شہید اکبر خان بگٹی، ایک قومی لیڈر یا قبائلی سردار – امین بلوچ

110

شہید اکبر خان بگٹی، ایک قومی لیڈر یا قبائلی سردار

تحریر: امین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

شہید نواب اکبر بگٹی کے لئے پروفیسر عزیز بگٹی اپنی کتاب “بلوچستان شخصیات کے آئینے میں“ کے صفحہ نمبر 22 میں لکھتے ہیں کہ اکبر بگٹی محض ایک جسمانی وجود نہیں بلکہ اسکی موجودگی کو وہ اپنے دل ،اپنی روح اور اپنے تصورات میں محسوس کرتا ہے۔اگر ان الفاظ کے تناظر میں ہم شہید اکبر خان کی جدوجہد اور کردار پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو واقعی اکبر خان نے اپنی زندگی کے آخری چند عرصوں میں اپنے قومی بقا ء کے لئے جو قدم اٹھایا وہ بلوچ قومی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے الفاظوں میں یاد رکھی جائیں گے، جب اسّی سال کا بوڑھا قبائلی سردار اپنے قبائلی خول سے نکل کر بلوچیت کے دفاع میں اپنے جان کا نزرانہ پیش کرتا ہے۔

اکبر خان آج ہر بلوچ فرزند کے دل میں اپنے لئے ایک مقام بنا چکا ہے اور ہر بلوچ کے روح اور تصورات میں اکبر خان ایک قومی لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

بلوچستان میں نواب محراب خان کی قربانی ہر بلوچ کے لئے باعث فخر ہے کہ بلوچ رہنماء اپنے قومی دفاع کے لئے کسی بھی طرح کی قربانی دینے سے پس و پیش سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنے قوم کا مورال بلند کرنے کے لئے خود ہی میدان عمل کا حصہ بن کر شہادت کے بلند مرتبے کو پالیتے ہیں، اکبر خان نے بھی نواب محراب خان کے نقش قدم پر چل کر شہادت جیسے مقام کو حاصل کرلیا۔ اکبر خان کی جدوجہد اور کردار پر روشنی ڈالنے کے لئے انکی زندگی کے ابتدائی حالات اور سیاسی کردار پر نظر ڈالیں گے کہ کس طرح ایک وفاق پرست رہنماء ایک قومی لیڈر کے طور پر بلوچ قومی ہیرو کے مقام پر پہنچ گئے۔

ابتدائی حالات:

نمیران اکبر خان بارہ جولائی 1927 کو بلوچوں کے آبائی علاقے کھیتران میں نواب محراب بگٹی کے آنگن میں پیدا ہوئے۔آپکے دادا شہباز خان کی نسبت سے آپکا نام رکھا گیا لیکن آپ اکبر خان بگٹی کے نام سے شہرت پاگئے۔ آپکی پیدائش کے کچھ عرصے بعد آپکو تعلیم و تربیت کی غرض سے کراچی بھیجا گیا جہاں آئی آئی قاضی جیسے مشہور سکالر کی صحبت میں وقت گزارنے کا موقع ملا، آپ نے ابتدائی تعلیم کراچی گرامر اسکول سے حاصل کی جبکہ مذید تعلیم کی غرض سے آپ لاہور کے مشہور کالج ایچی سن کالج میں زیر تعلیم رہے۔

بارہ برس کی عمر میں پہنچے تو والد صاحب کا انتقال ہوگیا، والد صاحب کی وفات کے بعد آپکو قبیلے کی سرداری کا منصب سونپ دیا گیا لیکن کم عمری کے باعث جمال خان کو ان کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ جب آپ عہد شباب کو پہنچے تو جمال خان کو فارغ کرکے اپنی عملی و روایتی سرداری زندگی کا آغاز کیا۔اسکے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی سے اعلی تعلیم کی حصول کے لئے بیرون ملک چلے گئے۔اکبر خان نے سردار بننے کے بعد پہلے انگریز حکومت سے مکمل معاونت کی اور جب پاکستان بلوچ سرزمین پر قابض ہوا تو اسوقت بھی نواب صاحب نے پاکستانی معاونت جاری رکھی۔

