ڈیرہ بگٹی: خاتون سمیت 16 افراد جبری لاپتہ

21

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی، بالخصوص سوئی شہر اور اس کے نواحی علاقوں سے جبری گمشدگیوں کے متعدد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں پاکستانی فورسز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے شہریوں کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیے جانے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق سوئی شہر سے مزید تین افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے، جن کی شناخت نبی بخش ولد محوت بگٹی، نبی بخش عرف لایوں ولد بنا بگٹی اور عثاما عرف نادو ولد نیک محمد بگٹی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ یہ تینوں افراد قبیلہ بگٹی کی ذیلی شاخ حبیبانی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ تین روز کے دوران اسی شاخ سے تعلق رکھنے والے پانچ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا چکا ہے، جبکہ مجموعی طور پر سوئی شہر سے آٹھ افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی دوران سوئی کے علاقے پٹ فیڈر سے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں نے گلمیر ولد بند علی بگٹی کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جن کے بارے میں تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔

مزید برآں، 7 اپریل کی صبح سوئی کے محمد کالونی سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے کریم ولد رحیم بخش بگٹی کو جبری طور پر لاپتہ کیا، جبکہ 9 اپریل 2026 کو صدیق ولد نظر علی بگٹی کو بھی سی ٹی ڈی نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا، جو تاحال بازیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ضلع ڈیرہ بگٹی میں پاکستانی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے، جس کے دوران ایک 65 سالہ معمر خاتون کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ مذکورہ خاتون، جو شاہل ممدازی بگٹی کی اہلیہ ہیں، کو پِرکوہ ٹاؤن سے ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لیا۔

اسی کارروائی کے دوران مزید نو افراد کو ڈیرہ بگٹی ٹاؤن سے سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جن کی شناخت درج ذیل ہے:

ارباز ولد اکرم خان بگٹی، قاسم علی ولد لیمو خان بگٹی، جبار خان ولد حیات بگٹی، متین ولد حیات بگٹی، سجاد ولد بلال بگٹی، امین ولد نور دین بگٹی، رہزان ولد داد محمد بگٹی، دین محمد ولد رحیم بخش بگٹی اور دوست علی ولد ملوک بگٹی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ کریک ڈاؤن ممکنہ طور پر علاقے میں تیل و گیس کی تلاش کے منصوبوں کے تناظر میں کیا جا رہا ہے، جس کے لیے ممکنہ فوجی آپریشن کی تیاریاں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔

انسانی حقوق کے حلقوں نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے کو فوری طور پر بند کیا جائے۔