تاریخ خود کو کیوں دُہراتی ہے؟ ۔ معشوق قمبرانی
تاریخ خود کو کیوں دُہراتی ہے؟
تحریر: معشوق قمبرانی
دی بلوچستان پوسٹ
ہم نے اکثر یہ پڑھتے یا کہتے سُنا ہے کہ ’تاریخ خود کو دُہراتی ہے‘ لیکن یہ نہیں پڑھا اور...
بدلتے کردار اور ارتقائے فکر – مہر شنز خان بلوچ
بدلتے کردار اور ارتقائے فکر
تحریر: مہر شنز خان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بدلتے سماجی رسوم، سائنسی ترقی، ارتقائی سیاست اور مذہبی گرفت کے مختلف اشکال سے ہوتا ہوا فکر ہمیشہ خود...
اے شبِ ہجوم ان سے کہہ دو، جون! اس جہاں کا نہیں ہے
اے شبِ ہجوم ان سے کہہ دو
جون! اس جہاں کا نہیں ہے!
تحریر: محمد خان داؤد
دی بلوچستان پوسٹ
پہلے آئیے مشال خان کے لیے گردیو ٹیگور کی یہ دعا لکھیں جو...
انسانی فطرت – زیرک بلوچ
انسانی فطرت
تحریر: زیرک بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
انسان جب دنیا میں آکر اپنی آنکھیں کهولتا ہے اور اپنے اردگرد مختلف قسم کے جانور و انسان دیکهتا ہے، جنم کے تیس منٹ...
شہید جنرل استاد اسلم، سندھو دیش تحریک کے مضبوط ساتھی ۔ اصغر شاہ
شہید جنرل استاد اسلم، سندھو دیش تحریک کے مضبوط ساتھی
تحریر: اصغر شاہ
دی بلوچستان پوسٹ
جبری الحاق میں قید کئے گئے غلام وطنوں میں انقلابی رہنماء تاریخ ساز کردار ادا کرتے...
زبان دوستی ءِ سیاست – دومی بھر – حکیم واڈیلہ
زبان دوستی ءِ سیاست
دومی بھر
حکیم واڈیلہ
اولی بھر
دو ھزار یازدہ ءَ وھدے من یوکےءَ سربوت آں گُڑا بلوچیءِ یک جتائیں دروشمے دیست بزاں مری بلوچی، خارانی بلوچی، رو کپتی بلوچستانءِ...
میرا آخری خط ۔ فدائی دیدگ بہار / میرین بلوچ
میرا آخری خط
تحریر:فدائی دیدگ بہار / میرین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
29/8/2021
یہ میرا آخری خط ہے، جب تم اسے پڑھوگے تو شاید یہ مدتوں پہلے لکھا ہوا ہوگا۔ میں امید رکھتا...
سات سال کتنے ہوتے ہیں؟ – محمد خان داؤد
سات سال کتنے ہوتے ہیں؟
تحریر: محمد خان داؤد
دی بلوچستان پوسٹ
سات بارشیں گذر گئیں، ساتھ قوس قزاح کے رنگ بکھرے اور مٹ گئے
سات بار زمیں گیلی ہوئی، سات بار زمیں...
اکبر خان جس نے وقت اور تاریخ کو اپنے تابع کیا – نادر بلوچ
اکبر خان جس نے وقت اور تاریخ کو اپنے تابع کیا
تحریر: نادر بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
اکبر خان جس نے وقت اور تاریخ کو اپنے تابع کیا، عمر کے آخری حصے...
غلطیوں سے سیکھنا چاہیئے – سنگر بلوچ
غلطیوں سے سیکھنا چاہیئے
تحریر: سنگر بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
ہر انسان میں کوئی کمی و بیشی ہوتی ہے، مگر انسان کو سمجھنا چاہیئے، سوچ سمجھ کر بولنا چاہیئے، مزاق بھی کبھی...


























































