جنگی حکمتِ عملی | قسط 12 – جنگی علاقے کی 9 خصوصیات

72

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا

قسط 12 | پانچواں باب (آخری حصہ) – جنگی علاقے کی 9 خصوصیات

”مختلف 9 باتیں“ کے باب میں سن زواس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ”جس جنرل کو جنگی علاقے کے مختلف 9 اصولوں کا علم نہیں تو اسے جنگی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے لائق نہیں سمجھنا چاہئے خواہ وہ اس علاقے سے اچھی طرح واقف ہی کیوں نہ ہو‘ اگر کوئی جنرل فوج کو جنگی کارروائیوں کی ہدایات دیتا ہے اور اسے جنگی چال کے لئے علاقے کی 9 باتوں کا علم نہیں ہے تو وہ اپنی سہولیات سے واقف ہوتے ہوئے بھی فوج کی موثر ترتیب اور صف بندی نہیں کرپائے گا۔“ وہ اس باب میں کہتا ہے کہ ”عقلمند اور جری جرنیل منصوبہ بندی کرتے وقت نفع اور نقصان کی باتوں پر بہت زیادہ سوچتا ہے‘ وہ نفع کی حقیقتوں پر غور وفکر کرتے ہوئے منصوبے بناتا اور امکانی فیصلے کرلیتا ہے جبکہ نقصان والی باتوں کا گہرا جائزہ لے کر تباہ کاریوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔“

”جنگی علاقے کی 9 خصوصیات“ کے باب میں سن زو بتاتا ہے کہ:”فوجی جنرل کو ’شیائے رن‘ قسم کے سانپ کی طرح ہونا چاہئے جو چئنگ پہاڑی میں پایا جاتا ہے‘ اس سانپ کو سر پر چوٹ لگائی جائے تو یہ اپنی دم سے حملہ کرتا ہے اور اگر اس کی دُم پر ضرب لگائی جائے تو یہ سر کی طرف سے حملہ آور ہوتا ہے لیکن اگر اس کے درمیان (کمر) پر چوٹ لگائیں تو یہ اپنے سر اور دم دونوں اطراف سے حملہ آور ہوتا ہے‘ اس لئے حیادار دلہن کی طرح خاموش بیٹھے رہیں جب دشمن بے فکر ہوکر بیٹھ جائے تو پھر آپ شروعات کریں‘ آسمانی بجلی بن کر دشمن پر گر پڑیں‘ اس حالت میں دشمن میں آپ کا سامنا کرنے کی قوت ہی نہیں رہے گی۔“

اگر کسی کو فوج کی تقسیم اور ترتیب کا پورا علم ہو اور اسے غیر معمولی اور عام قسم کے فوجیوں کا بھی سب پتہ ہو تو پھر اسے فوجی تقرری میں پہل کاری اور لچک سے کام لینا چاہئے۔ سن زو بڑے خلوص اور سچائی سے اس خیال کا اظہار کرتا ہے کہ ”جس طرح پانی کا سدا ایک سا بہاؤ نہیں ہوتا‘ اسی طرح جنگ میں بھی ہمیشہ ایک سے حالات نہیں ہوتے۔“ اس کا خیال ہے کہ ”فوج کی تقسیم اور ترتیب میں مقرر شدہ پکا پختہ اصول نہیں ہونا چاہئے اگر مختلف جنگی حالات میں جنگ کا وہی ایک طریقہ استعمال کیا جائے گا یا اگر پیچیدہ و کٹھن میں کسی خاص قسم کی جنگی چال استعمال کی جائے گی تو آپ کو شکست سے کوئی نہیں بچا پائے گا‘ پہاڑوں اور جنگلوں کی جنگ کے طریقے الگ ہیں‘ پہاڑ اور جنگلات کی کامیاب جنگ کے طریقوں کو میدانی علاقوں کی جنگ میں استعمال نہیں کیا جاسکتا‘ اسی طرح میدانی علاقوں کی کامیاب جنگ کے نمونوں کو پہاڑوں اور جنگلوں میں استعمال کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے ایک کمانڈر کے لئے ضروری ہے کہ وہ سوچ بچار کرکے عملی صورتحال کے مطابق نئے جنگی طریقے ایجاد کرے۔