جولائی 1947 کو شاہی جرگے کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کے ساتھ الحاق نامے پر دستخط کئے جبکہ فروری 1948 کو گورنر جنرل پاکستان جناح نے سبّی کا دورہ کیا تو اکبر خان نے ان کا استقبال کیا، پاکستانی پارلیمانی سیاست کا حصہ رہے جبکہ 1956 اور 1973 کے آئین کے تحت وفاداری کا حلف بھی اٹھایا۔انیس سو اکیاون کو انہیں گورنر جنرل کا ایڈوائزر مقرر کیا گیا،اکبر خان ایوبی دور آمریت میں تین مرتبہ جیل یاترا پہ بھی گئے ہیں۔ جبکہ اپنی زندگی کے آخری ایام جنرل پرویز مشرف کی نا انصافیوں اور بلوچ عوام کے قومی بقاء کے لئے پہاڑوں کا رخ کرتے ہیں اور دو ہزار چھ میں تراتانی کے پہاڑوں پہ جام شہادت نوش کر جاتے ہیں۔

سیاسی زندگی:

اکبر خان کی عملی سیاسی زندگی کا آغاز ون یونٹ کے قیام کے بعد ہی شروع ہوا جب آپ نے بلوچستان کی نشست کے لئے ڈاکٹر خان کا مقابلہ کیا لیکن اکبر خان ایک ووٹ سے ناکام ہوئے اور یہی سے اپنےسیاسی سفر کا آغاز کیا۔ 1958 میں جب ڈاکٹر خان صاحب کو قتل کیا گیا تو حکومت پاکستان نے ضمنی انتخابات کا اعلان کیا جس میں اکبر خان کامیاب ہوئے اور فیروز خان نون کی حکومت میں وزارت داخلہ کے قلمدان پر فائز ہوئے۔لیکن کچھ ہی عرصے بعد ایوب آمریت کا آغاز ہوا جس نے فیروز خان کی حکومت کا دھڑن تختہ کرکے ملک میں مارشل لاء کا نفاذ کردیا، مارشل لاء حکومت کے آتے ہی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگادی گئی اور سیاسی رہنماؤں کو ایبڈو کے تحت نااہل قرار دیا گیا تو اکبر خان بھی ان سیاسی رہنماؤں کی فہرست میں شامل تھے جنہیں دس سال کے لئے ملکی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی گئی۔اکبر خان 1959 میں گرفتار کئے گئے انہیں قلی کیمپ کوئٹہ میں رکھا گیا جہاں انہیں ملٹری کورٹ نے پھانسی اور پانچ لاکھ جرمانے کی سزا سنائی۔بعد میں پھانسی کی سزا عمر قید میں منتقل کی گئی اسکے بعد انہیں مچھ سے حیدرآباد جیل منتقل کیا گیا۔ اٹھارہ ماہ کا طویل عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد پچاس ہزار جرمانے کی رقم کے عوض انہیں رہا کردیا گیا۔

رہائی کے بعد انہوں نے میر غوث بخش بزنجو اور عطاء اللہ مینگل سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران ایوب خان نے الیکشن کا اعلان کیا تو عطا اللہ قلات کی نشست کے لئے کھڑے ہوئے جبکہ خیر بخش مری کو الیکشن کے لئے راضی کیا کیونکہ اس دور میں اکبر خان ایبڈو پابندیوں کی وجہ سے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔خیر بخش مری الیکشن میں کامیاب ہوئے۔1962 کو ایوب حکومت کے خلاف ککری گراونڈ میں ایک جلسے کا انعقاد کیا گیا لیکن جلسے سے قبل نواب صاحب گرفتار کئے گئے اور انہیں لائل پور جیل منتقل کیا گیا۔اس دوران انہیں مختلف جیلوں میں رکھا گیا۔

ایوب خان سے اختلاف کی وجہ سے انہیں 1968 میں گرفتار کرکے میانوالی جیل منتقل کیا گیا جس میں انہوں نے دوران قید بھوک ہڑتال شروع کردی۔انتیس دن بھوک ہڑتال کے بعد جیل انتظامیہ انہیں زبردستی اسپتال لے گئے لیکن اکبر خان نے پھر بھی بھوک ہڑتال جاری رکھی تو زبردستی انہیں خوراک کی نالی سے غذا دی جانے لگی۔ایوب خان دور کے آخری دنوں میں انہیں جیل سے رہائی ملی،ایوب خان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد یحیی خان کے دور کا آغاز ہوا انہوں نے ون یونٹ توڑ کر بلوچستان کو صوبے کا درجہ دیا اور ملک میں عام انتخابات کا اعلان کیا۔

ایوب دور میں جن سیاسی رہنماؤں پر پابندی عائد کی تھی یحیی خان نے اس پابندی پر اپیل دائر کرنے والوں کی درخواست قبول کرکے انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دیدی لیکن اکبر خان نے اس کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی بقول اکبر خان کے کہ جب بریگیڈئیر مارشل لاء نے اس حوالے گفتگو کی تو میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میرے ساتھی یہ بات بھول گئے ہیں اس لئے میں الیکشن میں حصہ نہیں لونگا۔

