تاریخ کے جننی – برزکوہی

120

تاریخ کے جننی

برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

موجود بلوچ قومی تحریک برائے قومی آزادی جسکا 2000 میں باقاعدہ آغاز ہوا۔ شہید نواب اکبر خان بگٹی و میربالاچ اور شہید غلام محمد کی شہادت سے لیکر صباء دشتیاری و آغا محمود جان سمیت ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندوں و بزرگوں کی شہادت، محنت و مشقت اور قربانیوں کے بدولت تحریک آزادی اس مقام پر پہنچ گیا کہ شاید ہی دنیا میں کوئی اورتحریک اتنی کم عمرمیں اتنی جلدی اس مقام پر پہنچ سکا ہو۔ دنیا کی آنکھوں میں آنا، عالمی سطح پراجاگر ہونا، پاکستان کے لیئے درد سربن جانا اور خصوصاً بلوچ قوم میں قومی وقار، قومی احساس، قومی پرستی کی حقیقی معیار اور ابھار کو زندہ رکھنے کے ساتھ برادر اقوام سندھی و پشتون اقوام کو بھی انسپائر کرنا سب موجودہ بلوچ قومی جنگ برائے آزادی کی مرہون منت ہے۔

میں کوئی تاریخ دان اور مورخ نہیں بلکہ ایک ادنیٰ لکھاری کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ مورِخ جب بھی صفحہ قرطاس پرروشنائی اتارے گا تو یہ بھی ضرور لکھے گا کہ 2010 سے بلوچ قومی تحریک میں سطحی بچگانہ پن، ضد و ہٹ دھرمی، انا، خود غرضی، جنگی منافع خوری، بیوروکریٹک سوچ، مصنوعی تضادات اورخاص طور پر سوشل میڈیا میں گند آلود کج بحثی، گالم گلوچ، الزمات، منفی پروپگنڈوں سمیت بی ایل اے اور یوبی اے کی آپسی ذاتی جنگ، بے گناہ بلوچوں کی نسل کشی وغیرہ کی وجہ سے قومی تحریک واپس دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوکرعلاقائی ایشو بن گیا، دشمن کے لیئے درد سر بننے کے بجائے ہنسی و مذاق بن گیا اور بلوچ قوم میں مایوسی، بدظنی، الجھن، تحریک سے بیگانگی سے لیکر سرمچاروں کی دشمن کے سامنے سرنڈر تک کی نوبت تک پہنچ گیا، ہر طرف بلوچستان اور دنیا کے کونے کونے میں یہ تاثر پختہ یقین بن گیا کہ بلوچ قومی آزادی کی جنگ اب دم توڑ چکی ہے بلکہ بلوچ سماج واپس غلامی کی زنجیروں میں مدہوش ہوکر غلامی سے لطف اندوز ہونا شروع ہوگیا۔

دشمن بھی رفتہ رفتہ اپنی کامیابی و کامرانی کی خوشی میں بغلیں بجانا شروع ہوگیا تھا۔ جہدکاروں سے لیکر رہنماوں تک سب اس سوچ میں تھے کہ کیسے اور کس طرح ناامیدی کو امید میں، خوف کو بہادری میں، پست حوصلوں کو حوصلہ مندی میں بدل کر دشمن کو باور کرایا جائے کہ بلوچ قوم اور بلوچ قومی تحریک ابھی بھی زندہ ہے اور دنیا کو بھی یقین ہو کہ بلوچ اس مرتبہ قومی آزادی کی حصول تک لڑتے رہینگے۔

جب ارتقاء یا انقلاب کا پہیہ رکاوٹوں میں پھنس کرآگے نہیں بڑھ پاتا ہے اور لڑکھنا بند کرتا ہے تو اسے ایک جست کی ضرورت پڑتی ہے، ایک زور دار دھکا، یہ جِست عموماً قربانی و خون سے عبارت ہوتی ہے اور جب بلوچ قومی تحریک کے پہیئے کو ایک جِست کی ضرورت پڑی تویہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں رہی کہ یہ خونی جِست اسی خانوادے سے آئی جس نے بلوچوں کی ہزاروں سالہ تاریخ کے عظیم ترین جنرل کو جنا، وہ خانوادہ جہاں مائیں قتل گاہوں میں بَلی چڑھانے کیلئے اولاد جَن کر پالتے ہیں۔ جی! تحریک کے پہیئے کو آگے بڑھانے والا اسی عظیم جنرل اور اور عظیم ماں کا بیٹا ریحان تھا۔

