ہنہ اوڑک میں عوامی اراضیات پر ایف سی کا قبضہ غیر قانونی ہیں –...

نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے جنرل سیکرٹری مزمل شاہ نے اپنے بیان میں ضلع کوئٹہ کی پرفضا وادی ہنہ میں عوامی ملکیت کیاراضی، پانی اور عوام و شہریوں کی سیروتفریح...

کیچ: پاکستانی فورسز پر حملے، کیپٹن زخمی، دو اہلکار ہلاک

بلوچستان کے ضلع کیچ میں دو مختلف حملوں میں پاکستانی فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ذرائع  کے مطابق منگل کے روز عبدوئی اور زامران کے علاقوں میں پاکستانی فورسز پر دو الگ حملوں میں دو اہلکار ہلاک اور ایکزخمی ہوا ۔ تفصلات کے مطابق تحصیل تمپ کے علاقہ عبدوئی زامری میں نامعلوم مسلح افراد  کی فائرنگ سے پاکستانی فورس کا اہلکار سپاہیوحید گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرے واقعہ میں تحصیل بلیدہ زامران کے علاقہ میں گولڈ سمڈ لائن پر باڑ لگانے والوں کےسیکورٹی پر مامور فورسز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے نتیجے میں سپاہی محمد عثمان ولد لیاقت علی سکنہ نوشہروزفیروز سندھ ہلاکہوگیا جبکہ کیپٹن علی زین گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق زخمی اور لاشوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایف سی ہیڈکوارٹر تربت منتقل کردیا گیا۔ واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیراؤ میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے اور فوجی ہیلی کاپٹروںسے فضائی نگرانی بھی جاری ہے ۔ یاد رہے کہ مذکورہ علاقوں میں اس سے پہلے پاکستانی فورسز پر حملے ہوئے ہیں جنکی ذمہ داری بلوچستان میں سرگرم آزادی پسندتنظیمیں قبول کرتے آرہے ہیں،تاہم آج ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ابتک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

سمی کی پکار ۔ گہور بلوچ

سمی کی پکار تحریر: گہور بلوچ دی بلوچستان پوسٹ اِس جہاں میں لاتعداد انسانوں کا جنم ہوا ہے مگر بہت کم ہستیاں ہوتے ہیں جو انسانی ذہنوں میں اپنے نقش چھوڑنے میں...

درد کے تیرہ سال کیا ہو تے ہیں؟ ۔ محمد خان داؤد

درد کے تیرہ سال کیا ہو تے ہیں؟ تحریر: محمد خان داؤد دی بلوچستان پوسٹ تیرہ سال! جی ہاں تیرہ برس،ایک عشرہ،یہ کیا ہو تے ہیں تیرہ سال؟جس میں کئی ماہ،کئی دن،کئی...

ڈاکٹر دین جان اور تحریکوں میں ڈاکٹروں کا کردار ۔ کمبر بلوچ

ڈاکٹر دین جان اور تحریکوں میں ڈاکٹروں کا کردار تحریر: کمبر بلوچ دی بلوچستان پوسٹ ڈاکٹر جو زمین کے پسماندہ اور جبر کے شکار لوگوں کے معالج ہیں اور اُن پر ہوئے...

کوئٹہ: لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے احتجاج جاری

وائس فار بلوچ مسنگ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4686 دن مکمل ہوگئے، آج سیاسی اور سماجی کارکنان داد محمد بلوچ ، اصغر بلوچ ، نور...

تصویر کہانی ۔ برزکوہی

تصویر کہانی تحریر: برزکوہی دی بلوچستان پوسٹ عمومی طور پر ہم زیست اس التفات کے یقین سے نتھی کرکے گھومتے پھرتے ہیں کہ " میں تو ٹھیک ہو" یہ طہارت کرتے ہیں...

چینی سیکیورٹی کمپنی بلوچستان میں اپنے شہریوں اورپروجیکٹس کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔ عالمی...

عالمی مالیاتی اخبار نکی ایشیا کی جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان چین کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک مقام ہے اور بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ کے تحت فنڈز...

