ریحان جان تیرا کردار سب سے منفرد – ڈاکٹرجلال بلوچ

85

ریحان جان تیرا کردار سب سے منفرد

تحریر: ڈاکٹرجلال بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

عظیم ہوتے ہیں وہ لوگ جو وقت وحالات کی نزاکت کی جانکاری رکھتے ہوئے انمول کارنامے سرانجام دیتے ہیں۔ ان ہستیوں کے انفرادی کردار اور کارناموں سے ایسی اجتماعی تہذیب کا جنم ہوتا ہے جن پہ نہ صرف آنے والی نسلیں بلکہ حال کے معمار بھی رشک کرتے ہیں۔انسانی تاریخ بھری پڑی ہے تہذیب کے ان بانیوں کے کارناموں سے جو کبھی سپارٹکس کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے، کبھی ویلیم ویلس، کبھی بھگت کا چہرہ لے کے وارد ہوتا ہے تو کبھی چی، کبھی غلام محمدبلوچ اور بالاچ مری کا عکس لیے اپنے عظیم کردار اور کارناموں سے تہذیبِ انسانی کو چار چاند لگادیتے ہیں۔ سماج میں دوران عمل یہ کردار خال خال منفرد نظرآتے ہونگے لیکن سماج کے باسیوں کو وداع کرنے کے بعد جب ان کا کردار پرکھا جاتا ہے تو لب ِ انسانی ہر سُو صدا بلند کرتی ہے کہ یہ تاریخ کے منفردکردار تھے، ہر ایک یہ پکار اٹھتا ہے کہ ان کے کارناموں سے جو ہمالیہ بنا ہے اسے سر کرناانتہائی مشکل امر ہوگا اور اگر کوئی سر بھی کرلے تو سمجھ لینا کہ اس میں انہی عظیم ہستیوں میں سے کسی کی روح سرایت کرچکا ہے۔ایسے کردار اس لیے بھی عظمت کی بلندیوں کو چھوتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف منفرد کارنامہ یا کارنامے سرانجام دیتے ہیں بلکہ اپنے کردار اور عمل سے ایسے مزید کارنامے انجام دینے کے لیے اجتماعی سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں۔

تاریخ انسانی کا مشاہد ہ کیا جائے تو دنیا کے قریباً تما م خطوں میں تہذیب کے ان بانیوں کا کردار ہم دیکھ سکتے ہیں اور اگر ہم بلوچ قوم کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس میں جو ہماری اپنی تاریخ ہونے کے ناطے زیادہ توجہ کا حامل ہے، ایسے بہت سارے عہد ساز کردار نظر آئینگے جواپنے کارناموں کی وجہ سے خصوصی توجہ حاصل کرچکے ہیں۔ ان کرداروں میں قدر مشترک نظرآنے کے باجود یہ کسی حد تک ایک دوسرے سے مکمل عملی کردار نہ سہی پر اپنے کارناموں یا کسی ایک عظیم کارنامے کی وجہ سے اپنی انفرادیت ثابت کرچکے ہیں۔ انہی تاریخ ساز کرداروں میں ایک ہستی شہید ریحان جان بلوچ بھی ہے جس کا وہ عظیم کارنامہ جس میں انہوں نے چائنا سامراج کوایسا سبق سکھایا کہ اگر وہ خطہ بلوچستان پہ اپنی مکمل دسترس حاصل کرناچاہے بھی تو اسے سوبار سوچنا ہوگا۔ شہید ریحان جان بلوچ کے اس کارنامے نے اسے نہ صرف بلوچ سماج بلکہ تمام مظلوموں کے لیے رول ماڈل بنادیا۔

شہید ریحان جان بلوچ کو جسمانی طور پر ہم سے رخصت ہوئے آج ایک سال مکمل ہوگیا۔ گزشتہ سال آج ہی کے دن یعنی 11 اگست 2018ء کوانہوں نے وہ تاریخی کارنامہ سرانجام دیا جس نے انہیں انسانی سماج میں صدیوں کی عمر عطا کی۔۔۔صدیوں زندہ رہنا۔۔۔ ہاں صدیوں کی عمر پانا۔۔۔اس تما م عرصے میں ہرایک کے لیے قابل رشک بننا وہ چاہے کوئی رہنماء ہو جب وہ اپنی قوم کو مخاطب کررہا ہوتو وہ نام ریحان کو پست پشت ڈال نہیں سکتا، کوئی شاعر ہو تو اسے اس بات کی جانکاری ہوتی ہے کہ اس کی شاعری ریحان جان جیسے عظیم ہستیوں پہ نازاں ہوئے بنا مکمل نہیں ہوسکتی، اگر کوئی لکھاری قلم کو جنبش دے تو اس کے قلم کی نوک سے بکھرنے والا نور ایسے عظمت سے سرشار کرداروں کو ہی موضوع بنائے گا، کوئی محقق جب تاریخ ِانسانی کی کھوج لگائے گا تو اس سفر میں وہ ایسے ہی کردار کے حامل افراد کے کارناموں کو کتابوں کی زینت بڑھانے کے لیے تگ و دو کریگا،سماج میں بسیرا کرنے والا کوئی پیر کماش ہو تو وہ بھی اس بات کی جانکاری رکھتا ہے کہ موضوع ِ محفل ایسے کردار ہی ہونگے یا جب کوئی ماں اپنے بچے کو لوری سنائے گی تو وہ گنگنائیگی انہی کرداروں کی شان بڑھانے کے لیے، جیسے بلوچ سماج میں آج بھی بلوچ مائیں جب اپنے بچوں کو لوری سنانے لگتی ہے تو ان کے لبوں پہ یہ گیت ہوتا ہے کہ ”لول کبو، لولی میر علی دوست ءِ۔۔۔۔لمہ تے پارے شہید مرے جواَن ءِ۔۔۔ یا نورا مینگل کو یاد خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بلوچ مائیں اپنے بچوں کو یہ لوری سناتیں ہیں کہ۔۔۔نورا، نورا حمزہ نہ مارے۔۔۔او نورجان کنا حمزہ نہ مارءِ۔۔۔میر علی دوست ہو یا نورا مینگل جو آج بھی شیرخوار بچوں تک کے کانوں میں صداءِ آذان بن کے گونجتی ہیں۔۔۔انہیں تو قوم سے رخصت ہوئے ایک عرصہ بیت چکا ہے لیکن وہ آج بھی ہر آنگن میں زندہ ہیں، وہ زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے فقط اپنے ان کارناموں کی وجہ سے جس سے وطن کی مٹی کی مہک آتی ہے، اپنے ان کارناموں کی وجہ سے جن میں غلامی سے نفرت اور آزادی کی تمناہوں کی صدا تھی۔

