کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ کو آج 6127 دن مکمل ہو گئے۔ یہ کیمپ جبری گمشدگیوں کے خلاف اور لاپتہ بلوچ شہریوں کی بازیابی کے لیے جاری ہے، اور متاثرہ خاندانوں کے صبر، استقامت اور انصاف کی امید کی عکاس ہے۔
اہلخانہ نے وی بی ایم پی سے رابطہ کرکے محمد صدیق کی جبری گمشدگی کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ ان کے مطابق، محمد صدیق ولد شیر محمد کو رات 12 بجے کلی اسماعیل، کوئٹہ میں ان کے گھر سے سی ٹی ڈی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے خاندان کے سامنے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ سے بارہا رابطہ کرنے کے باوجود نہ تو محمد صدیق کی گرفتاری کی وجوہات بتائی جا رہی ہیں اور نہ ہی ان کی خیریت کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔
وی بی ایم پی نے اہلخانہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تنظیم محمد صدیق کے کیس کو آئینی اور قانونی طریقے سے اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھائے گی اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرے گی۔
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ محمد صدیق کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنا، نامعلوم مقام پر رکھنا اور لواحقین کو معلومات فراہم نہ کرنا ملکی قوانین اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وی بی ایم پی اس عمل کی شدید مذمت کرتی ہے اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ محمد صدیق کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے اور قانونی چارہ جوئی کا مکمل حق دیا جائے۔

















