لیکن اکبر خان نے نیپ میں شامل ہوئے بغیر اپنے رفقاء کے ساتھ انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور انکے دو رفقا ء جن میں احمد نواز بگٹی اور چاکر خان ڈومکی کامیاب ہوئے۔

انتخابات میں تین سیاسی جماعتیں خاطر خواہ نتائج دینے میں کامیاب رہی جن میں عوامی لیگ نے ایک سو ساٹھ نشستیں جیت کر اکثریت حاصل کرلی تھی جب کہ پیپلز پارٹی نے سندھ اور پنجاب جبکہ نیپ نے بلوچستان اور خیبر پختوانخوا میں کامیاب حاصل کرلی لیکن انتخابات کے بعد فوجی حکمرانوں نے اقتدار عوامی لیگ کو منتقل کرنے میں بدنیتی کا مظاہرہ کیا جس سے وہاں کے حالات کشیدہ ہوگئے اور عوامی لیگ پر پابندی عائد کی گئی اور انکے کارکنوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔یحیی حکومت کے خلاف تنقید کرنے پر نیشنل عوامی پارٹی کو بھی کالعدم قرار دیا گیا۔ 1971 میں اکبر خان نے شیخ مجیب الرحمان سے ملاقات کرکے انہیں الیکشن جیتنے کی مبارکباد دی اور آیندہ کے لیے مذاکرات کئے،کامیاب مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرنس بھی کیا لیکن دوسرے ہی روز نیپ کی قیادت نے اکبر خان سے لاتعلقی کا اظہار کرکے انکو شدید ٹھیس پہنچایا جہاں سے نیپ کی قیادت اور اکبر خان میں دوری کا آغاز ہوا۔

سولہ دسمبر کو بنگلہ دیش دنیا کے نقشے پر بحثیت ایک ملک نمودار ہوا اس علیحدگی کے بعد فوجی حکمرانوں نے ملک کی بھاگ دوڑ بھٹو کو سونپ دی لیکن بھٹو دور سے قبل ہی بلوچستان میں دو سیاسی اتحاد کی تشکیل ہوچکی تھی جس میں ایک اتحاد نیپ اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان جبکہ دوسرا اتحاد پی پی پی، مسلم لیگ، پشتون خواہ نیپ اور آزاد اراکین پر مشتمل تھا۔بھٹو نے اقتدار میں آتے ہی نیپ پر پابندی عائد کردی اور ملک کے چاروں صوبوں میں اپنے پارٹی کے لوگوں کو گورنر نامزد کیا۔بلوچستان میں انہوں نے نواب غوث بخش رئیسانی کو گورنر شپ تقویض کردی لیکن اکبر خان نے کوئٹہ میں گورنر کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ کیا لیکن نیپ کی قیادت نے اس مظاہرے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے بگٹی باہنی کا نام دیا جسکی وجہ سے نواب صاحب ایک مرتبہ پھر اپنے دیرینہ ساتھیوں کے ہتھے چڑھ گئے اور دوریوں کا سلسلہ مذید بڑھتا ہی چلا گیا۔

گورنری کے مسئلے پر نیپ اور پی پی پی کے درمیان مذاکرات ہوئے اور مارچ 1972 کو پیپلز پارٹی ، نیپ اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسکی بنیاد پر اپریل 1972 کو میر غوث بخش بزنجو کو گورنر شپ کا عہدہ دیا گیا۔

