سوشل میڈیا کیخلاف پاکستان کی جنگ – ٹی بی پی اداریہ

سوشل میڈیا کیخلاف پاکستان کی جنگ ٹی بی پی اداریہ دہائیوں طویل سیاسی چالبازیوں اور طاقتور حکومتی عہدوں پر فوج کے منظور نظر افراد کو تعینات کرنے کی وجہ سے آرمی...

بلوچستان میں مون سون کی تباہ کاریاں – ٹی بی پی اداریہ

بلوچستان میں مون سون کی تباہ کاریاں ٹی بی پی اداریہ محکمہ موسمیات نے بلوچستان اور سندھ کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں کے ایک نئے سلسلے کی پیشن گوئی کی...

سرکشی یا استثنیٰ؟ – ٹی بی پی اداریہ

سرکشی یا استثنیٰ؟ ٹی بی پی اداریہ 13 اگست کے دن تربت کے علاقے آبسر میں ایف سی اہلکاروں کی ایک گاڑی کو موٹر سائیکل پر نصب ایک " آئی ای...

بلوچ، سندھی اور پشتون 14 اگست کو جشن کیوں نہیں مناتے؟ – ٹی بی...

بلوچ، سندھی اور پشتون 14 اگست کو جشن کیوں نہیں مناتے؟ ٹی بی پی اداریہ قانون آزادی ہند کے مطابق تقسیم ہونے والے دونوں اکائیوں ( پاکستان و ہندوستان) کی آزادی...

نقشوں کی جنگ – ٹی بی پی اداریہ

نقشوں کی جنگ دی بلوچستان پوسٹ اداریہ پاکستان نے اپنا نیا سرکاری نقشہ جاری کیا ہے جس میں جموں کشمیر، جوناگڑھ و ماناوڑھ اور پورے سرکریک کے علاقوں کو پاکستان میں...

لاپتہ سندھیوں کی حالت زار – ٹی بی پی اداریہ

لاپتہ سندھیوں کی حالت زار ٹی بی پی اداریہ گذشتہ ہفتہ مزید دو سندھی سیاسی کارکنان جبری طور پر لاپتہ کردیئے گئے۔ ستار ہکڑو کو کراچی جبکہ جاوید خاصخیلی کو سندھ...

چین – ایران معاہدہ اور بلوچستان – ٹی بی پی اداریہ

چین - ایران معاہدہ اور بلوچستان ٹی بی پی اداریہ گذشتہ ہفتے 18 صفحوں پر مشتمل ایک مسودہ ایرانی ذرائع ابلاغ پر گردش کررہی تھی، نیویارک ٹائمز نے بھی ایک مضمون...

لاپتہ افراد یا مزاحمتکار؟ ٹی بی پی اداریہ

لاپتہ افراد یا مزاحمتکار؟ ٹی بی پی اداریہ بلوچ لاپتہ افراد کے مسئلے کی شدت کو پاکستانی حکام اور میڈیا چینلز اکثر انتہائی گھٹا کر اسے چھپانے کی کوشش کرتے...

علامات سے آگے – ٹی بی پی اداریہ

علامات سے آگے ٹی بی پی اداریہ جون کی 29 تاریخ کو چار مسلح افراد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ای) پر دھاوا بولتے ہیں، اور عمارت کے اندر گھسنے کی...

کیمرے کی آنکھوں سے پرے – ٹی بی پی اداریہ

کیمرے کی آنکھوں سے پرے ٹی بی پی اداریہ بلوچ طلباء گذشتہ دو ہفتوں سے زائد عرصے سے بلوچستان میں آن لائن کلاسوں کیلئے انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کیخلاف سراپا احتجاج...

