14.3 C
Quetta
Tuesday, October 23, 2018

عالمی قوانین، کچکول ایڈوکیٹ کے موقف کے تناظر میں – برزکوہی

168

عالمی قوانین، کچکول ایڈوکیٹ کے موقف کے تناظر میں

برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

شروع دن سے لیکر آج تک بلوچ قومی آزادی کی جنگ مکمل اور من وعن عالمی قوانین کے تحت جاری و ساری ہے، اس میں کوئی تضاد اور دورائے نہیں ہے۔ کوئی لاکھ من گھڑت دلیلیں اور تاویلیں انسانیت، مسلمانیت، انسانی حقوق، روایات، مذہب، بیرونی مداخلت و ایجنڈے وغیرہ کی پیش کرے، وہ تمام کے تمام پاکستان دشمن کی من گھڑت پروپگنڈوں، مفاد پرستی، خوف و مصلحت پسندی، بزدلی، شکست و ریخت، کم عقلی، لاعلمی، لاشعوری، جھوٹ و فریب دھوکا دہی اور منافقت کو جواز فراہم کرنے کی حربے اور بہانے ہیں۔

بلوچ دانشور اور ماہر قانون کچکول علی ایڈوکیٹ صاحب اپنے ایک حالیہ الیکٹرانک چینل انٹرویو میں عالمی قوانین کی روشنی میں واضح طور پر کہتا ہے کہ دنیا کے وہ تمام ممالک جو جنرل اسمبلی اور سیکورٹی کونسل کے ممبر ہیں، وہ عالمی قوانین کے رو کے مطابق برائے راست بلوچستان میں مداخلت کریں، بجائے تماشائی بننے کے اور سیکورٹی کونسل میں شامل ممالک ممبران کی سیاسی، سفارتی، انسانی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا فرض پورا کریں۔ جس طرح بنگلہ دیش میں بھارت دیدہ دلیری سے بنگال میں برائے راست مداخلت کرکے بنگالیوں کا پاکستان سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوا تھا۔ اسی طرح عالمی قوانین کے تحت دنیا کے پاس بلوچستان میں برائے راست مداخلت کے ٹھوس جواز اور حقائق موجود ہیں۔ انہوں نے 4 جواز یا جرائم کا ذکر اور وضاحت کی جو کہ پاکستان، بلوچستان میں ان چاروں جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔ لہٰذا دنیا کو برائے راست مداخلت کرنا چاہیئے۔

یعنی عالمی قوانین کے مطابق سیکورٹی کونسل کے آرٹیکل 5 میں 4 جرائم کا باقاعدہ ذکر ہے کہ کوئی بھی ریاست کسی بھی قوم کے ساتھ ان جرائم کا مرتکب ہوگا تو سیکورٹی کونسل کے ممبر ممالک باقآعدہ مداخلت کرسکتے ہیں۔
1۔ نسل کشی
2۔ انسانیت کے خلاف جرائم
3۔ نسلی جرائم
4۔ جنگی جرائم

اسی رو سے ” بلیو واٹر تھیسس” اور ” سالٹ واٹر تھیسس” بھی ہماری بحثیت بلوچ قوم و قومی آزادی کو مکمل سپورٹ کرتا ہے۔ تو دنیا کیوں بلوچستان میں مداخلت کرے اور بلوچ قوم اور بلوچ قومی تحریک برائے قومی آزادی کو مکمل سیاسی معاشی انسانی اور اخلاقی طور پر کھلم کھلا مدد و کمک کیوں کرے؟ جواذ اور دلیل کیا ہے؟ تو جواب میں سادہ سیدھا اور واضح انداز میں عالمی قوانین کے آرٹیکل 5 میں یہ چار جواز موجود ہیں جن کا ذکر ہوگیا۔

