بلوچ قوم نے پاکستان کے قبضے کو پہلے دن ہی چیلنج کرکے مزاحمت کا آغاز کیا – خلیل بلوچ

52

آج بلوچ قومی تحریک شخصی انحصار کے بجائے پارٹی اور تنظیمی شکل میں اپنے منزل کی جانب روان ہے۔ وہ دن دور نہیں جب بلوچ دہشت گرد ریاست پاکستان سے مکمل نجات حاصل کریں گے ۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے ستائیس مارچ کے موقعے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ 27 مارچ 1948 کوپاکستانی قبضے سے بلوچ قوم دوسوبیاسی سالہ ریاست سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ برطانیہ کی تخلیق اورمغرب کے مفادات کی چوکیدار پاکستان نے ستائیس مارچ کے سیاہ دن ہماری عظیم وطن پر قبضہ کرکے اسے اپنی کالونی تبدیل کیا ۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ ستائیس مارچ ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتا ہے ۔ جب برطانیہ کے افغانستان پرحملہ آور فوج پر بلوچ قبائل نے پے درپے حملے کئے تو برطانیہ کو احساس ہوگیا کہ بلوچستان کو اپنے زیر نگین لائے بغیر اس خطے میں اس کا اثرو رسوخ ایک خواب ہی رہے تو جنرل ولشائر کی قیادت میں انگریز لشکر نے 13 نومبر 1839 کو ریاست قلات کے مرکز میری قلات پرحملہ کیا۔ اپنے سے کئی گنا بڑے طاقت کے سامنے سرتسلیم خم ہونے کے بجائے سینہ سپر ہوکرخان میر محراب خان اپنی سپاہ کے ساتھ تاریخی معرکے میں جام شہادت نوش کرکے امر ہوگئے ۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی قبضہ اکثرصورتوں میں معاہداتی اور سازشی تھا لیکن انگریزوں نے ہمیشہ بلوچ اقتدار اعلیٰ کا لحاظ رکھا۔ ہندوستان پر قبضے کے پورے دورانیے میں برطانیہ خان قلات کو بلوچستان کا جائز اور قانونی حکمران مانتے تھے۔ 1841, 1854,1862, 1863 کے تاریخی معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا رابرٹ سنڈیمن جب یہاں تعینات ہوئے تو انہوں نے فاروڈ پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سرداروں اور خان قلات کے درمیان اختلافات سے فائدہ اٹھا کر ایک جانب خان سے ان کا تصفیہ کرایا تو دوسری جانب انہیں برطانوی ہند کا ماتحت بنالیا۔افغانستان اور ایران پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے لئے برطانوی ہند کے سرحدوں کووسعت دینے کے لئے معاہدات کے ذریعے کوئٹہ، بولان، نوشکی، چاغی اور نصیرآباد کی نیابتیں اجارہ پرخان قلات سے حاصل کئے۔ 21 فروری 1877 کو خان قلات سے ہی اجارہ پر لی گئی کوئٹہ سمیت چند علاقوں کو ملاکر بلوچستان ایجنسی کا قیام عمل میں لایاگیا۔ اس کے بعد افغان حکمران سے 26 مئی 1879 کو گنڈمک معاہدہ کے ذریعے چھینے گئے پشتون علاقوں کو بھی بلوچستان ایجنسی کیساتھ ملا کر 18 نومبر 1887 کو برٹش بلوچستان قائم کیا گیا۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ بلوچ حاکم خان قلات کی عاقبت نااندیشی اورسرداروں کی ریشہ دوانیوں سے مشرقی بلوچستان کے بڑے حصے برطانیہ نے برٹش بلوچستان میں شامل کرلیا اور مختلف کمیشنوں کے ذریعے بلوچستان کو تقسیم سے دوچار کیا گیا۔ خان قلات نے قانونی راہ اپناکر محمد علی جناح کو اپنا وکیل مقرر کیا تاکہ برٹش بلوچستان میں شامل علاقوں کو واگزار کیاجائے لیکن یہی ریاست قلات کاتنخواہ دار وکیل بلوچستان پر قبضے کا مہرہ ثابت ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جہلاوان، سراوان، لسبیلہ، مکران، کوہ سلیمان، کچھی، خاران سمیت برٹش بلوچستان میں شامل تمام علاقے ملاکر ریاست قلات سے الگ نہیں بلکہ ریاست کا حصہ تھے۔ جب برطانیہ نے ہندوستان سے انخلاء کا فیصلہ کیااور ہندوستان میں اقتدار کی منتقل کے لئے کیبنٹ مشن ہندوستان آئے تو ریاست قلات کے وکیل مسٹرجناح نے قلات سے اجارہ پرحاصل کی ہوئی برٹش بلوچستان کے بلوچ علاقوں کو واپس ریاست قلات کے حوالے کرنیکا مقدمہ ان کے سامنے رکھا لیکن برطانیہ اس خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ایک چوکیدار ریاست بنانے کا فیصلہ کرچکے تھے اور اس غر ض کے لئے محمدعلی جناح کارگر مہرہ ثابت ہوئے۔ برطانیہ جانتا تھا کہ بلوچستان کے بغیر پاکستان کی کوئی حیثیت نہیں رہے گا تو پہلے مرحلے پر برٹش بلوچستان کوپاکستان بنانے کے لئے سازشوں کا آغاز ہوا اور برٹش بلوچستان کے مقدر کا فیصلہ میونسپل کمیٹی کو دے گیا۔ مگر ستم ظریفی تو یہ ہے کہ برٹش بلوچستان کے قانون سازاسمبلی کے رکن محمدخان جوگیزئی کے اس اعلان کو کافی سمجھا گیا کہ وہ پاکستان کے آئین ساز اسمبلی میں شرکت کررہے ہیں اور اسی کو برٹش بلوچستان کا پاکستان میں شمولیت کا جواز بنایاگیا۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ لسبیلہ، خاران اورمکران ریاست قلات کا عملی حصہ تھے اور اس کے تاریخی ثبوت و دستاویز موجود ہیں۔ 1876 مستونگ معاہدے کے دوران لسبیلہ، سراوان، جہلاوان اورخاران کے سرداروں کی تقریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ الگ نہیں ریاست قلات کا حصہ تھے۔ تقسیم ہند اور بلوچستان کی آزادی کے وقت جام لسبیلہ اور نواب خاران نے کوشش ضرور کی تھی کہ وہ قلات کا حصہ نہیں بنیں گے لیکن ان کا یہ موقف برطانیہ نے بھی مسترد کیاتھا۔ 04 اگست 1947 کو دہلی میں وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی صدارت میں خان قلات،اس کے قانونی مشیر اور مسلم لیگی قیادت کاایک اجلاس ہوا جس میں خان قلات نے برٹش بلوچستان میں شامل اجارہ پر لئے گئے بلوچ علاقوں کی ریاست قلات کو واپس کرنے کا اپنا دعویٰ پیش کیا۔ اس میں یہ اجارہ پر لئے گئے علاقوں کا مسئلہ حل نہ ہوا لیکن وائسرائے ہندوستان اور مسلم لیگی قیادت دونوں بلوچستان کی آزادی پر متفق ہوئے اور متنازعہ معاملات پر مزید بات چیت پر اتفاق کیا گیا اور ایک معاہد ہ بھی ہوا جسے معاہدہ جاریہ کہا جاتاہے ۔