جنگی کارروائی چلانے کا اہم اصول یہ ہے کہ جنگی قانون پر عبور حاصل کرنے کیلئے کوئی آسان راستہ موجود نہیں ہے‘ جنگ کے میدان میں واقعات تیز رفتاری کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں جن سے متعلق قبل از وقت پیش گوئی ممکن نہیں ہوتی اگر کوئی جنگ کی روح کے تجزیے کیلئے جدلیاتی مادیت کے اصول کو استعمال کرے گا تو اسے پتہ چل جائے گا کہ ہر سوال کے دورخ ہوتے ہیں جن کا باہم گہرا ربط ہوتا ہے جو بعض خاص حالات کے تحت متضاد شکلیں اختیار کرلیتے ہیں خواہ اس کا واسطہ جارحیت سے ہو یا دفاع سے یا ان کی فوج طاقتور ہے یا کمزور! اس لئے جب کمانڈر فوجی کارروائی میں مصروف ہوتا ہے تو اسی وقت اسے ان معروضی عناصر کا ادراک ہوجاتا ہے جو متضاد اشیاء کی تبدیلی میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں‘ اس طرح وہ بعض ناپسندیدہ باتوں سے احتراز برت کرصحیح فیصلے کرلیتا ہے جن کالازمی نتیجہ فتح ہوتی ہے۔“

جنگ میں تیز فہمی‘ شدت اور تیز رفتاری
مارشل لیوبوچینگ نے جنگ کے دوران تیز فہمی‘ شدت اور تیز رفتاری پر زیادہ زور دیا ہے‘ اس کا کہنا ہے کہ ”فوجی یونٹوں کے تعین میں لچک کا مطلب ہے دھوکے اور حقیقت کی جنگی حکمت عملی میں دانشمندی کے ساتھ اٹھایا گیا قدم‘ مثال کے طور پر اشارہ مشرق کی طرف کرکے مغربی طرف سے حملہ کرنا‘ غیر معمولی اور عام قسم کے فوجی دستوں میں آسانی کے ساتھ ہیر پھیر کرنا‘ دشمن کے ایسے نازک مقام پر اچانک حملہ کرنا جس کے دفاع کیلئے اسے یقین ہو کہ اس کے مدد گار (اتحادی) بھی پہنچ جائیں گے اور آپ کا یہ حملہ دشمن کیلئے بالکل ہی غیر متوقع ہونا چاہئے۔“

چیشوئی ندی(Cheshui River) کی جنگ:
ماؤزے تنگ میں خاص خوبی یہ تھی کہ وہ جنگ کا حکم دیتے وقت پہل کاری سے کام لیتا تھا اور فوجی ترتیب میں لچک کا قائل تھا‘ وہ دشمن پر اچانک حملہ آور ہوکر اسے شکست سے دوچار کردیتا تھا‘ لانگ مارچ کے دوران چیشوئی ندی کے ‘یونن‘ گوئیز اؤ او سچوئان صوبوں کی سرحدوں کے پاس بہت سے موڑ ہیں‘ ماؤزے تنگ نے جنوری 1935ء میں فیصلہ کیا کہ ریڈ آرمی زوینے کے پاس جنوب کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے (تونگزے‘ سونگکن اور توچینگ سے ہوتے ہوئے) چیشوئی ندی کو پار کرکے آگے بڑھے‘ ریڈ آرمی کی اس پیش قدمی کی وجہ سے دشمن کے اوسان خطا ہوگئے تھے‘ سینٹرل آرمی‘ ریڈ آرمی کا پیچھا کررہی تھی۔ سینٹرل آرمی‘ گوئیزنو“ اور ”ہنن“ کی صوبائی افواج‘ اس اراضی پر آکر ایک جگہ جمع ہوئیں اور ریڈ آرمی کے چاروں طرف گھیراؤ کی کوششیں کرنے لگیں۔