بلوچستان میں بلوچ قوم کے ساتھ پاکستانی فوج اور پاکستان کی خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور آئی ایم آئی اور بشمول ریاستی تشکیل کردہ سول وردی میں ملیشیاء جس کو ڈیتھ اسکواڈ کہتے ہیں ان کے ہاتھوں برائے راست ایک دن نہیں بلکہ روزانہ کی بنیادوں پر بلوچستان کے مخلتف علاقوں میں بلوچوں کے خلاف ان چاروں جرائم کا تسلسل کے ساتھ مرتکب ہورہے ہیں۔ بلوچ سول آبادیوں پر پاکستانی فوجی ہیلی کاپٹروں، گن شپ کوبرا ہیلی کاپٹروں، جیٹ طیاروں، ٹینک، توپوں سے بمباری و شیلنگ تسلسل سے جاری ہے۔ بلوچستان کے علاقے کوہلو، کاہان، بولان، خاران، نوشکی، قلات، مکران، ڈیرہ بگٹی، آواران، مشکے اور دیگر علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر کئی بلوچ خواتین معصوم بچے، نوجوان اور بزرگ ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں کی بمباری کا ٹارگٹ ہوکر شہید ہورہے ہیں اور ان کے ثبوت بھی سامنے آچکے ہیں۔ ایک دن میں کئی بلوچ خواتین اور بچے ریاستی اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہورہے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں ٹارچر سیلوں میں اب بھی موجود ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ بلوچوں کو بغیر عدالت ماوائے قانون خفیہ طور پر شہید کرکے ان کے لاشوں پر تیزاب اور دیگر کیمیائی مواد چھڑک کر ان کو جنگلوں ویرانوں اور پہاڑوں میں پھینک چکے ہیں۔ کئی لاپتہ بلوچوں کے جسموں کے مختلف اعضاء کاٹ کر لاشوں کو مکمل مسخ کرکے ویرانوں میں پھینک دیا گیا ہے اور تو چھوڑیں صرف 2014 میں بلوچستان کے علاقے خضدار توتک سے بلوچوں کا اجتماعی قبر دریافت ہوا، جہاں سے لگ بھگ بلوچوں کے ڈیڑھ سو کے قریب لاشیں برآمد ہوئے لیکن باقیوں کو چھپایا گیا۔ آج بھی وہاں ہزاروں کی تعداد میں زیر زمین لاشیں موجود ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اجتماعی قبر موجود ہیں لیکن کسی کو خاص جگہوں کا پتہ نہیں۔ اس کا واضح ثبوت کئی لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے بعد ان کے زبانی اس حقیقت کا سامنے آنا ہے کہ ہم پورے 1 یا 2 سال 12 گھنٹے اجتماعی قبریں تیار کرتے تھے۔ بلوچستان کے مختلف دور دراذ علاقوں میں یعنی رات کی تاریکی میں، آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ کر ہمیں لیجاتے تھے، ہم سالہا سال اجتماعی قبروں کی کہدائی کرتے۔ وہ اجتماعی قبریں کہاں اور کس جگہ پر ہیں ؟ کسی کو پتہ نہیں۔

اسی طرح پورے بلوچستان میں دیہی و پہاڑی علاقوں میں بسنے والے لاکھوں کی تعداد میں بلوچوں پر مسلسل فوجی آپریشن، بمباری، چھاپے، اغواء، گرفتاری، دھونس و دھمکی کے ذریعے ان میں خوف و ہراس پھیلا کر ان کو بزور طاقت بلوچستان بدر کررہے ہیں۔ آج لاکھوں کی تعداد میں بلوچ خاندان، بلوچ مہاجرین کی شکل میں ایران، افغانستان، سندھ میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ بلوچ سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں، طالب علموں، ڈاکٹر، وکیلوں، انجنیئروں، صحافیوں کو دن دھاڑے قتل کرنا اور اغواء کرکے غائب کرنا آج روزانہ کا معمول بن چکا ہے۔

