یعقوبِ دُرّا کی یاد میں – للّا بلوچ

14

یعقوبِ دُرّا کی یاد میں

تحریر: للّا بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

دشت کے بیابانوں میں صدیوں تک اشرفِ دُرّا کی آواز گونجتی رہی ہے۔ ایک توانا، دردناک آواز جس نے بلوچی موسیقی میں زہیرونک کو توان بخشی۔ اشرفِ دُرّا کی درد بھری آواز نے بلوچی موسیقی میں زہیرونک کی راگ کو تشکیل دیا ہے۔ سازندے، چرواہے اور دور بیابانوں کی بلوچ کماش اپنے پیاروں کی یاد میں جب زہیرونک کی راگ الاپتے ہیں تو بلند چٹانیں زمانوں کی یاد کو اپنی تہہ سے نکال کر ہلکا محسوس کرتی ہیں۔

اشرفِ دُرّا آج ایک ساز کا نام ہے، عہد کا نام ہے جو اپنوں کی زہیر کو موسیقی کے وسیلے بیان کرنے کا ہنر بلوچ کو سکھا کر گئے۔ آج وہی اشرفِ دُرّا کی سرزمین دشت نے ایک ایسے ہی ساز کو دفن کیا جس نے گلزمین کی غلامی کے خلاف سینکڑوں میل کا سفر کیا، سینکڑوں میل، شور کے چٹانوں میں اپنی بندوق کی ساز سے غلامی کی راگ کو چھیڑا۔ اس کہانی کا کردار یعقوب ہے، یعقوبِ دُرّا جس کی خاموش گونج دشت سے میلوں دور شور پارود و مستونگ کے محاذوں میں گونجتا ہوا امر ہوا۔

بلوچ عموماً اپنے بچوں کی ولادت کو کسی واقعے، کسی سانحے سے جوڑ کر یاد کرتے ہیں اور یعقوبِ کی ولادت کو سیلابی سال سے یاد کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں یعقوبِ کا جنم گاؤں میں سیلابی صورتحال کے دوران ہوا جس کی سال 2005 ہے۔ اس حساب سے یعقوبِ کی عمر اس کی شہادت تک صرف اکیس سال تھی۔

اکیس سالہ دُرّا نے اپنے سفر کی تگ و دو میں کئی راستے تلاش کیے، بھڑکتا رہا، ان گنت ماحول میں سانس لیتا رہا۔ کبھی ملاّ شاہ میر کی مدرسے میں قرآن پڑھتا رہا، شاہ میر کی جہادی ماحول میں پنپتا رہا، اس کی راہ میں جہادی محاذوں میں بھڑکتا رہا لیکن پھر انہی گمراہ راہوں سے نکلتا نکلتا ایک ایسی ابدی راہ کا مسافر بن گیا کہ اس راہ میں کبھی کسی نے بھی ان کو واپسی کے لیے منّت سماجت کی کوشش نہیں کی۔ کبھی کسی نے ان کی راہ کو گمراہ نہیں کہا اور دُرّا وہ سرمچار جن کے لیے راستے صرف مقدس بنتے رہے۔ وہ اس راہ کی میدانوں میں گنگناتا رہا، اس کی چٹانوں کو بوسہ دیتا رہا اور ان پہاڑوں کی مجلسوں میں اپنی جنگی داستانیں سناتا ہوا امر ہوا۔

دُرّا بلوچ قوم پرست بیانیے کی عملی اظہار ہیں جس نے تنظیمی فیصلے پر لبیک کہتے ہوئے شور کو اپنا مسکن بنایا، گرگینہ میں مورچہ زن ہوتا رہا اور انہی جنگی ساعتوں میں اپنے گاؤں سے سینکڑوں میل دور ایک ایسی محاذ پر خاموشی سے لڑتا رہا جہاں ہر قبضہ گیر نے لسانی پیچیدگیوں کو قومی پیچیدگی بتا کر قومی تشکیل کو متضاد بنایا لیکن دُرّا نے اُس عظیم قومی جذبے کی پیروی کی جس کے سینے میں سائیجی اور شور پارود ایک ہی قطار میں شمار ہوتے ہیں اور جس کی گود میں بلوچستان کے سارے پہاڑی رینج بلوچ کی کلات سے نامزد ہیں اور اس کی پاسبانی کے لیے گرگینہ و دشت کے جانباز ہر پل، ہر دم اور ہر ساعت تازہ دم ہیں۔

آج دشت میں جسمانی طور پر نہ اشرفِ دُرّا موجود ہیں اور نہ ہی یعقوبِ دُرّا لیکن ان کی گونج دشت کے بیابانوں میں، سرسبز باغات میں اور خاموش چٹانوں کے آر پار سالوں تک اپنی موجودگی کی گواہی دیں گے۔ اشرفِ دُرّا کی ”زہیرونک“ کی راگ یعقوبِ دُرّا کی یاد میں گنگناتے رہیں گے جنہوں نے بلوچ زمین کی خود مختاری کے لیے شور کی دشوار محاذ کو بلا خوف و خطر قومی ذمہ داری کے طور پر انجام دیا اور گرگینہ میں عید کے دن موت کو کندھا پیشانی سے قبول کیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