ان حالات میں یانگ ژی ندی کو پار کرنا ناممکن تھا‘ اس لئے ماؤزے تنگ نے ریڈ آرمی کو مناسب موقع تک اس اراضی میں رہنے کا حکم دیا جب اسے پتہ چلا کہ گوئیز اؤ صوبے والا اس کا دشمن کمزور اور ڈرپوک ہے تو اس نے ایک دم اپنی فوج کو مشرق کی جانب بڑھنے کا حکم دے دیا اور چیشوئی ندی کو ایک بار پھر پار کرکے تونگزے اور زنوے پر حملہ کردیا (یہ دونوں مقامات صوبہ گوئیز اؤ کے علاقے تھے) اس مارچ کے دوران ریڈ آرمی نے دشمن کی 20 رجمنٹوں کو تباہ و برباد کردیا جیانگ جیشی شکست کا سن کر سیخ پا ہوگیا تھا‘ اس لئے اس نے پھر ریڈ آرمی کا زونیسی اراضی میں گھیراؤ کرنے کے جتن کئے تھے۔

ماؤزے تنگ نے دشمن کی فوج کو الجھانے اور اس کو (مسلسل) نقل وحرکت پر مجبور کرنے کیلئے اپنی فوج کو رینوئی(Renhoi) سے گزار کر تیسری بار واپس کرکے چیشوئی ندی کو پار کیا اس کے بعد اس نے شمال کی جانب سچوئان کی طرف جنوبی اطراف سے پیش قدمی شروع کردی تھی۔ جیانگ جیشی کو جب اس فوجی نقل وحرکت کا پتہ چلا تو اسے یقین ہوگیا کہ ریڈ آرمی پھر بھی یانگ ژی ندی کو پار کرکے آگے بڑھ کر فورتھ فرنٹ آرمی سے جاملے گی اس لئے اس نے گوئیزاؤ‘ سچوئان اور ”ہنن“ کی صوبائی فوج اور سینٹرل آرمی کو حکم دیا کہ ریڈ آرمی کا پھر گھیراؤ کیا جائے‘ یہ جدوجہد اس لئے کی گئی تاکہ ایک ہی وار سے انہیں ختم کردیا جائے۔

جب ماؤزے تنگ کو پتہ چلا کہ دشمن فوج نے اپنے منصوبے کے تحت نقل و حرکت شروع کردی ہے تو اس نے اچانک ہی اپنی ریڈ آرمی کو چوتھی بار چیشوئی ندی پار کرنے کا حکم دے دیا پھر دشمن فوج کے دائیں طرف کے حصے سے تیز رفتاری سے گزر کر‘ ووجیانگ ندی کو پار کرکے‘ گوئیزاؤ کے دارالخلافہ گوبانگ کی طرف بڑھنے لگا ریڈ آرمی کے مرکزی حصے نے اس راجدھانی پر حملے کا ڈھونگ رچایا لیکن اس کا تھوڑا سا حصہ گویانگ اور لونگلے کی وسطی علاقے سے ہوتے ہوئے گوئیزاؤ اور ہنن کی مرکزی شاہراہ کو پار کرکے یونن کی راجدھانی کئانمنگ کی طرف بڑھنے لگا۔