انتہائی مختصر حدتک پاکستان کے بلوچوں کے خلاف جرائم کو بیان کرنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کیا سول آبادی کو گن شپ ہیلی کاپٹر، جیٹ طیاروں، ٹینکوں اور توپوں سے نشانہ بنانا جرائم کے زمرے میں شمار نہیں ہوتا ہے؟ کیا کسی جنگی قیدی کو جنگی قیدی قرار دینے کے بجائے اس کے مسخ شدہ لاش ویرانے میں پھینکنا جنگی جرائم میں شمار نہیں ہوگا؟ ایک ہی نسل یعنی بلوچ قوم کو نسلی تعصب کے بنیاد پر قتل کرنا اور بلوچستان سے بیدخل کرنا جرائم میں شمار نہیں ہوگا۔ باقی چھوڑ دیں، 1998 میں بلوچستان کے علاقے چاغی کے مقام راسکوہ پر اٹیمی تجربے کرنا، وہاں بلوچ آبادی کو بیدخل کرنا اور راسکوہ کے آس پاس علاقوں میں ایٹمی تجربات کے منفی اثرات آج بھی شدت کے ساتھ موجود ہیں، اکثریت بچے مفلوج پیدا ہوتے ہیں، باقی مختلف امراض کے شکار ہورہے ہیں۔ وہ اپنی جگہ کیا یہ نسل کشی اور جرائم میں شمار نہیں ہوگا؟ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستان آرمی اور ایف سی کی سرگردگی میں فری میڈیکل کیمپ کے آڑ میں بلوچوں کو میڈیسن کی شکل میں سلو پوائیزن اور خطرناک سائیڈ افکیٹ پیدا کرنے والی ادویات اور انجیکش استعمال کررہے ہیں کیا یہ جرائم میں شمار نہیں ہونگے؟ باقی بلوچوں کے قدرتی بے شمار وسائل جو 70 سال سے پاکستان لوٹ رہا ہے وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

کیا اس سے بڑھ کر اور جرائم بھی ہوسکتے ہیں۔ یعنی پاکستان مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چاروں جرائم کے حدود کو پار کرچکا ہے۔ دنیا کو مکمل جواز و دلیل پاکستان خود اپنے منفی عمل و کردار اور سفاکیت سے فراہم کررہا ہے کہ وہ مداخلت کریں، دنیا کیوں مداخلت نہیں کررہا؟ بلوچ قوم کو باقاعدہ سپورٹ نہیں کررہا ہے؟ یہ ایک الگ بحث ہے اس پر باریک بینی سے غور ہونا چاہیے۔

جہاں تک Blue Water Thesis or “Salt Water Thesis کا تعلق ہے، تو یہ بلوچ قوم اور بلوچ قومی آزادی کو مکمل سپورٹ کرتا ہے۔ پہلے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ Blue Water Thesis or “Salt Water Thesis کیا بلا ہے؟ اور کیوں روبہ عبل ہوتا ہے؟ اور بلوچ قوم کو کیسے سپورٹ کرتا ہے۔

Blue Water Thesis or “Salt Water Thesis
اقوام متحدہ کے قرارداد 637 سے ابھرنے والا ایک محدود ترکِ نوآبادیات طریقہ کار تھا، جو غیر خودمختار علاقوں کو حقِ خود ارادیت و آذادی سے جوڑتا ہے۔

16 دسمبر 1952 کو جنرل اسمبلی کی اپنائی گئی قرارداد 637 شق 8 یہ تسلیم کرتا ہے کہ ” اقوم متحدہ کے چارٹر کو تسلیم کرنے والا ہر ممبر ملک کو حقِ خود ارادیت و قومی آذادی کی رائے کو تسلیم کرنا چاہیئے۔” بیلجیئم سمیت اس وقت کئی ممالک نے اپنے نوآبادیاتی اور اشیائے مقبوضہ اسی نئے ترکِ نوآبادیت اصول کے تحت چھوڑ دیئے تھے نے مزید کوشش کی کہ مقامی لوگوں کی حقِ خود ارادیت و آزادی اور انسانی حقوق کی حفاظت کی جاسکے۔

بلوچوں کا تاریخی، قومی، جغرافیائی حدحدود، حیثیت، قومی خودمختار ریاست، بلوچستان کو پاکستان سمیت باقی ممالک تسلیم کرچکے تھے۔ 11 اگست 1947 کو۔ وہ اور بات ہے کہ بعد میں ایک سال بعد پاکستان نے بزور فوجی طاقت بلوچستان کے دو بلوچ ایوان یا اسمبلیوں درالعوام اور درالامرا کے اکثریتی فیصلوں پر قدغن لگا کر 1948 کو بلوچستان پر قبضہ کیا۔ لیکن بلوچوں کی تاریخی ریاست اور جغرافیائی حثیت بحثیت ایک قوم ایک تاریخی حقیقت ہے اس انکار ممکن نہیں ہے۔ اسی سوچ، احساس، شعور، نظریے و فکر کو لیکر آج بلوچ قوم پاکستان جیسے قابض ریاست کے خلاف جنگ لڑ رہاہے۔