ایسے ہی ہوتے ہیں عظیم کردار جنکا ذکر زبان زدِ عام ہوتا ہے جہاں قومی رہنماؤں، ادیبوں، شاعروں، محققین اور سماج کے بزرگوں سے لیکر گھر کے آنگن میں ایک ماں کے لبوں پہ بھی فقط انہی کے نام کا ورد ہوتا ہے۔کیونکہ سماج کے ان تمام طبقوں کو ایسے کردار اپنی روح میں سرایت کرتا نظر آتا ہے وہ خود کو اور اپنی محفلوں کو، زبان سے ادا کیے الفاظ کو ان ہستیوں کے ذکرکے بنا ادھورا محسوس کرتے ہیں۔

شہیدریحان جان بلوچ کا وہ عظیم کارنامہ جہاں یہ ہستی خود کو وطن پہ نچاور کرنے کے لیے کمربستہ ہوتا ہے تو اس کارنامے میں اس وقت مزید انفرادیت آجاتی ہے جب ایک عظیم ماں اپنے بیٹے کو وطن کے عَلم میں لپیٹ کروداع کرتی ہے کہ جا میرے لال میں نے تجھے قوم اور وطن پہ ندر(قربان) کیا، اس میں نکھار اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک عظیم باپ نہ صرف اپنے بیٹے کی تربیت کرکے اس راہ عمل میں قربان کرنے کے لیے رخصت کرتا ہے بلکہ شہید ریحان جان کے اس کارنامے کے دوران جس نے اسے عظمت کا نشان عطاء کیا، شہادت کے وقت تک موبائل فون پہ اس کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔۔۔ عظیم ہوتے ہیں ایسے والدین جن کی بابت ذکر فقط دیو مالائی قصوں کی زینت ہیں۔۔۔ لیکن یہاں تو ایک حقیقت جس کا نظارہ اس دور جدید میں سب دیکھ چکے ہیں کہ کسی انسان کو عرش ِ مولٰا پہ پہنچنے میں والدین کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔۔۔ ریحان جان بلوچ کا کردار کچھ ایسا ہی یا یہ دیگر کرداروں سے کافی منفردجس میں ایک ہی نہیں کہیں ہستیاں عظمت کی بلندیوں کو سرکرتے نظر آتے ہیں۔۔۔ یہ منفرد ہے کہ بلوچ تاریخ میں اب تک کا واحد کردار ہے جو کسی رہنماء کا فرزند ہو اور وہ ایک ایسا کارنامہ سرانجام دینے کا فریضہ ادا کرنے نکل پڑا ہو جہاں سے معیت کے آنے کی امید اپنی جگہ جسم کے کسی عضو کا ملنا بھی محال ہو۔۔۔اور۔۔۔پھر بھی والدین اسے وطن اور قوم کی آجوئی کے لیے نثار کرنے بہ ہنستے مسکراہتے رخصت کرتے ہیں۔ریحان جان بلوچ اس لیے بھی منفرد مقام کا حامل ہے کہ اس کے رخصت ہونے کے کچھ ہی عرصے بعداس کے نقشِ پاء پہ ایک کارواں چل پڑا جن میں شہید رازق جان، شہید وسیم جان، شہید ازل جان، شہید منصب جان، شہید اسد جان، شہید حمل جان، شہید کچکول جان سے لیکر شہید بابر مجید تک خود کو نہ صرف قوم اور وطن پہ قربان کرتے ہیں بلکہ دنیا کے ہر مظلوم کو اپنے عمل سے یہ پیغام بھی پہنچاتے ہیں کہ اگر غلامی کی زنجیروں سے کسی قوم کو آزاد کرنا ہو تو اس کے لیے اس راہ سے بہتر کوئی راستہ نہیں جس کا ہم نے انتخاب کیا ہے۔اسی لیے تو کہتے ہیں کہ ریحان کا کردار اور کارنامہ سب سے منفرد مقام کا حامل ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