر شاہ افشار اپنے بھتیجے کے ہاتھوں ایران میں قتل ہوا(3) تو احمد خان سدوزئی المعروف احمد شاہ ابدالی نے اپنی افغان سپاہ اور قبائلی سرداروں کے تعاون سے قندھار میں افغان حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ 4) (


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