اس لیئے بلوچوں کی قومی آزادی کی جنگ مکمل شعوری و علمی، تاریخی حقائق اور عالمی قوانین پر من و عن مبنی ہے، اس کے باوجود دنیا کیوں مداخلت نہیں کررہا ہے؟ میرے خیال میں اوٹ پٹانگ اور سطحی رائے قاہم کرنے کے بجائے اس اہم سوال پر انتہائی سنجیدگی اور تحقیق کے ساتھ سوچنا اور غور کرکے بحث ہونا چاہیئے؟

بلوچوں کی پاس مسلح و سیاسی قوت کا فقدان ہے؟ پاکستان کے پاس دنیا کے مضبوط تعلق اور رشتے ہیں؟ بلوچوں کی منتشری و تقسیم والی شکل وجہ ہے؟ دنیا کے ساتھ پاکستان کی آخری حد وفاداری اور بطور استعمال کرنے کے لیے پاکستان خود بہترین آلے کا کردار ادا کررہا ہے؟ مذہبی جنونیت و شدت کی خوف اور پھیلاو کے ساتھ ایٹمی ہتھیار، مذہبی قوتوں کے ہاتھوں لگ جانے کا خوف؟ یا ابھی تک مداخلت کے لیئے حالات موافق نہیں؟ پھر حالات کب اور کس وقت موافق ہونگے؟ رفتہ رفتہ تو پھر رفتہ رفتہ کب اور کس وقت تک ؟ یا پھر بلوچوں کو دائمی بطور پریشر گروپ کے طور پر پاکستان کو بلیک میلنگ کے لیئے بطور کارڈ استعمال کرنا؟ یا بلوچوں میں عوامی تحریک کا فقدان؟

ان چند اور اہم سوالات پر ضرور سوچنا اور غور کرنا چاہیئے، اگر نہیں تو اللہ اللہ خیر سلا چلتا رہے گا۔ کب تک کہاں تک پھر کچھ پتہ نہیں۔

سب سے سے پہلے بلوچ سرزمین پر موجود متحرک مسلح قوتوں کو شعوری بنیادوں پر منظم و موثر شکل میں ترتیب و ترکیب دیکر قومی جنگ کو شدت اور وسعت دینا ہوگا کیونکہ بغیر منظم و متحرک ترتیب و ترکیب شدہ مسلح قوت کے کوئی بھی ہمیں گھاس ڈالنے کی جسارت بھی نہیں کریگا۔ اس پر سب سے ذیادہ توجے کی ضرورت ہے اور اپنے لوگوں میں خالص بلوچ نیشنلزم کی سوچ و احساس کو اجاگر اور بیدار کرنا ہوگا، اپنے لوگوں کو مذہبی جنونیت اور فرسودہ قبائلیت کے ناسور جراثیموں سے پاک کرنا ہوگا۔ اور لوگوں کو قومی آزادی کی سوچ سے لیس کرکے شعوری بنیاد پر تیار کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے تمام دستیاب ذریعے اور وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا تاکہ بلوچ زیادہ سے زیادہ شعوری بنیاد پر تیار ہوں اور قومی آزادی کی جنگ وسعت اور شدت اختیار کرکے منظم عوامی تحریک کی شکل اختیار کرےاور دنیا کو مزید آگاہ کرنے کے لیئے ایک موثر و منظم غیر روایتی سیاسی آواز کی ضرورت ہے۔ جو منطق و دلیل اور ٹھوس حقائق کی بنیاد پر پاکستان کی بلوچستان میں بلوچوں کے خلاف جرائم کی حقیقتوں کو طشت ازبام کریں۔ اسی تناظر میں گذشتہ دنوں بی ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کا ایک تنقیدی بیان نظر سے گذرا کہ عالمی سطح پر سنجیدہ طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے یا جنگی منافع خوری کی نہیں، اب مزید ڈاکٹر صاحب اپنے موقف کی خود بہتر وضاحت و وکالت کرسکتا ہے۔ اس نے کیا محسوس کیا ہے؟ وہ کیسے وضاحت کرتا ہے؟ وہ بہتر جانتا ہے اور وضاحت بہتر کرسکتا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب کے موقف کو بجائے بغضِ علی اور حب المعاویہ کی نظر سے لینے کے بجائے تنقید برائے تنقید، ذاتی انا و ضد، منفی پروپگنڈہ، بچگانہ اور سطحی پن کا شکار نہیں کرنا چاہیئے بلکہ اس پر غور کرنا چاہیئے۔