دشمن کو جب یہ پتہ چلا تو اس کے اوسان خطا ہوگئے اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ریڈ آرمی نے ان کا گھیرا تنگ کردیا ہے‘ یوں دشمن کو کئانمنگ کو بچانے کیلئے سومیل پیچھے ہٹنے کا کشٹ اٹھانا پڑا تھا‘ ریڈ آرمی نے اس بار جنگسا ندی کو سات کشتیوں کے ذریعے نو دنوں میں عبور کرلیا تھا اور سچوئان کے ہوئلے علاقہ کے پاس پہنچ گئی تھی‘ یوں ریڈ آرمی کو منتانگ کی فوج کا پیچھا کرنے اور گھیراؤ کے عذاب سے چھٹکارا پاچکی تھی۔ انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ جیانگ جیشی کی فوج دریائے یانگ ژی عبور کرنے کی حکمت عملی اختیار کرے گی اور شمالی چین کی طرف بڑھنا شروع کرے گی۔

مذکورہ جدوجہد سے باآسانی یہ پتہ چلتا ہے کہ ماؤزے تنگ نے ایک ماہر اور عقلمند فوجی سائنسدان کی طرح اپنی فوجی چال میں لچک کی حکمت عملی کو استعمال کرتے ہوئے جنگی فن کی اعلیٰ مہارت کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس نے ریڈ آرمی کو بہت غور وفکر کے ساتھ جنگی کارروائی کے احکامات دیئے تھے کہ جس کا دشمن کو اندازہ ہی نہیں تھا۔ ریڈ آرمی نے نہایت تیز رفتاری کے ساتھ دشمن کو الجھا کر پریشان کردیا تھا اور اپنے اشاروں پر ناچنے پر مجبور کر ڈالا تھا اور بالآخر انہیں تھکا کر اپنا پیچھا کرنے سے جان چھڑا لی تھی۔

ماؤزے تنگ کی اس مثال سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے عقلمند فوجی جرنیلوں کا انتخاب کیا تھا‘ ایک غیر مناسب فوجی کمانڈر ایک جنگی کارروائی میں تو فتح یاب ہوگا لیکن پھر سارے جنگی ماحول میں ہارتا رہے گا کیونکہ جنگی میدان میں پیدا ہونے والی نئی تبدیلیوں کے مطابق اپنے آپ میں لچک پیدا نہیں کر پائے گا نہ ہی نئے حالات کا سامنا کرنے کیلئے موثر حکمت عملی طے کرپائے گا۔ مثال کے طور پر تین بادشاہوں کے عہد میں ژوج لیانگ کو ایک کامیاب چیف آف اسٹاف کہا جاسکتا ہے جو جنگی چال کی منصوبہ بندی کرنے کا ماہر تھا لیکن اس نے ”جائے تنگ“ کے دفاع کیلئے ”ماسو“ کو کمانڈر مقرر کرکے بڑی غلطی کی تھی‘ جنرل ماسو کو تھوڑا بہت فوجی علم تھا لیکن اسے جنگی صورتحال کا پورا علم اور مطالعہ نہ تھا اس کیلئے اسے فوجی یونٹوں کی تقرری میں لچک کا بھی خاطر خواہ علم نہ تھا‘ درحقیقت وہ قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کا قائل تھا۔

”جنگ چو“ کی جنگ:
تین بادشاہوں کے زمانے میں جنگزوؤ ملک ”شو“ کی حکمرانی میں شامل تھا جہاں جنرل ”گئان یو“ کی قیادت میں فوج رہتی تھی‘ وو کے حکمران نے”جِنگ چُو“ کو فتح کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا تھا لیکن فتح مند نہ ہوسکا۔ 219ء میں وو کے حکمران نے جنرل لومینگ کے مشورے پر عمل پیرا ہوکر’جنگ چو‘ پر حملے کیلئے چاؤ چاؤ کے ساتھ عہد نامہ کرلیا جس کے مطابق ایک فریق کو شمال اور دوسرے فریق کو جنوب سے حملہ آور ہونا تھا یعنی جنرل چاؤ کی فوج نے جنرل ’چاؤرین‘ کی قیادت میں شمال کی طرف سے اور وو کی فوج کو جنرل لو سن کی رہنمائی میں جنوب سے بیک وقت آگے بڑھنا تھا۔
جنرل لوسن کی فوج کا پہلا کمانڈر لومینگ تھا جو ہر مسئلہ کا جوانمردی سے سامنا کرنے کیلئے مشہور تھا گئان یو‘ اس سے بہت خبردار رہتا تھا۔ لومینگ نے اپنے دشمن سے اس کا مرکز چھڑوانے کیلئے ایک منصوبہ بنایا تھا جس کے تحت اس نے بیماری کا بہانہ بنا کر ”جیانئے“ کی طرف واپس لوٹنے کا ڈھونگ رچایا تھا اور اپنی جگہ یہ لوسن کو فوجی کمانڈر بنانے کی سفارش کی تھی جب گئان یو کو اس کی بھنک پڑی تو بہت خوش ہوا‘ لوسن کو ایک نوجوان اور کم تجربے کا حامل فوجی جنرل سمجھ کر اپنے ساتھ منتخب فوج کولے کر شمال کی طرف شئنگ یانگ اور فن چئنگ پر حملہ آور ہوگیا اور جن چو کے دفاع کیلئے جنرل ہے فئنگ اور جنرل فوشیرینگ کو چھوڑ گیا۔

