وہ چراغ جو اندھیروں میں روشن ہوا – سفرخان بلوچ (آسگال )

83

وہ چراغ جو اندھیروں میں روشن ہوا

تحریر: سفرخان بلوچ (آسگال )

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ کے اوراق ہمیں بارہا یہ بتاتے ہیں کہ تحریکوں میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جو اجتماعی شعور کی ساخت کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ہر طویل جدوجہد میں ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب تھکن، انتشار اور غیر یقینی کیفیت غالب آنے لگتی ہے، اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب کوئی فیصلہ، کوئی اقدام پورے منظرنامے کو بدل دیتی ہے۔

فرانسیسی مفکر ژاں ژاک روسو نے اجتماعی ارادے (General Will) کی بات کرتے ہوئے اشارہ دیا تھا کہ کبھی کبھی فرد کا قدم اجتماعی ارادے کو واضح کر دیتا ہے۔ اسی طرح کارل یونگ کے مطابق فرد کا عمل اجتماعی لاشعور میں ایک ارتعاش پیدا کر سکتا ہے جو پوری کمیونٹی کی سمت متعین کرتا ہے۔

وِکٹر فرانکل نے انسان کی “معنی کی تلاش” کو انسانی بقا اور مزاحمت کا بنیادی محرک قرار دیا جب کوئی فرد اپنے عمل کے ذریعے معنی پیدا کرتا ہے تو وہ دوسروں کے لیے بھی معنی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

دنیا کی کئی تحریکوں میں یہ نفسیاتی اور فلسفیانہ پہلو نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ اسی پس منظر میں 11 اگست 2018 کا دن بلوچ مسلح تحریک کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا جاتا ہے۔ چاغی میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے فدائی ریحان اسلم کی کارروائی وہ موڑ ہیں۔ اس عمل نے اس جمود اور مایوسی کو توڑا جو طویل عرصے سے تحریک کے اندر موجود تھی۔ دو دہائیوں پر محیط جدوجہد، قیادت کی شہادتیں، ریاستی کریک ڈاؤن، جبری گمشدگیاں اور تنظیمی اختلافات نے ایک ایسی فضا پیدا کر دی تھی جس میں تحریک کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت بڑھ رہی تھی۔ ایسے میں اس اقدام نے نوجوانوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ تحریک اب بھی فیصلہ کن سمت اختیار کر سکتی ہے۔

نفسیاتی طور پر دیکھا جائے تو یہ مرحلہ “Collective Efficacy” یعنی اجتماعی صلاحیت کے احساس کو بحال کرنے کے مترادف تھا۔ جب یہ یقین ہو جائے کہ وہ مؤثر ہے اور اس کا عمل نتیجہ خیز ہو سکتا ہے، تو اس کی سرگرمی اور وابستگی بڑھ جاتی ہے۔ ریحان اسلم کی فدائی نے نوجوانوں میں یہی احساس پیدا کیا۔ اگر اس دن وہ اقدام نہ ہوتا تو آج تحریک محض موجود تو رہتی مگر مؤثر نہ ہوتی، اسی نفسیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

طویل المدتی جنگوں میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی تحریک سست رفتاری کا شکار ہو جائے تو اس کے کارکنان میں تھکن اور بے یقینی پیدا ہوتی ہے، اور جدوجہد بغیر واضح نتائج کے اختتام پذیر ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں 11 اگست کو ایسے موڑ کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے جس نے اس جمود کو توڑا۔

بعض لوگ اپنی زندگی سے زیادہ اپنے یقین سے پہچانے جاتے ہیں۔ شہید ریحان بھی انہی میں سے ایک تھا۔ وہ ایسے وقت میں ابھرا جب امید آہستہ آہستہ ناامیدی میں بدل رہی تھی، جب دلوں میں سوال زیادہ تھے اور یقین کم۔ اس کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب اس نے یہ فیصلہ لیا تھا تو اسے بارہا سمجھایا گیا کہ اب تحریک اس مقام پر نہیں کہ ایسے عمل کیے جائیں؛ یہ قدم خاموشی میں دفن ہو جائے گا، اس کے نتائج نہیں نکلیں گے۔