کچھ سوالات میرے اپنے ذہن میں ہیں کہ بلوچ سرمچار 24 گھنٹے دشمن کے عتاب و گھیراؤ، آپریشن و بمبارمنٹ کے زد میں رہ کر، اپنی کم وسائلی اور مشکلات کے ساتھ دشمن کے خلاف لڑرہے ہیں، مار رہے ہیں اور خود بھی شہید ہو رہے ہیں۔ جنگ کا جو نتیجہ، نقصان اور فائدے کی شکل میں موجود ہے، وہ سب کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں، مگر عالمی سطح پر آج تک کیا ہوا اور کیا ہو رہا ہے؟ جو بھی ہوا ہے؟ اس کا نتیجہ و حاصل شدہ کیا ہے؟ بلوچ قومی تحریک کو کمک و مالی مدد اخلاقی و سیاسی سپورٹ کی نوعیت اور سطح کیا ہے؟ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر نوٹس، پاکستان پر دباو، لاپتہ بلوچوں کی بازیابی، اغواء، مسخ شدہ لاشوں کے تسلسل کا خاتمہ یا کمی، بلوچ آبادیوں پر بمباری کے خلاف ایکشن، پاکستان پر معاشی، فوجی پابندی کسی بھی بلوچ علاقے کو وار زون قرار دینا، پاکستان کو مزید جدید ہتھیار، کوبرا ہیلی کاپٹر، جاسوس طیارہ وغیرہ فراہم نہ کرنا بلوچ وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور چین کی بلوچستان میں فوجی پیش قدمی سی پیک منصوبہ اور گوادر پروجیکٹ کے حوالے سے چین کے خلاف ایکشن لینا، باقی چھوڑیں، دنیا آج تک بلوچوں کے ہزاروں کی تعداد میں بے گھر افراد کو مہاجر تسلیم نہیں کرتا، بطور مہاجر بلوچوں کو کوئی کمک و مدد نہیں ہورہا ہے۔ پھر اس وقت بقول باہر بیٹھے ہوئے بلوچوں کے سفارتی کام یعنی سفارتی کاموں سے اس وقت کیا ملا ہے؟

18 سالوں سے اگر عالمی سطح پر کام کرنے کا نتیجہ اور کامیابی امریکن کانگریس مین کی قردار کی باتیں یا پھر انڈین وزیراعظم مودی کا جلسہ عام، بلوچستان کا صرف نام لینا، کامیابی تصور ہوگا تو پھر ہم ناکامی کے اصل معنی اور مفہوم سے نابلد ہوکر اصل سفارت کاری کی تشریح سے واقف نہیں ہیں۔ کیا اگر بلوچستان میں جنگ زور وشور سے جاری نہیں ہوتا تو کانگریس مین یا وزیر اعظم مودی بلوچستان کے حوالے سے بات کرتا؟ کیا کانگریس مین اور مودی کو بلوچستان کی جنگ پاکستان کی جبر و بربریت کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ انھیں باہر ملاقاتوں، مظاہروں، سوشل میڈیا کمپیئن سے پتہ چلا کہ بلوچستان میں کچھ ہورہا ہے، ہمیں بات کرنا چاہیئے؟ کیا سی آئی اے، ٹرمپ، را، مودی، موساد، اقوام متحدہ، یورپی یونین، وائٹ ہاوس، اسٹیٹ ڈیپارمنٹ وغیرہ کو کچھ علم نہیں کہ پاکستان مذہبی قوتوں کو چلا رہا ہے، سپورٹ کررہا ہے۔ مدرسوں میں ٹریننگ دی جارہی ہے اور امریکہ کے دیئے ہوئے فوجی سازوسامان ہتھیار، ہیلی کاپٹر، بلوچوں کے خلاف استعمال ہورہے ہیں اور بلوچوں کو آئی ایس آئی اغواء کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک رہا ہے۔ ان کو کچھ پتہ نہیں اگر کچھ پتہ نہیں تھا تو پھر چند لوگوں کے مظاہروں و مہم سے ان کو پتہ چل گیا، یہ لوگ پھر اتنے حدتک بے خبر بیگانہ اور بے وقوف ہیں؟ ہم اپنے ذہن میں ایک بات ڈال دیں، ان کو سب کچھ ہم سے زیادہ معلوم ہے اور معلوم ہوگا۔