تازہ ترین

حب: فائرنگ سے خاتون قتل

بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں گھر کے اندر فائرنگ میں خاتون کو قتل کردیا گیا- پولیس کے مطابق مذکورہ خاتون گھر میں کام کر رہی تھی جب مسلح افراد نے گھر میں گھس کر فائرنگ کھول دی جس کے نتیجے میںخاتون موقع پر ہی جانبحق ہوگئی۔ فائرنگ کا واقعہ اتوار کے روز پیش آیا- پولیس کے مطابق قتل کی وجہ خاندانی جھگڑا ہوسکتا ہے، قتل میں ملوث ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے ہیں جنکی تلاش پولیسکررہی ہے- خیال رہے کہ بلوچستان میں گھریلو جھگڑے اور غیرت کے نام پر خواتین کی قتل کے واقعات تواتر سے رپورٹ ہوتے رہے ہیں جبکہ جبکہمذکورہ واقعات میں ملوث افراد میں سے بہت ہی کم تعداد کو قانون نافذ کرنے والے ادارے انصاف کے کٹہرے میں لاسکے ہیں۔ اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک ہزار سے زائد خواتین قتل ہوجاتے ہیں جن میں سے اکثریت کو غیرت کے نام پر قتلکردیا جاتا ہے- واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر لاش کو اسپتال پہنچادیا ہے جہاں ضروری کارروائی کے بعد نعشیں ورثاءکے حوالے کردیا گیا-

شوہر کو فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا – حاجرہ بی بی

بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ کے رہائشی بی بی حاجرہ نے لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے کام کرنے والی تنظیموائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کے کیمپ آکر اپنے شوہر مجیب الرحمٰن ولد عبدالرحمٰن کے کوائف جمع کئے۔ لاپتہ مجیب الرحمن کی اہلیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ چھ ماہ قبل پیرا ملٹری فورس (ایف سی)، سی ٹی ڈی اور خفیہ ایجنسیوں کےاہلکاروں نے اس کے شوہر کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے جس کے بعد ان کے بارے میں معلوم نہیں کہاں اورکس حال میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دن وہ صبح آٹھ بجے گھر سے نکلا تھا اور کوئلہ کانکنوں کو لے جارہا تھا کہ فورسز نے انہیں حراست میں لیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فورسز نے وہاں موجود لوگوں کو دھمکی دی ہے کہ اس کے اغواء ہونے پہ گواہی دی ان کو بھی اغواء یا قتل کیاجائے گا۔ خیال رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات روزانہ رونما ہورہے ہیں، قوم پرست اور انسانی حقوق کے ادارے پاکستانیفورسز و خفیہ ایجنسیوں پہ الزام عائد کرتے ہیں کہ لوگوں کو اغواء کرنے میں وہ برائے راست ملوث ہیں تاہم فورسز ان الزامات کی تردیدکرتے ہیں۔ گذشتہ دنوں پاکستان کے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ریاض پیرزادہ نے ایک انٹرویو کے دوران الزام عائد کیا ہے کہ لاپتہ افراد نےہمسایہ ممالک میں پناہ لے رکھی ہے اور ان میں سے کچھ دہشت گردی کی کارروائیوں میں مارے گئے جن کے کلبھوشن یادیو یاہمسایہ ممالک سے رابطے تھے‘۔

جبری گمشدگیاں ہی سب سے بڑی تشدد ہے – سمی دین بلوچ

جبری گمشدگیاں وہ تشدد ہے جس سے نہ صرف ایک شخص بلکہ اس کا پورہ خاندان متاثر ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ پاکستان سے جوابطلبی...

عالمی برادری بلوچستان پر پاکستانی مظالم کا نوٹس لے – بی این ایم جرمنی...

بلوچ نیشنل موومنٹ کی طرف سے کیے گئے ایک مظاہرے میں شرکاء نے مطالبہ  کیا ہے کہ عالمی برادری بلوچستان پر پاکستان کےمظالم کا...

ریاستی ادارے منشیات فروشی میں ملوث ہیں – منشیات کے عالمی دن بلوچستان میں...

انسداد منشیات کے عالمی دن کی مناسبت سے بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی، ساحلی شہر گوادر، تربت، پنجگور اور دیگر علاقوں...