مگر ریحان کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ حالات کیا ہیں؛ اس کا سوال یہ تھا کہ انسان کی داخلی قوت کیا کہتی ہے۔ نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ جب اجتماعی شعور پر مایوسی کا سایہ گہرا ہو جائے تو ایک فرد کا یقین “معنی” کی بازیافت بن جاتا ہے۔ وکٹر فرینکل نے لکھا تھا کہ انسان زندہ رہنے کے لیے معنی تلاش کرتا ہے؛ ریحان کے لیے بھی یہ راستہ محض ایک عمل نہیں بلکہ معنی کی تلاش تھا۔ وہ کہتا تھا کہ یہی راستہ نوجوانوں کو منزل دکھائے گا، یہی جدوجہد ایک دن اس مقام تک پہنچے گی جس کا انتظار دہائیوں سے بلوچ قوم کر رہی ہے، اور اس کے نتائج ایسے ہوں گے جن کا تصور بھی ابھی پوری طرح نہیں کیا گیا۔

اس کے الفاظ میں جو چیز نمایاں تھی وہ یقین تھا۔ نفسیاتی طور پر یقین وہ کیفیت ہے جو فرد کو خوف سے آزاد کرتی ہے۔ جب کوئی شخص اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر ایک بڑے مقصد سے جڑ جاتا ہے تو اس کا “میں” محدود نہیں رہتا؛ وہ اجتماعی “ہم” میں ڈھل جاتا ہے۔ ریحان کے اندر بھی یہی تبدیلی رونما ہو چکی تھی۔ شاید اسی لیے اس کے لیے راستے کی دشواری اہم نہ رہی، اہم یہ تھا کہ راستہ زندہ رہے۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہ چراغ جو مرجھانے لگا تھا، دوبارہ روشن ہے۔ ستر سالہ ھتم ناز جیسی بزرگ بھی اسی راہ کا انتخاب کرتے ہیں، نوجوان مرد اور خواتین اسی یقین کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ وسیم اور یاسمہ جیسے جوڑے ایک ہی مقصد کے لئے ایک مورچے میں دشمن کے ساتھ جنگ کرتے ہیں۔ ریحان کا عمل ڈیرہ جات کے مزاحمت کے رگوں میں خون کی روانی کی بحال کرتی ہے جس سے فدائی رشید بزدار اور سمی بزدار بولان و نوشکی کے محاذوں کو استحکام بخشتے ہیں۔ شاری جیسے لوگ اپنی آسودہ زندگی اور معصوم بچوں کی محبت کو پیچھے چھوڑ کر ایک وسیع تر احساس سے جڑ جاتے ہیں۔ یہ سب واقعات محض انفرادی فیصلے نہیں؛ یہ اجتماعی نفسیات میں تبدیلی کی علامت ہیں۔ جب ایک فرد کا یقین دوسروں کے دلوں میں جگہ بناتا ہے تو وہ “مثال” بن جاتا ہے اور مثالیں تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں۔

فلسفہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ تاریخ صرف واقعات کا نام نہیں، بلکہ ارادوں اور خوابوں کا تسلسل ہے۔ ہیگل کے مطابق تاریخ شعور کی تدریجی تکمیل ہے؛ اور ہر عہد میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس شعور کو ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں۔ ریحان بھی شاید انہی میں سے تھا ایک ایسا کردار جس نے ناامیدی کے عہد میں امید کو محض لفظ نہیں بلکہ تجربہ بنا دیا۔

بلوچ تحریک کے پچھلے بیس برسوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس نے شدید اتار چڑھاؤ دیکھے۔ ابتدائی ادوار میں قیادت کو نشانہ بنایا جانا، جبری گمشدگیاں، اور تنظیمی سطح پر اختلافات نے ایک ایسے بحران کو جنم دیا جس میں باہمی تنقید اور دھڑے بندی نے توانائی کو تقسیم کر دیا۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہونے لگا کہ بیرونی دباؤ کے ساتھ ساتھ اندرونی کمزوریاں بھی تحریک کی رفتار کو متاثر کر رہی ہیں۔ریاستی دباؤ کے نتیجے میں متعدد کارکنان اور سیاسی شخصیات بیرونِ ملک چلے گئے، اور ایک وقت ایسا آیا جب بیرونِ ملک قیام کو نسبتاً محفوظ حکمتِ عملی سمجھا جانے لگا۔ اس رویے کی وجہ سے زمینی سیاست کمزور ہوئی اور نوجوان نسل میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ عملی جدوجہد سے زیادہ اہم بقا ہے۔

