ٹرمپ کا ایران میں مظاہرین کو امریکی اسلحہ فراہم کرنے کا دعویٰ

0

واشنگٹن امریکی صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کو خفیہ طور پر اسلحہ فراہم کرنے کی کوشش کی تھی۔

امریکہ کو امید تھی کے گذشتہ سال مقامی سطح پر شروع ہونے والے بڑے پیمانے پر مظاہرے ایرانی حکومت و پاسدران انقلاب کے خلاف استعمال ہونگے۔

تاہم امریکی صدر نے انکشاف کیا ہے کہ انکے جانب سے بھیجی گئی یہ اسلحہ اپنے مطلوبہ ہدف تک نہیں پہنچ سکے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے بڑی مقدار میں ہتھیار ایرانی مظاہرین تک پہنچانے کے لیے بھیجے اور مبینہ طور پر یہ اسلحہ کرد گروہوں کے ذریعے منتقل کیا جانا تھا۔

ان کے بقول یہ ہتھیار مظاہرین تک نہیں پہنچ سکے اور امکان ہے کہ درمیانی کردار ادا کرنے والے عناصر نے انہیں روک لیا یا خود ہی رکھ لیا، تاہم اس دعوے کی کسی بھی معتبر اور آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

امریکی حکومت یا متعلقہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بھی اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب کرد حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایسی کسی امریکی اسلحہ کھیپ کی ترسیل موصول نہیں ہوئی اور انھوں ٹرمپ کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ ایران، اسرائیل، امریکہ تنازع کے دوران امریکی میڈیا نے یے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ سی آئی اے کے زریعہ کرد گروہوں کو اسلحہ فراہم کرکے ایران کے خلاف زمینی فوج کے طور پر استعمال کریگی۔

کرد حکام و عراق میں خودمختار کردستان کے خاتون اول نے بیان دیا تھا کہ کرد کسی کے لئے کرائے کے بندوق نہیں بنے گے، متعدد کرد گروپ اور سربراہاں نے امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

مزید برآں علاقائی مبصرین کے مطابق کرد قیادت عمومی طور پر ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کی پالیسی اپناتی رہی ہے، خاص طور پر موجودہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے تناظر میں۔

واضح رہے کہ ایران میں حالیہ عرصے کے دوران، خصوصاً 2025 کے آخر اور 2026 کے آغاز میں، معاشی مشکلات، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کے مطابق ان مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کریک ڈاؤن کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا بیان نہایت سنجیدہ نوعیت کا دعویٰ ہے، کیونکہ کسی خودمختار ملک کے اندر مظاہرین کو اسلحہ فراہم کرنا بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے تاہم جب تک اس کی ٹھوس شواہد یا آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آتی اسے ایک غیر مصدقہ دعویٰ ہی تصور کیا جا رہا ہے۔