مستونگ : گرلز اسکولوں میں وائرس پہ حکومتی عدم توجہ تشویشناک ہے- بی ایس اے سی

36

لوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں مستونگ کے طالب علموں میں الرجی کی وبا پھیلنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشستہ دو ہفتوں سے مستونگ کے اسکولوں میں الرجی کی وبا ء سے طلبا و طالبات شدید متاثر ہوئے ہیں لیکن حکومتی سطح پر اس وبا کو کنٹرول کرنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے الرجی کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہیں۔روزانہ کی بنیاد پر اس وبا سے متاثرہ طالب علموں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے جو حکومتی عدم توجہی کو عیاں کرتی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ حکومتی عدم توجہی اور غیر ذمہ دارانہ افعال کی وجہ سے اسکولوں میں طلبا ء و طالبات کی کثیر تعداد حاضر ہونے سے قاصر ہے جس سے ان بچوں کا تعلیمی مستقبل اور تعلیمی نظام شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی لحاظ سے بلوچستان ایک پسماندہ صوبے کی حیثیت رکھتا ہے جہاں ایک طرف تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہے اور دوسری جانب اسکولوں اور کالجز میں تعلیمی سہولتیں میسر نہیں ہے جسکی وجہ سے پورا تعلیمی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور شرح خواندگی کے لحاظ سے بلوچستان آخری نمبر پر موجود ہیں جو حکام بالا کی غیر سنجیدگی کا واضح اظہار ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ الرجی کی وبا ء سے علاقہ مکین تشویش کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے سے قاصر ہیں اور حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے پورا ضلع متاثر ہوسکتا ہے۔

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ صوبہ بلوچستان میں طالبات کو تعلیمی اداروں سے دور رکھنے کے لئے اس سے قبل بھی متعدد واقعات رونما ء ہوچکے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الرجی کی وباء کو پھیلا کر طالبات کو تعلیمی اداروں سے دور رکھنے کی سازش کی جارہی ہیں حکام بالا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مستونگ کے اسکولوں میں پھیلنے والی الرجی کی وبا ء کی تحقیقات کرائیں اور اس وبا ء کو پھیلانے والے عناصر کا قلع قمع کرکے طالبات و انکے والدین کو خوف سے نجات دلانے میں کردار ادا کیا جائے