بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے نامعلوم مقام سے سیٹلایٹ فون کے ذریعے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرمچاروں نے سات اکتوبر کو ضلع آواران کے علاقے کولواہ بدرنگ میں پاکستانی چیک پوسٹ پر حملہ کرکے دو فوجی اہلکاروں کو ہلاک کیا۔ واقعہ کے بعد قابض فوج نے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی مگر سرمچاروں نے بہترین گوریلا جنگی حکمت عملی سے دشمن کے تمام عزائم کو ناکام بناتے ہوئے انکو شدید جانی نقصان پہنچانے کے ساتھ بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ حملے مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔
تازہ ترین
خاران: ریاستی سرپرستی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈ کا شہریوں پر تشدد
ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان نے بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے نام پر لوگوں کو ہراساں کیا، شہریوں نے شناخت کرلی۔
تربت: دو ہفتوں کے دوران ڈینگی کے 92 کیسز رپورٹ، محکمہ صحت اور حکومتی...
ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں یکم اپریل سے 14 اپریل تک ڈینگی وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا...
غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کو تقریباً گیارہ ماہ گزرنے کے باوجود انکا منظر...
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے مرکزی رہنما غنی بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے...
گوادر کے ساحل پر چار سمندری کچھوؤں کی ہلاکت، ماہرین نے تشویش کا اظہار...
گوادر کے ساحلی علاقے میں دو کلومیٹر کے دائرے کے اندر چار سمندری کچھوے مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔ حکام کی...
ہم پر حملوں میں ملوث 5 عرب ریاستیں معاوضہ ادا کریں۔ایران
ایران نے پانچ عرب ممالک سے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور اردن...


















































