شہید ریحان کا قافلہ ١١ اگست کی تیاری – نادر بلوچ

129

شہید ریحان کا قافلہ ١١ اگست کی تیاری

تحریر: نادر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ وطن غلامی کی سیاہ چادر میں لپٹی ، طوق غلامی پہنے ہوئی یوم آزادی کے دن کے انتظار میں سپردِ تابوت ہے۔ وطن کے سچے اور باشعور فرزند شعور کی حد کو چھوتے ہی کاروان ریحان میں شامل ہوکر مادر وطن سے غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کو زندگی گذارنے کیلئے اپنا مشغلہ بنا رہی ہیں۔ کاروان ہے کہ بڑھتی جارہی ہے، خون ہے کہ گرم ہوتی جارہی ہے۔ جانوں کے نذرانے مقبول ہورہے ہیں، ہزاروں بچے یتیم ہوچکے ہیں، مائیں اپنے ثپوتوں کو وطن پر جانثاری کی لوری سنا رہی ہیں، بہنیں بھائیوں کیلئے انقلابی و ثقافتی پوشاک بنا رہی ہیں۔ قافلہ ہے کہ بڑھتی جارہی ہے، دشمن ہر پٹ و میدان میں سرنگوں ہوکر ذلیل و رسواء ہوتی جاری ہے، ذلت و رسوائی کی دھول پنڈی اور اسلام آباد میں حاکموں کے عقوبت خانوں کو زنگ آلود کررہی ہے۔

بلوچستان کو بزور شمشیر فتح کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا ہے، سی پیک اپنی موت آپ مرچکا ہے، شہداء وطن فلسفلہ آزادی پر گامزن رہ کر ہمیشہ کیلئے امر ہورہے ہیں۔ قومیں تب خوش نصیب تصور ہوتے ہیں جب انکی حفاظت و دفاع کیلئے فیصلہ کن کردار پیدا ہوتے ہیں۔ چین جیسے امپیریلسٹ اسٹیٹ توسیع پسند ریاست کی بلوچستان میں آتے ہی پاکستانی حاکموں کے گھروں میں شادیانے بجنے لگے تھے۔ بلوچ قوم کو اپنے نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشوں پر ماتم کرنے کیلئے چھوڑ دی گئی۔ شہروں کو ویران کردیا گیا اور قبرستانوں کو ڈیتھ اسکواڈوں کے ذریعہ آباد کیا گیا، اس سخت وقت نے بلوچ نوجوانوں کو فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا موقع دیا، شہید اکبر بگٹی کے بقول سخت حالات نے بلوچ نوجوانوں کو کندن بنا دیا۔ پیر و ورنا نے ریاستی یلغار کو خوش آمدید کہہ کر ریاست کو جواب دینے کی ٹھان لی، بلوچ وطن کے جہد کار آج بھی خندہ پیشانی سے میدان عمل میں بہادری کے جھنڈے گاڑھ رہے ہیں۔

تاریخ میں بہت سے کردار ایسے رہے ہیں جو ہمیشہ کیلئے رہنمائی و حوصلہ افزائی کا کردار ادا کرتی ہیں، اسی لیئے ایسے کردار زندہ رہتے ہیں۔ داستان ریحان اور اا اگست کی تاریخ بھی مظلوم و غلام اقوام سمیت آجوئی پر یقین رکھنے والے اقوام کیلیے ایک یاد گاری و جانثاری کے عزم کا پیغام ہے۔ داستان ریحان میں اگر لمہ یاسمین و شہید جنرل استاد اسلم بلوچ کے عظیم کردار کا ذکر نہیں ہوگا تو یہ ریحان کے جرائت مندانہ کردار کے ساتھ ناانصافی کے ساتھ ساتھ ہمت و ایثار کی یہ کہانی ادھوری رہیگی۔ تاریخی جہد سے وابستگی نے بلوچ قومی تحریک میں شامل جہد کاروں اور انکے ہمسفر کرداروں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کی ہے۔لمہ یاسمین کی بے نظیر عمل نے ہر شہید کی ماں کو حوصلہ بخشا، ہر جہد کار کے والدین کو شرف بخشا اور ہزاروں انسانوں کو قربانی کے فلسفے سے آگاہی دی۔

قافلہ و کاروان کے اہم کردار شہید ریحان جان کے عظیم بابا، مفکر، مدبر، رہنماء کمانڈر جنرل اسلم بلوچ کے فیصلہ کن اقدام نے ریحان جان کا نام ایک طویل فہرست سے اس تاریخی کردار کو ادا کرنے کیلیے چننا، انکی بلوچ جہد کی کامیابی کیلئے وسیع حکمت عملی و دور اندیشی کی غمازی کرتا ہے۔ کوئی بھی کردار ہمیشہ خود میں کامل نہیں ہوتا، کردار کی تراش و خراش بھی انسان کے عملی زندگی سے تعلق رکھتی ہے۔ جس طرح سونے جیسی دھات سونار کی محنت سےانمول زیور بنتی ہے، پتھر تراشنے سے نایاب ہیرا بنتا ہے بلکل اسی طرح ایک جہد کار کی تربیت میں استاد کا کردار بے مثال و بے مٹ ہوتا ہے۔ بے مثالوں، نایابوں، و انمولوں کے اس کاروان میں ہزاروں خوش نصیب شاگرد ایسے ہیں جنکو اسلم بلوچ کی رہنمائی میں اپنے کردار اور فکر کو نشو نماء کرنے کا موقع ملا ، شہید ریحان ان پروانوں میں سے ایک ہیں جس کو باپ کی شکل میں ایک کامل استاد میسر ہوا۔ استاد اور شاگرد کی اس لاثانی جوڑی نے تاقیامت قربانی و قومی آزادی کے سفیروں کو صراط مستقیم پر مشعل تھامے مسلسل و متواتر چلنے کا درس دیا۔

گیارہ اگست کو جہاں بلوچ قوم آزادی کی یاد کے طور پر مناتی ہے وہیں پر شہیدوں کی قربانیاں اس دن کے دوبارہ لوٹنے کی نوید سناتے ہیں، ریحان جان اور اسکے فلسفہ قربانی بلوچ وطن پر قابض قوتوں کیلئے ہمیشہ موت کا پیغام ہوگی۔ قافلہ آزادی تب تک نہیں روکے گی جب تک گیارہ آگست 1947 کی تاریخی دن زوال کا چکر مکمل کرکے عروج کے سورج کے ساتھ دوبارہ طلوع ہوگی۔ وطن کے جان باز فرزند دھرتی ماں کی ہر اس زنجیر کو توڑتی رہینگی جنہوں نے پچھلے چار نسلوں سے بلوچ قوم کو غلام کیئے رکھا ہے۔ تجدید عہد کے ساتھ اس دن اپنے قول کو پھر دہرانا ہوگا، بلوچستان کی آزادی تک جہد جاری رہیگی یا پھر اسی نعرہ کو لیکر شہداء بلوچ کے فلسفہ پر اس جہاں سے رخصت ہونگے پر سرنگوں نہیں ہونگے بلکہ سربلند و سرخرو ہونے کا راستہ چنیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