سوال یہ پیدا ہوتا، پھر عالمی سطح پر کیوں سنجیدہ کام کی ضرورت ہے، جب سب کچھ ان کو خود معلوم ہے؟ تو بات یہاں شروع ہوتا ہے کہ ان مہذب ممالک کے مہذب اقوام کو اپنے درد و تکلیف، داستان اپنے اوپر پاکستان کے ظلم و جبر، بربریت سے آگاہ کرنا تاکہ وہ اٹھ کر بلوچوں کے لیئے آواز اٹھائیں، اپنے حکومتوں اور سربراہوں کو انسانی ناطے کی بنیاد پر مجبور کریں کہ بلوچستان میں ایک قوم کا نسل کشی ہورہی ہے۔ جو انسانی المیہ ہے۔

پھر اس آگاہی کے لیے کیا ہورہا ہے؟ مہذب قوموں کے کتنے تعداد میں لوگ آج بلوچوں کی حق میں آواز اٹھا کر اپنے ملکوں میں احتجاج و جلسہ، سیمنار، ورکشاپ اور مظاہرے کررہے ہیں؟ کتنے امریکن، یورپین، انڈین معتبر صحافی ادیب اور دانشور مسلسل بلوچ مسئلہے پر لکھتے آرہے ہیں؟ میرے خیال میں آٹے میں نمک جیسا بھی برابر نہیں تو پھر کیوں؟

مظاہروں میں آٹھ دس بندے وہ بھی بلوچستان سے گئے ہوئے ہیں، کیا صرف نعرے بازی، رٹے بازی، جذباتی تقریر، کافی شاپ میں کسی گورے کو کافی پلانے، ڈنڑ کھلانے سے اور فوٹوسیشن سے مطمیئن کرنا ممکن ہے کہ بلوچستان میں کیا ہورہا ہے؟

