بلوچ تحریک کو سائنسی بنیادوں پہ منظم کرنے کی ضرورت ہے – نائلہ قادری

144

ورلڈ بلوچ ویمنز فورم کی سربراہ نائلہ قادری بلوچ نیشنل لیگ میں شامل ہوگئی۔

 نائلہ قادری نے کہا کہ دو ہزار  کی دہائی کی تحریک کو آج کے زمینی و عالمی  ضروریات کے حوالے سے دوبارہ منظم کرنے کا وقت آ چکا ہے، اس وقت پیدا ہونے والے بلوچ بچے جوان ہو چکے ہیں جنہیں سیاسی اداروں میں تربیت حاصل کرنے اور آزاد بلوچ وطن کی جدوجہد کی رہنمائی کرنے کا پورا حق حاصل ہونا چاہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ محنت کشوں، ماہی گیروں ، کسانوں ، دکانداروں خواتین سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بلوچوں نے تحریک آزادی کے لیے قربانی دی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ تحریک آزادی کو روایتی ڈگر اور جذباتی نعروں کی بجائے بین الاقوامی سیاست کی رخ کو سمجھ کر جدوجہد کے راستے کا تعین کرنا ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ مسلح محاذ کے ساتھیوں نے بروقت فیصلہ کر لیا اور متحدہ کمان تشکیل دے دی لیکن بلوچستان کے گاوں ، شہروں اور بیرون ملک بسنے والے سرفیس اور پرامن جدوجہد کرنے والوں کو منظم و متحد کرنے،سماجی تبدیلی کی سائنسی بنیادوں پرانقلاب کے لئے تیار کرنے اور جدوجہد کے تمام شکلوں کا ارتباط و مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کا عمل جمود کا شکار ہے ۔

نائلہ قادری نے  کہا کہ اپنے تاریخی نام کی طرح بلوچ نیشنل لیگ بلوچ عوام کی آواز بننے کا تاریخی کردار ادا کرے گی ، اور ہمیں بین الاقوامی سطح پر دیگر مظلوم اقوام ومحکوم طبقات اور انسانی حقوق کے تنظیموں کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر ریاستی بربریت ، مذہبی شدت پسندی ، جنگی منافع خوری، نسلی منافرت، قومی، طبقاتی و صنفی جبرکے خاتمے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

 نائلہ قادری نے تقسیم شدہ بلوچستان کے تینوں حصوں کے بلوچوں اور دنیا بھر میں بکھرے ہوئے بلوچوں کو بلوچ نیشنل لیگ میں شامل ہونے کی دعوت دی اور امید ظاہر کی کہ جلد از جلد لیگ کا کونسل سیشن بلا کر آئین کی منظوری لی جائے گی۔

دوسری جانب بلوچ نیشنل لیگ کے آرگنائزر ڈاکٹر علی اکبر بلوچ نے امید ظاہر کی کہ نائلہ قادری کی بی این ایل میں شمولیت سے ان کی سیاسی تجربات سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ  بلوچ خواتین کو قومی و بین الاقوامی سیاست میں کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