کابل حملے کی ذمہ داری طالبان شدت پسندوں نے قبول کرلی

80

گذشتہ رات کابل کے گرین ولیج میں ہونے والے دھماکے اور بعد میں فائرنگ سے 4 افراد جانبحق جبکہ 113 زخمی ہوئیں ۔

دی بلوچستان پوسٹ نمائندہ کابل کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ رات کابل کے نواحی علاقے پل چرغی میں واقع گرین ولیج میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری طالبان شدت پسندوں نے قبول کرلی ۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ان کے پانچ شدت پسندوں جن میں معتصم لوگری، طلحہ پکتیاوال، حمد اللہ زابلی، اکرام کنڑی اور زبیر لوگری نے خارجی فورسز کے کمپاونڈ پر حملہ کیا ۔

ترجمان کے بقول حملے میں متعدد بیرونی فورسز کے اہلکار مارے گئے ، تاہم آزاد زرائع سے طالبان ترجمان کی ان دعووں کی تصدیق نہ ہوسکی ۔

واضح رہے کہ گذشتہ رات شہری آبادی میں ہونے والےحملے میں افغان وزارت صحت کے اعلامیہ کے مطابق 4 افراد جانبحق جن میں تین سیکیورٹی اہلکار اور ایک شہری شامل ہے جبکہ خواتین و بچوں سمیت 113 افراد زخمی ہوئیں ۔

یاد رہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب طالبان کے ایک سرکردہ رہنما نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ رک گیا ہے ۔

طالبان کے ایک سینیر عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عالمی نشریاتی ادارے  کو بتایا کہ بات چیت کا عمل اس وقت رکا ہوا ہے اور یہ معلوم نہیں ہے کہ اگلی ملاقات کب اور کہاں ہو گی۔

طالبان نے واشنگٹن پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ اسلامی ملکوں کے ذریعے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ پراپیگنڈے کے مقصد سے بات چیت کی تفصیلات میڈیا کو لیک کر رہا ہے۔

پشتو زبان میں جاری ہونے والے طالبان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی بھی مسئلے پر معاہدہ نہیں کر سکتے جب تک افغانستان پر غیر ملکی تسلط موجود ہے۔

سن 2018 افغانستان کے لیے مہلک ترین سال ثابت ہوا ہے جس دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد شام اور یمن کی خانہ جنگی کی مجموعی ہلاکتوں سے بڑھ گئی ہے۔

مسلح تنازعات کے مقام اور واقعات کے اعداد و شمار اکھٹے کرنے والے ایک غیر سرکاری گروپ اے سی ایل ای ڈی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال تک افغانستان میں جنگ کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 43 ہزار 574 تک پہنچ گئی جس میں سے 30 فی صد ہلاکتیں 2018 کے دوران ہوئیں۔

افغانستان کی جنگ امریکہ کی سمندر پار لڑی جانے والی طویل ترین جنگ ہے جس پر واشنگٹن اب تک ایک ٹریلین ڈالر کے لگ بھگ خرچ کر چکا ہے اور اس دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔

طالبان عہدے دار نے اس بارے میں بتانے سے انکار کیا کہ کن وجوہات کے باعث بات چیت میں تعطل پیدا ہوا ہے۔