بس اس کو یہ بتانا اتنا ہی 48 میں پاکستان کا بلوچستان پر قبضہ ہوا ہے، پاکستان بلوچوں پر ظلم و جبر کررہا ہے۔ مذہبی جنونیت کی پرورش کررہا ہے۔ وسائل کو لوٹ رہا ہے۔ آپریشن ہورہا ہے۔ بلوچ غائب ہورہے ہیں۔ مسخ شدہ لاشیں پھینکے جارہے ہیں، اقوام متحدہ نوٹس لے، ہم بلوچوں کو سپورٹ کیا جائے۔ یہ باتیں تو کوئی بلوچ بچہ بھی جانتا اور کرسکتا ہے، کیا اعداد و شمار ہمارے پاس ہیں، اس وقت تک کتنے بلوچ لاپتہ ہیں؟ کتنے اس وقت شہید ہوچکے ہیں؟ کتنے مسخ شدہ لاشیں پھینکے جاچکے ہیں؟ کس کس علاقے میں اس وقت آپریشن چل رہا؟ کتنے گھر جلائے جارہے ہیں، ان کی تصویر، وڈیو، وغیرہ کسی کے پاس بطور ثبوت ہے؟ یا جو بلوچ بازیاب ہورہے ہیں ان کی حالت کیا ہے؟ کس حال میں ہیں؟ ایٹمی دھماکہ تجربے سے کون کون سے علاقے متاثر ہوچکے ہیں یا ابھی تک جو بلوچ وہاں رہ رہے ہیں جو بچے مفلوج و معذور پیدا ہورہے ہیں ان کی تعداد بطور ثبوت ریکارڈ کس کے پاس ہے؟ تاکہ وہ مہذب دنیا اور مہذب اقوام کو دکھا دیں؟ کتنے بلوچ آج ریاستی جبر و بربریت کی پاداش میں علاقہ بدر ہوچکے ہیں؟ کس حال میں ہیں؟ان کی تعلیم اور صحت خوراک رہن سہن کا کیا ہو رہا ہے؟ ہم کہتے پاکستان مذہبی جنونیت کو دوام دے رہا اس کی پرورش کررہا ہے، پھر کتنے مدرسے ہیں کہاں کہاں پر ہیں جو معصوم بچوں کو مذہبی جنونیت میں برین واش کرکے ٹریننگ دیتی ہے، ہزاروں کی تعداد میں خود کش تیار ہورہے ہیں، ان کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار کس کے پاس ہیں؟ پھر کیسے اور کس طرح مہذب دنیا کو مہذب اقوام کو ہم باور کراینگے۔ پاکستان ریاست کی جرائم اور سفاکیت کے حوالے سے؟ صرف زبانی کلامی جمع خرچ رٹے بازی سے کیا وہ مطمیئن ہونگے؟ یا دن رات صرف سوشل میڈیا میں چمٹے رہنا، صرف اپنے اپنے سربراہوں کی صف خوانی، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی تگ و دو میں مصروف عمل رہنا۔ آج تک ایک بلوچ ٹی وی چینل یا ریڈیو چینل لانچ نہیں ہوسکتا، کسی سے بھی نہیں کیوں؟ پھر کس طرح ہم مہذب دنیا اور مہذب اقوام کو اصل حقائق سے آگاہ کروائینگے؟ کیا بلوچ قومی کیس عالمی عدالت میں جمع ہوچکا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟

کیا مہذب اقوام اتنے کم عقل، جذباتی، ان پڑھ، بے وقوف ہیں؟ بس بھڑک بازی، رٹے بازی، بڑے بڑے ڈھینگے مارنے سے جلد متاثر ہونگے، چند بلوچ اگر آج بلوچوں کی خون و پسینے اور محنت و مشقت کے ثواب سے جاکر یورپ اور دیگر ممالک میں انتہائی آرام و سکون سے بیٹھے ہوئے ہیں، اگر وہ بھی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور شب و روز، کھسر پھسر، مخالفت، سازش، حربےو پروپگنڈہ وغیرہ میں مصروف عمل ہوں، تو پھر خاک سنجیدگی سے پاکستان کے جرائم و سفاکیت دنیا کے سامنے آشکار ہونگے۔ اگر صرف سوشل میڈیا کے استعمال کی خاطر یورپ جانا تھا، تو وہ بلوچستان سے بھی استعمال ہوسکتا تھا پھر وہاں جانے کی ضرورت کیا؟ اگر کام صرف سوشل میڈیا کی استعمال کا نہیں تو اتنے سالوں سے کیا ہوا ہے؟ میں نے پہلے کہا اگر ہوا ہے؟ تو ایک نتیجہ کوئی بتا سکتا ہے کیا ہے؟ بلوچ قومی مفاد اور قومی تحریک کے لیئے؟ ہاں اگر چار مظاہروں پوسٹرسازی، فوٹو سیشن، سوشل میڈیا سرگرمی سے سادہ لوح بلوچ قوم اور بلوچ نوجوانوں کو بے وقوف بنایا جاسکتا لیکن دنیا کو بے وقوف بنانا آسان نہیں ہے۔

بلوچ مسلح قوتوں کو شعوری بنیادوں پر ترکیبی و ترتیبی اور تربیتی حوالے سے منظم و متحرک کرکے جنگ کو مزید شدت و وسعت دینا ہوگا اور عالمی سطح پر ایک موثر غیر روایتی سیاسی آواز کو متعارف کرنا ہوگا تب جاکر بلوچ قومی کیس دنیا کے سامنے مضبوط ہوگا۔

 

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