بلخاب: افغان حکومت اور شیعہ ہزارہ قوم میں تنازعہ کی بنیادی وجہ

افغانستان میں اس وقت ہزارہ قوم کے اکثریتی علاقے صوبہ سرپل کے ضلع بلخاب میں افغان حکومت کا مولوی مہدی کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

تربت: لاپتہ افراد کے لواحقین کا سی پیک روٹ پر دھرنا

تربت ڈی بلوچ کے مقام پر لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا جاری، مظاہرین نے سی پیک روڈ بلاک کرکے جبری گمشدگی کے شکار افرادکی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں- تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت کے مقام پر لاپتہ طلباء کے لواحقین کی جانب سے ڈی بلوچ پر دھرنا دیکرروڈ کو احتجاجاً مکمل بند کردیا گیا ہے۔ احتجاج میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ، سول سوسائٹی سیاسی سماجی تنظمیوں کے ارکانشریک ہوئے- تربت ڈی بلوچ روڈ پر دھرنے کے باعث دونوں طرف ٹریفک کی آمدو رفت معطل ہوگئی ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئے ہیں- مظاہرین کے مطابق پاکستانی فورسز نے طالب علم نعیم ولد رحمت بلوچ اور شفیق ولد دلدار کو رواں سال 17 مارچ کو حراست بعدنامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جبکہ اس دوران  تربت سمیت گرد نواح سے درجنوں افراد جبری گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں جو منظرعام پر نہیں آسکے ہیں- مظاہرین کے مطابق علاقہ میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے اس سے قبل لاپتہ  نوجوانوں کی باحفاظت بازیابی کے لئے مقامیلوگوں نے دھرنا دیا تو انتظامیہ نے ملاقاتوں کے دوران کچھ دنوں کی مہلت مانگی تھی مگر مہلت گزرنے کے باوجود لاپتہ نوجوانوں کیبازیابی کیلئے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی جس کے خلاف آج پھر ہم احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں- لاپتہ افراد کے لواحقین شدید گرمی میں سڑک پر دھرنا دئے ہوئے ہیں احتجاج پر بیٹھے لواحقین کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے لاپتہ  پیاروںکی زندگی کے بارے میں خدشات لاحق ہیں احتجاج کے علاوہ انکے پاس کوئی راستہ نہیں ہمارے  پیاروں کو بغیر کسی جرم کے بےگناہ اٹھا کر حبس بے جا میں رکھا گیا ہے جب انصاف کے لئے انتظامیہ کے پاس گئے تو تسلی دی گئی کہ اپنا احتجاج منسوخ کریںتاہم طویل انتظار کے باجود ہمارے پیارے منظر عام پر نہیں آسکے جس کے باعث ہم پھر سے احتجاج پر مجبور ہیں- مظاہرین نے لاپتہ طلباء سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے انتظامیہ کو خبردار کی ہے کہ وہ اس دفع بغیر کسیپیش رفت کے لواحقین کو دھوکا دیکر احتجاج ختم کرنے کی کوشش کرینگے تو شدید احتجاج کے صورت میں ردعمل سامنے آئے گا-

تازہ ترین

خاران: پاکستانی فوج کی آپریشن، ڈرون طیاروں کی پروازیں

بلوچستان کے علاقے خاران میں پاکستانی فوج آپریشن کررہی ہے۔ خاران کے علاقے لجے میں آج صبح پاکستانی فوج نے متعدد گاڑیوں اور پیدل پیش...

سائیں جی ایم سید کی فکر اور جدوجہد ہی سندھ کی بقا اور آزادی...

سندھودیش روولیوشنری آرمی (ایس آر اے) کے چیف کمانڈر سید اصغر شاہ نے آج رہبرِ سندھ سائیں جی ایم سید کی 31ویں برسی کے...

13سال سے جبری لاپتہ سمیر صابر کی والدہ انتقال کر گئیں

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ سمیر صابر کی والدہ انتقال کر گئیں۔ یاد رہے کہ سمیر صابر کو...

ڈھاڈر اور نوشکی میں حملے، دو پولیس اہلکار ہلاک و چار زخمی

بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر اور ضلع نوشکی میں مسلح افراد کی جانب سے حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی...

جھل مگسی: نوجوان پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ

پاکستانی فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، والد کا بازیابی کا مطالبہ