جب جنرل لومینگ کو یہ پتہ چلا تو اس نے سمجھا کہ اس کی منصوبہ بندی کامیاب ہوگئی ہے‘ اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنی فوج کو تاجروں کے لباس میں ”ژو“ اور ”وو“ کے درمیانی علاقے سے آگے بڑھنے‘ ندی کے کناروں کے ساتھ قائم ایک قلعہ پر حملہ کرنے اور می فئنگ کو شکست تسلیم کروانے کا حکم دیا تھا۔

جنرل گئان یو اپنی فوج کے ساتھ آرام سے شمال کی طرف بڑھ رہا تھا‘ اس نے پیش قدمی کرکے زیانگ وانگ کو جاکر فتح کرلیا اور فنچینگ کی طرف بڑھنے کا ارادہ کیا‘ اس حملے میں چاؤ‘ چاؤ کے مشہور جنرل یوجنگ اور پئنگ ڈے گرفتار کئے گئے اور ان کے ساتھ موجود بے شمار فوج ختم کردی گئی‘ چاؤ چاؤ دہل کر رہ گیا کہ پتہ نہیں کیا ہوگا اوروہ اپنی راجدھانی تبدیل کرنے کا سوچنے لگا۔

جب جنرل گئایو کو پتہ چلا کہ ’وو‘ کی فوج نے جنگز ؤ پر حملہ کرکے اس کو فتح کرلیا ہے تو اس کے پیروں تلے گویا زمین نکل گئی اس نے کھڑے پیروں فوج کو مائیچنگ کی طرف واپس لوٹنے کا حکم دے دیا جہاں پہنچتے ہی وو کی فوج نے اس کا گھیراؤ کرلیا‘ی وں گئان یو اچانک پھنس کر رہ گیا اور اسے جنگی قیدی بنالیا گیا۔

جنرل لو مینگ نے اپنے دشمن کو دھوکے سے اس کا مرکز چھڑانے کا منصوبہ بنایا تھا جو کامیاب رہا‘ اسے اچھی طرح علم تھا کہ گئان یو ھٹیلا اور اپنی مدح کا شوقین ہے اس نے اپنا عہدہ لوسن کے حوالے کیا اور ایسا کرکے اس نے نفسیاتی طور پر گویا گئان یو سے ہتھیار ڈلوادیئے تھے جنرل گئان یو کی شمال کی جانب پیش قدمی اس کی شہرت کی بھوک کی مظہر تھی‘ فوجی کمانڈروں کے لئے یہ بات نہایت اہم ہے کہ وہ دشمن فوج کے مزاج سے واقف ہوں اور خاص قسم کی حکمت عملی اختیار کرکے جنگی فتح حاصل کریں۔