2018 کے بعد یہ رجحان بدلنا شروع ہوا۔ نوجوان قیادت، خصوصاً جامعات اور کالجوں سے وابستہ افراد، زیادہ فعال ہو کر سامنے آئی۔ اس قیادت کا زاویۂ نظر روایتی “طویل المدتی گوریلا جنگ” کے تصور سے مختلف ہے اس میں شدت، جدت اور علامتی اثرات کو زیادہ اہمیت ہے۔ فلسفیانہ طور پر اسے وجودیت کے اس تصور سے جوڑا جا سکتا ہے جس میں فرد اپنے عمل کے ذریعے اپنی حقیقت تخلیق کرتا ہے۔ نوجوانوں نے اگر یہ طے کیا کہ انہیں “یہیں جینا اور یہیں مرنا ہے”، تو یہ صرف جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک نفسیاتی عزم کی صورت اختیار کر گیا۔ اس عزم نے تحریک کے بیانیے کو تبدیل کیا، اور یہ احساس پیدا کیا کہ مذاکرات یا پس پردہ مفاہمت کی گنجائش اب پہلے جیسی نہیں رہی کیونکہ میدان میں ایک نئی نسل موجود ہے جو اپنے انتخاب کو براہ راست جدوجہد سے جوڑ رہی ہے۔

ریحان کے فدائی حملے نے بلوچ سیاسی اور سماجی حلقوں پر صرف وقتی اثرات نہیں چھوڑے، بلکہ اس نے تاریخی بلوچ علاقوں میں قومی شعور کی نئی روشنی بھی پھیلائی۔ ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور تونسہ جیسے علاقوں میں بھی آزادی کی تحریک کے جذبے کو جگایا۔

سمی اور رشید بزدار سب سے حالیہ اور روشن مثال ہیں۔ ان کے اقدام نے پوری دنیا کے سامنے یہ پیغام واضح کیا کہ استعماری بندوبست کے باوجود تاریخی بلوچ علاقے کبھی بھی آزادی کے خواب کو قربانی کے بغیر نہیں دیکھیں گے۔ یہ قربانیاں محض افراد کی بہادری کی علامت نہیں، بلکہ ایک پورے معاشرتی اور ثقافتی شعور کی عکاسی کرتی ہیں، جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔

تاریخی مثالیں بتاتی ہیں کہ جب قیادت نسل در نسل منتقل ہوتی ہے تو حکمتِ عملی بھی بدلتی ہے۔ ویتنام کی جدوجہد میں نوجوان قیادت نے روایتی طریقوں کو نئے انداز میں ڈھالا، الجزائر کی جنگِ آزادی میں نوجوانوں نے شہری اور دیہی حکمتِ عملی کو یکجا کیا، بلوچ تحریک کے حالیہ مرحلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان قیادت نے جدت اور شدت کو ترجیح دی، اور اس کا اثر گزشتہ چھ یا سات برسوں کی کارروائیوں اور بیانیے میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مجموعی طور پر 11 اگست 2018 کا واقعہ اور اس کے بعد کی پیش رفت نے تحریک میں نئی جان پھونکی۔ یہ جان صرف عسکری سطح پر نہیں بلکہ نفسیاتی، سماجی اور نظریاتی سطح پر بھی محسوس کی گئی ہے۔ نوجوانوں میں شمولیت کا رجحان بڑھا، خواتین کی موجودگی نمایاں ہوئی، اور بیرونِ ملک جانے کے بجائے زمینی وابستگی کو ترجیح دینے کا بیانیہ مضبوط ہوا۔ فلسفیانہ اور نفسیاتی اعتبار سے یہ وہ لمحہ تھا جب ایک عمل نے اجتماعی ارادے کو نئی سمت دی۔ آج کی شدت اور جدت کو اسی تسلسل کا حصہ ہے، جس میں تحریک نے اپنے اندرونی بحرانوں سے نکل کر ایک نئے مرحلے میں قدم رکھا، اور اپنی موجودگی کو محض بقا سے آگے بڑھا کر مؤثر اور فعال ہونے کے دعوے سے جوڑ دیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