استاد اسلم بلوچ جذبہِ حریت کا لازوال کردار – عبدالواجد بلوچ

116

استاد اسلم بلوچ جذبہِ حریت کا لازوال کردار

تحریر۔ عبدالواجد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

خونِ دل دے کے نکھاریں گےرُخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

قوموں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو عام ایام کے برعکس بڑی قربانی مانگتے ہیں، یہ دن اپنی مٹی کے فرزندوں سے وطن کی حفاظت کے لئے تن من دھن کی قربانی کا تقاضہ کرتے ہیں، ماؤں سے ان کے جگر گوشے اور بوڑھے باپوں سے ان کی زندگی کا آخری سہارا قربان کرنے کامطالبہ کرتے ہیں. قربانی کی لازوال داستانیں رقم ہوتی ہیں، سروں پر کفن باندھ کر سرفروشان وطن میدانِ حق و باطل کا رخ کرتے ہیں، آزادی کو اپنی جان و مال پر ترجیح دے کر دیوانہ وار لڑتے ہیں، کچھ جام شہادت نوش کر کے امر ہو جاتے ہیں اور کچھ غازی بن کر سرخرو ہوتے ہیں، تب جا کر کہیں وطن اپنی آزادی وقار اور علیحدہ تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

ایسا ہی ایک دن بلوچ تحریک کے اس رواں جہد پر بھی آیا، جب استاد اسلم بلوچ اور ان کے ساتھیوں پر ریاست پاکستان کے ایماء پر حملہ کیا گیا، ریاست کا خیال تھا کہ وہ راتوں رات بلوچ تحریک کے ایک اہم پلر کو مار کر بلوچ قومی آزادی کی تحریک کو زمین بوس کرینگے، لیکن انہیں استاد اسلم اور دوستوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور بلوچ مسلح تحریک کے اندر اپنی صلاحیتوں کے پیش نظر ان کی لیڈر شپ اور اپنا نعم البدل تیار کرنے کے ہنر اور جذبے کا درست اندازہ نہیں تھا کہ استاد اسلم بلوچ کی شہادت کے بعد تحریک ایک نئے فیز میں داخل ہوگی.

استاد اسلم بلوچ تحریک آزادی بلوچستان کے وہ کردار تھے، جس سے جذبہ حریت اور جنون کی حد تک بلوچ تحریک سے لگاو کا درس ملتا ہے، انہوں نے تحریک کو مضبوط بنانے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کیا لیکن اس دوران ان کے جذبوں اور جوش میں کچھ کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ وہ ہمیشہ اس کوشش میں لگے رہتے کہ تحریک کے اندر کس طرح نئی راہیں تلاش کرکے دشمن کو شکست دیا جاسکتا ہے۔

جو لوگ زندگی جیسی نعمت کو کسی عظیم مقصد کی خاطر قربان کر دیتے ہیں، وہ حیاتِ جاوداں پا لیتے ہیں استاد اسلم نے حیاتِ جاوداں تو حاصل کی ہی لیکن ساتھ ساتھ تحریک کو ایک ایسا مقام بخشا جس سے جذبہ جنون اور وطن پر مر مٹنے کا نیا دور شروع ہوا.

بلوچستان کی جدو جہدآزادی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی جب بات چلتی ہے تو اس میں ایک نام خود بہ خود جو روزِ روشن کی طرح ابھر کر سامنے آتا ہے وہ نام ہے ”استاد اسلم بلوچ”

آج ضرورت ہے کہ ہم اپنی نوجوان پیڑھی کو استاد اسلم بلوچ جیسے عظیم سپوتوں کی زندگی کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کروائیں، استاد اسلم بلوچ نے جو بلوچستان کی آزادی کے لیے لڑائی لڑی وہ کسی خاص گروہ، پارٹی یا شخصیات کے لیے نہیں لڑی بلکہ انہوں نے بلوچ قوم کو ریاستی قبضہ گیریت کے خلاف بلوچ قوم پر ظلم و تشدد اور غلامی سے آزادی دلانے کے لیے لڑی.

آج ہم بلوچ نوجوانوں کا یہ اولین فرض بنتا ہے کہ ہم استاد اسلم بلوچ اور باقی شہدائے وطن کے سوچ پہ پہرا دیتے ہوئے ہر اس طاقت کو مات دیں جو اپنے مفاد کی خاطر بلوچ تحریک کی صدیوں پرانی تاریخ کو ختم کرنے میں لگی ہوئی ہیں اور بلوچ وطن کو کبھی طبقات کبھی ذات پات اور کبھی گروہیت کے نام پر تقسیم کرنے کی لگاتار کوششیں کررہی ہیں۔ ان حالات میں ہم سب کا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم طبقات ذات پات گروہ اور فرقوں سے اوپر اٹھ کر صرف اور صرف بلوچستان کی آزادی کے لئے کام کریں جو کہ استاد اسلم بلوچ سمیت تمام بلوچ شہداء کا مشن بھی تھا.

آخر میں شہید استاد اسلم بلوچ کی عظیم شخصیت کے لیے یہی شعر کہونگا کہ ۔۔۔۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدا ور پیدا


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