لیاؤگزی‘ شینیانگ کی جنگی مہم:
چین کی جنگِ آزادی کے دوران (1945ء تا 1959ء) شمال مشرق کے جنگی میدان پی ایل اے کے لئے انتہائی کٹھن تھے جہاں جنگی سرگرمیاں لن بیاؤ کی رہنمائی میں جاری تھیں‘ اس نے چانگ‘ چون کا جاکر گھیراؤ کرلیا اور سونگ ہواچیانگ ندی کو تین بار پار کیا لیکن پھر بھی مہم کے دوران اس نے پہل کاری یا لچک کے اصول پر عمل نہیں کیا‘ جنرل لن بیاؤ کے پاس کومنتانگ کے جنرل وے لیئمانگ سے زیادہ بہتر فوج تھی اس کے باوجود بھی پیپلز لبریشن آرمی کے رہنماؤں ماؤزے تنگ‘ چواین لائی کے مطابق پی ایل اے سے وابستہ کمانڈروں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے اس علاقے میں انہیں شکست نصیب ہوئی۔

گہرے غور و فکر کے بعد ماؤزے تنگ اور چواین لائی نے جنگ چو پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا‘ یہ اہم نوعیت کی جنگی حکمت عملی تھی جس کے مطابق دشمن کو اس اہم قلعے کو بچانے پر مجبور کیا گیا تھا‘ اس شہر میں شمال اور شمال مشرق سے آنے والے راستے آپس میں آکر ملتے تھے اور انسانی خوراک کی تمام اشیاء بھی مذکورہ شہر میں ملتی تھیں‘ اس لئے یہ فوجی رسد کیلئے ایک اہم مقام تھا‘ اگر جنگ چو‘ پی ایل اے کے ہاتھوں فتح ہوجاتا تو پھر شمال مشرق کے علاقے میں کومنتانگ کی رسد کی شہہ رگ گویا کٹ کررہ جاتی۔ اس کے علاوہ دشمن فوج کو شمال اور شمال مشرق چین سے ملنے والی فوجی امداد بند ہوجانے کا خدشہ بھی تھا۔ پی ایل اے کے جنگ چو پر حملے کی صورت میں دشمن ایک دم دوڑ کر اس مقام کو بچانے کی کوشش کرتا لیکن پی ایل اے والوں نے پہل کاری یا لچک کے اصول سے کام لیا تھا‘ اس کے مقابلے میں کومنتانگ کی اختیار کردہ جنگی حکمت عملی انتہائی کمزور تھی جب کومنتانگ کی جانب امدادی فوج بھجوائی جاتی تو راستے میں اس کے قتل ہوجانے کا خدشہ تھا‘ یوں پی ایل اے کی فوج کیلئے لچکدار حالات پیدا ہوگئے تھے۔

تاریخ نے ماؤزے تنگ اور چو این لائی کے کئے ہوئے فیصلے کو صحیح ثابت کیا‘ توقع کے مطابق جب فوج پر حملہ ہوا تو کومنتانگ کی امدادی فوج واقعی شمالی چین سے آنے لگی تھی جسے پی ایل اے نے آگے بڑھنے سے روک دیا اور وہ جنگ چو تک نہ پہنچ سکی۔ کومنتانگ کی مدد اور جنگ چو کے دفاع کیلئے شین یانگ سے بھی فوج روانہ کی گئی تھی جسے پی ایل اے کے جوانوں نے ڈاؤشن کے راستے پر روک لیا اور ان پر اچانک حملہ کرکے انہیں مار کر شکست دے دی اس کے نتیجے میں دشمن کو جنگ چو کے پاس پی ایل اے کے سامنے شکست تسلیم کرنی پڑی اس جنگی مہم میں کومنتانگ کے 47000 لوگ مارے گئے اور شمال مشرق کا سارا علاقہ آزاد ہوگیا تھا۔