اس انقلابی قدم و عمل میں بلوچ لیجنڈ ریحان جان ایک سال قبل یعنی آج کے دن گیارہ اگست کو اپنا لہو گلستان کے نظر کرکے پیش پیش رہا، گوکہ فیصلہ ریحان کا اپنا تھا، مگر تربیت، ہمت، اجازت و حوصلہ افزائی بی ایل اے کے سربراہ اور ریحان جان کے والد جنرل اسلم بلوچ اور والدہ لمہ یاسمین کی تھی، جنہوں نے اپنے بہادری، مخلصی، قوم دوستی، وطن دوستی سے بلوچ قومی تحریک کو قحط الرجال سے نکال کر سدابہار کردیا اور خود ریحان، اسلم اور لمہ یاسمین آج تاریخ بن گئے۔
ریحان نے خاموشی کے ساتھ وہ کام کیا، جس کی اہمیت جیسے جیسے وقت گذرتا جائیگا ویسے ویسے واضح ہوتا جائیگا۔ آج سے ایک دہائی بعد جب موجودہ تحریک کا جائزہ لیا جائیگا تو اسے دو مراحل میں بانٹا جائیگا۔ قبل از ریحان اور بعد از ریحان، کیونکہ جس وقت ریحان نے قربانی دی وہ ایک ایسا وقت تھا بلوچ تحریک مسلسل ایک طرح کے حملے دشمن کے خلاف کررہی تھی، جس کے خلاف دشمن اپنا دفاع مضبوط کررہا تھا اور بلوچ سرمچاروں کے خلاف اپنے حملوں میں تیزی لاچکا تھا دوسری طرف ذاتی اختلافات کی وجہ سے بلوچ تنظیمیں شکست و ریخت کا شکار ہورہے تھے، یہ وہ لمحہ تھا یا تو بلوچ تحریک میں تبدیلی لاکر دشمن کو بوکھلاہٹ کا شکار کرکے تحریک کو مضبوط کرنا تھا یا پھر انتظار میں بیٹھ کر روز تحریک کے شکست و ریخت دیکھتے۔ ریحان نے قربان ہوکر تحریک کا دھارا بدل دیا اور اسکے بعد جو کچھ ہوا، وہ ہمارے سامنے ہے، اب تحریک میں جو نئی روایات جنم لے چکے ہیں، آگے یہ روایات تحریک میں کیا مثبت تبدیلیاں لائیں گے وہ بھی ہم دیکھیں گے اور جیسے جیسے وقت گذرے گا ریحان کی شہادت کی اہمیت اور جنرل اسلم کے مدبرانہ فیصلوں کی حکمت اتنی ہی شد ومد سے ہمارے سامنے عیاں ہوتی رہے گی اور بلوچ تحریک بعد از ریحان کامیابیوں سے عبارت دیکھی جائیگی۔

اس تاریخی حقیقت سے شاید کوئی بغض و حسد، عدم برداشت، ضد و انا، کم علمی، کم شعوری، بدنیتی اور نادانی میں انکار کرکے سوج کو انگلی سے چھپانے کی کوش کرے، مگر میں ایک بار پھر کہتا ہوں تاریخ دان اور مورخ یہ حقیقت ضرور لکھے گا اور لکھ رہا ہوگا۔

شہید ریحان شہید اسلم اور لمہ یاسمین کی جرئت، قربانی، ایمانداری اور خلوص کے بعد جس طرح بلوچ قوم خاص طور پر بلوچ نوجوانوں میں واپس قومی آزادی کی سوچ، قربانی، جذبہ و احساس اور شعور زندہ ہوا، آج وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

تحاریک کی تاریخ میں ہمیں ایسے کئی رہنمایانہ کردار ملتے ہیں جو اپنے تحریکوں کو صحراؤں سے نکال کر نخلستانوں میں لے جاتے ہیں، اسلم کا کردار بھی ان کرداروں میں سے ایک ہے۔ قومی جنگوں کو معمولی یا غیر معمولی فیصلے بھی نیست و نابود کردیتے ہیں اور معمولی یا غیر معمولی فیصلے زندہ اور کامیاب کرتے ہیں۔ اب یہ فیصلے کیا ہونگے؟ کیسے ہونگے اور کب ہونگے؟ اور کون کریگا؟ یہ حقیقی لیڈر ہوتے ہیں، یہ ان کی ذمہ داری اور کام ہوتا ہے۔ بلوچ قومی تحریک میں ایک نئی روح پھونک کر اسے کامیابی کے ڈگر پر گامزن کرانے میں یقیناً شہید جنرل اسلم بلوچ کی قائدانہ فیصلوں سے انکار کرنا اب ممکن نہیں۔

تحریک آزادی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی خاطر مزید فیصلوں کی اشد ضرورت ہے، پھر وہ تاج کس کے سرپر سجے گا یہ مستقبل بتائیگا اور تاریخ بتا دےگا، جنگ جاری ہے اور جاری رہیگا، یہ جنگ ایک تاریخی دور سے گذر رہا ہے، ہر ایک کے لیئے تاریخی مواقع دستیاب ہیں، صرف جاننے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی قوت کی ضرورت ہے۔

ریحان، اسلم یا اماں یاسمین فرد نہیں بلکہ تاریخ ہیں، یہ صفحہ نہیں کتاب ہیں، یہ لوری نہیں رزم ہیں، یہ زندگی نہیں زمانہ جیتے ہیں اور اولاد نہیں تاریخ جنتے ہیں۔ یہ تاریخ کے نہیں بلکہ اپنی خوشنامی کیلئے تاریخ انکا محتاج ہے، یہ تاریخ کے مالک ہیں، رکھوالے ہیں بلکہ خود ہی اتہاس ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