انہوں نے کہا کہ 11 اگست 1947 کو خان قلات نے برطانیہ سے مکمل آزادی کااعلان کردیا۔ ایوان زیرین و ایوان بالا پر مشتمل پارلیمان وجود میں لایا گیا۔ جب 14اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا تو قلات کے نمائندے برٹش بلوچستان کی واپسی کے معاملے پر مزید مذاکرات کیلئے جب پاکستان کے دارالحکومت کراچی گئے تو یہیں سے جناح نے ریاست قلات کو پاکستان میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا اور خان قلات سے بالا بالا خفیہ طور جام غلام قادر اور نواب حبیب اللہ جناح سے ملاقات کرچکے تھے اورالحاق کے لئے رضامندی ظاہر کرچکے تھے۔ مگر پہلے تو اسی محمدعلی جناح نے ان کا پیشکش قبول کرنے سے کیا تھا کیونکہ یہ دونوں ریاستیں قلات کا حصہ تھے۔ 15 فروری 1948 کوسبی دربارسے خطاب کے موقع پر ڈھاڈر میں جناح نے خان قلات سے ریاست قلات کو پاکستان میں شامل کرنیکا اپنا مطالبہ دہرایا اور خان قلات نے بلوچ پارلیمنٹ کے وجود میں آنے کے بعد اپنی بے اختیاری کا اظہار کیا۔ 21 فروری 1948 کو قلات پارلیمنٹ نے الحاق کو دوبارہ مسترد کیا گیا، جس سے مایوس ہوکر جناح نے یہ معاملہ پاکستانی دفترخارجہ کے حوالے کیا۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ یہاں سے محمد علی جناح نے اپنے موقف سے انحراف کرکے 17 مارچ 1948 کو جام لسبیلہ میر غلام قادر، نواب کیچ میر بائی خان گچکی اور نواب خاران میر حبیب اللہ نوشیروانی کی غیرآئینی، غیرجمہوری اورغیرقانونی طورپر ان ریاستوں کا الحاق پاکستان کے ساتھ پیشکش قبول کرکے بلوچستان پر قبضے کی راہ ہموار کیا۔ اس غیر قانونی عمل کے خلاف خان قلات کے احتجاج کو بھی مسترد کیا گیا اور 26 مارچ 1948 کو پاکستانی بری اور بحری افواج کو اورماڑہ، پسنی، جیونی اور کیچ روانہ کر دیا گیااورکوئٹہ سے بری فوج قلات میں داخل ہوا۔ یوں 27 مارچ کو بلوچستان پر مکمل قبضہ کرلیا گیا اوربلوچستان اپنی صدیوں کی شناخت،اقتداراعلیٰ اور ریاست سے محروم کیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم نے پاکستان کے قبضے کو پہلے دن ہی چیلنج کیا اور مزاحمت کا آغاز کیا۔ وہی مزاحمت ایک منظم تحریک کی صورت میں بین الاقوامی میدان میں یہ بات منوانے میں کامیاب ہوچکا ہے کہ بلوچستان ایک مقبوضہ خطہ ہے۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا اپنے مادروطن کی آزادی کے لئے بلوچ قوم نے تاریخی قربانیاں پیش کی ہیں اور قربانیوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آج بلوچ قومی تحریک شخصی انحصار کے بجائے پارٹی اور تنظیمی شکل میں اپنے منزل کی جانب روان ہے۔ وہ دن دور نہیں جب بلوچ دہشت گرد ریاست پاکستان سے مکمل نجات حاصل کریں گے ۔