اس سے یہ نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ جنگی حکمت عملی کی پہل کاری‘ پیدائشی یا خلقی نہیں بلکہ دانشمند کمانڈر کی سوچ وبچار کے باعث دماغ میں تخلیق ہوتی ہے۔ مہم کے دوران جنگی چال میں لچک جنگی حکمت عملی کے تحت پہل کاری کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے۔ لیاؤگزی شینیانگ(Liaoxi-Shenyang) کی مہم سے اس اصول کی سچائی ثابت ہوتی ہے۔

نتیجہ:
اس جنگی مہم میں جن اہم نکات نے اپنا کردار ادا کیا‘ انہیں ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔
جنگ میں تیز فہمی‘ شدت اور تیز رفتاری اہم نکات ہیں‘ جنہیں صحیح طریقے سے سمجھا اور جانچا جائے۔ تیز فہمی کا مطلب ہوگا جنگی منصوبے پر مہارت کے ساتھ عمل کرنا۔ شدت‘ فوج کی بے انتہا قوت کا مظاہرہ ہے جس طرح کہ ایک خطرناک چیتا ایک بکری پر شدت کے ساتھ حملہ کرتا ہے‘ تیز رفتاری وپھرتی کا مفہوم یہ ہے کہ جنگ بجلی گرنے کی مانند اچانک ختم ہوجائے‘ پہل کاری(Initiative) اور لچک سے مراد ہے کہ دھوکہ اور حقیقی حملہ دوجدا چیزیں ہیں اور دشمن کی نقل وحرکت سے متعلق منصوبہ بنا کر اس پر عمل کرنے کا حکم دیا جائے‘ دشمن کے اس نازک مقام پر حملہ کریں جس کیلئے آپ کو پوری توقع ہے کہ دشمن آندھی طوفان کی رفتار سے پہنچ کر اس کا دفاع کرے گا‘ یہ بھی سوچا جائے کہ ایسی مہم شروع کرنے سے قبل ہمارے پاس کتنے قابل عمل متبادل ذرائع موجود ہیں۔

جنگ میں پہل کاری کی خوبی پیدائشی یا خلقی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کو حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کمانڈر کی اہلیت پر منحصر ہے کہ جنگ کے دوران پیدا ہونے والے نئے حالات کا کس طرح مردانہ وار مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ پہل کاری کے ذریعے خطرناک جنگی صورتحال کو آسان بنایا جاسکتا ہے فوج‘ غیر متحرک ہونے کے بعد پہل کاری حاصل کرلیتی ہے جس کی مثال خاموشی (صبر) کے بعد چیشوئی ندی کو چار مرتبہ پار کرنا اور چنک چو کی جنگ کا واقعہ وغیرہ ہیں‘ جو کمانڈر اپنے فوجی یونٹوں کی ترتیب میں لچک رکھتے ہیں ان میں لازمی طور پر پہل کاری کی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔
جنگ کے لئے کسی مخلص کمانڈر کا انتخاب کیا جائے جس میں تخلیقی صلاحیت ہونی چاہئے اور دشمن کے عمل کے خلاف فوراً اور مثبت رد عمل اختیار کرنے کی فطری صلاحیت ہونی چاہئے‘ جنگ میں فوجی یونٹوں کو ترتیب دینے کیلئے کوئی خاص اصول اور ضابطے نہیں ہوتے ہیں نہ ہی فتح کیلئے کوئی مقررہ قانون موجود ہوتا ہے‘ اس طرح کمانڈر کو اپنے رستے (کی شناخت) کیلئے ہمیشہ نئے نشانات لگانے پڑتے ہیں۔

کمانڈر کو اپنی ذہنی تخلیق کو اہمیت دینی چاہئے جس کے ذریعے یہ علم ملتا ہے کہ اسٹاف افسران کو سوچنے کیلئے کیسی تربیت دینی چاہئے‘ ایسے فوجی عملداروں کو نقل کرنے والے منشی یا اَردلی نہیں بنانا چاہئے‘ یہ ایک واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ایک کمانڈر اپنے تمام اسٹاف کی سوچ کو ملا کر ایک جگہ جمع کرسکتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