یکم مئی 1972 کو مینگل کی سربراہی میں صوبائی حکومت تشکیل دی گئی جس میں اکبر خان کے بھائی کو وزیر کی حیثیت سے شامل کرلیا گیا جس سے اکبر بگٹی مشتعل ہوگئے اور اپنے بھائی کو وزارت سے استعفی دینے پر دباؤ ڈالا اس موقع پر کوئٹہ میں سول سیکرٹریٹ میں مظاہرہ کیا گیا اور احمد نواز سے استعفی کا مطالبہ کیا گیا، حکومت نے سختی کرتے ہوئے لوگوں کی کثیر تعداد کو گرفتار کرلیا جس سے حالات بہتری کے بجائے ابتری کی جانب جاتے رہے۔اکبر خان اپنے قریبی ساتھیوں سے دور ہوتے چلے گئے جس کا فائدہ بھٹو جیسے سیاست دانوں کو مل گیا اور انہوں نے بھرپور طریقے سے مینگل حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرکے صرف نو ماہ میں حکومت کا دھڑن تختہ کردیا اور 14 فروری 1973 کو اکبر خان کو صوبے کا نیا گورنر مقرر کیا۔گورنر مقرر ہونے کے بعد انہوں نے بلوچستان میں گورنر راج نافذ کردیا اور صوبے کی بھاگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لی لیکن کچھ عرصے بعد ہی بھٹو کی بلوچ دشمنی کا راز ان پر کھل گیا، صوبے کے معاملات میں انہیں نظر انداز کرکے اسلام آباد سے پالیسیاں ترتیب دی جانے لگی۔ آہستہ آہستہ انکے اختیارات سلب کردئیے گئے اور انکی جگہ جام غلام قادر کو اہمیت دی جانے لگی۔صوبے میں فوجی آپریشن کی وجہ سے اکبر خان تنقید کا نشانہ بنتے رہے جسکی وجہ سے انہوں نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرکے دسمبر 1973 کو عہدے سے سبکدوش ہوگئے۔

پاکستان میں بھٹو حکومت کے بعد ضیا دور کا آغاز ہوا،سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد تھی اور سیاسی عمل بحران کا شکار تھا۔اس دوران بھی اکبر خان نے اخباری بیانات کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلایا، 1985 کے انتخابات غیرجماعتی بنیادوں پر جبکہ 1988 کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوئے۔اس انتخابات میں اکبر خان بی این وائی ایم اور بی ایس او کے اتحاد بی این اے کے سربراہ منتخب کئے گئے اور انتخابات میں اچھی پوزیشن کے باعث انہیں حکومت سازی کے عمل کا حصہ نہیں بنایا گیا اسکے خلاف بی این اے نے سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ملکر سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا جس سے مجبور ہو کر صوبے میں مخلوط حکومت کے قیام کی منظوری دی گئی۔1990 میں اکبر خان نے سیاسی جماعت تشکیل دی اور انتخابات میں نواز لیگ کے ساتھ اتحاد کرکے واضح پوزیشن حاصل کرلی لیکن مسلم لیگ نے دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کو ترجیح دیکر جمہوری وطن پارٹی کو سائیڈ لائن کیا۔ اسی دور میں انکے بیٹے سلالُ بگٹی کو قتل کردیا گیا لیکن حکومت نے قاتلوں کی گرفتاری کے بجائے انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جسکی وجہ سے نواب صاحب سیاست سے دور ہوتے چلے گئے۔ 1993 میں اکبر خان نے بینظیر بھٹو اور فاروق لغاری کو صدارتی انتخابات کے لئے ووٹ دیکر سیاسی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی لیکن حکومت مستحکم ہونے کے بعد پی پی پی نے قبائلی دشمنوں کی سرپرستی شروع کردی، سلالُ بگٹی کے قاتلوں کو بیت المال سے کروڑوں روپے فراہم کرنے کے علاوہ جدید ہتھیار بھی فراہم کئے۔ عدالت سے نامزد سزا یافتہ ملزمان کو سوئی میں آباد کرکے قتل و غارت گری کا مکمل لائسنس فراہم کرکے اکبر خان کی سیاست کو قبائلی دشمنی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا اور انہیں ملکی سیاست سے بے دخل کرکے ڈیرہ بگٹی کے قلعے تک محدود کردیا گیا۔1997 کے انتخابات میں مینگل سرداروں نے ان سے دھوکہ دیا جبکہ 2002 کے انتخاب میں انہوں نے سابقہ غلطیوں کو دہراتے ہوئے مشرف کے وزیر اعلی کے امیدوار کی حمایت کی لیکن اسی عرصے میں اسکی سوچ میں تبدیلی پیدا ہوگئی اور انہوں نے مزاحمتی سیاست کو اپنایا لیکن اپنی زندگی کے آخری ایام تک وہ پارلیمانی سیاست اور مذاکرات سے علیحدہ نہ کرسکے۔مارچ دو ہزار چھ میں انہوں نے آغا شاہد بگٹی کے لئے ورک کرکے اسے کامیاب بنایا۔

زندگی کے آخری ایام:

اکبر خان اپنی زندگی کے آخری ایام میں مزاحمتی سوچ کو اپنا چکے تھے کیونکہ انکی سیاسی اور عام زندگی میں ایسے واقعات رونماء ہوچکے تھے کہ انکے پاس مزاحمت کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔جنوری دو ہزار پانچ کو سوئی میں ڈاکٹر شازیہ خالد ریپ کیس نے اس مزاحمتی سوچ کو مذید تقویت فراہم کی اور انہوں نے اس کا الزام فوج کے حاضر سروس کیپٹن پر لگا کر انکی حوالگی کا مطالبہ کیا لیکن ہٹ دھرم فوج نے سترہ مارچ دو ہزار پانچ کو ڈیرہ بگٹی پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت ستر افراد شہید ہوئے لیکن اس دوران اکبر خان نے اپنے علاقے کو نہیں چھوڑا اور اس دوران بھی مذاکرات اور مصالحت کا ڈھول پٹتا رہا۔ دسمبر دو ہزار پانچ سے لیکر جولائی دو ہزار چھ تک وہ اپنے علاقے میں موجود رہے لیکن جب اسکے اپنے ساتھیوں نے فوج کے ساتھ ملکر انکے ٹھکانوں پر حملہ کروایا تو اکبر خان تراتانی کی پہاڑوں پر چلے گئے،فورسز انکا تعاقب کرکے 23اگست کو تراتانی ٹھکانے کا پتہ چل گیا،وہاں شدید جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ایس ایس جی کمانڈوز غاروں میں اتارے گئے اور اس دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے اکبر خان اپنے کئی ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کر گئے ۔

انکی شہادت کے بعد حکومت ارکان جھوٹ پہ جھوٹ بولتے رہے جب لاش بر آمد ہوئی تو انہیں ورثا کے حوالہ کرنے کے بجائے تابوت میں رکھ کر دفنا دیا گیا کسی کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی ۔ انکی شہادت پر انتظامیہ کو مبارکباد دی گئی اور کئی ملازمین کو ترقیاں دی گئی اسکے بعد انکے مخالفین کو ڈیرہ بگٹی میں بسا کر دہشت گردی کی مکمل اجازت دی گئی۔

مختصر جائزہ:

اکبر خان کی زندگی،سیاسی جدوجہد اور کردار اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں مزاحمت کی راہ کو منتخب کرنے کے بعد ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا نواب اکبر خان واقعی بلوچ قومی لیڈر کہلانے کے لائق ہے یا انکو صرف ایک قبائلی سردار کی صورت میں قبول کرلینا چاہئیے۔یہ حقیقت ہے کہ اکبر خان نے جو تاریخی قربانی دی وہ بلوچ قومی کے آئیڈیل اور بطور قومی ہیرو سامنے آئے ہیں اور آج ہر بلوچ خاص کر نوجوان انہیں اپنا قومی لیڈر تصور کرتے ہیں۔ لیکن کیا حقیقت یہی ہے کہ اکبر خان ایک قومی لیڈر ہے؟ یا حقیقت اسکے برعکس یہ ہے کہ وہ صرف ایک قبیلے کے سردار ہے؟؟

بگٹی صاحب کی شہادت کے بعد بلوچ قومی تحریک ایک نئے جوش و ولولے کے ساتھ نمودار ہوئی لیکن انکے اپنے خاندان کے لوگ تقسیم در تقسیم کا شکار ہوئے اور آپس میں دست و گریباں ہو کر ایک دوسرے کے جان کے دشمن بن گئے، اگر اکبر خان قبائلی مخاصمت کے بجائے اپنے قبائل کو سیاست میں متحرک کرتا تو آج تحریکی صورتحال مختلف نہ ہوتی؟؟

سیاسی لیڈر ایک قومی لیڈر کا روپ اس وقت دھار لیتے ہیں جب وہ اپنے قوم کے خلاف ہونے والی نا انصافیوں کو نزدیک سے دیکھتے ہیں اور مصائب بھری زندگی کا سامنے کرکے ہر استحصالی پالیسیوں کے خلاف عوامی جم غفیر کی سیاسی تربیت کرکے انہیں جدوجہد کے لئے تیار کرتے ہیں اور قومی تحریکوں کا رخ بدل کر عوامی تحریک میں تبدیل کرتے ہیں۔

نواب اکبر خان کی تاریخی جدوجہد اور قربانی واقعی ایک عظیم قربانی ہے جسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ سوال اب بھی اپنے جواب کا منتظر ہے کہ اکبر خان واقعی بلوچ قوم کے رہنماء و رہبر تھے یا صرف ایک قبائلی سردار ؟؟ اس کا فیصلہ آنے والے وقت کرے گا یا وہ شعوری نوجوان جو اپنے گھر بار چھوڑ کر ہزاروں تکلیفیں برداشت کرکے قومی تحریک کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