بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پیر کے روز مسلح افراد کی جانب سے مختلف مقامات پر مربوط کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی، پولیس تھانے پر حملہ اور پاکستانی فورسز کے ساتھ جھڑپ شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق درجنوں مسلح افراد نے مستونگ میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی قائم کی، جہاں انہوں نے گاڑیوں کی تلاشی لی، بعض اطلاعات کے مطابق حملہ آور چند افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔
اسی دوران، مسلح افراد نے ایک مقامی پولیس تھانے پر حملہ کیا اور اہلکاروں کو یرغمال بنانے کی کوشش کی۔ پولیس حکام کے مطابق اہلکاروں کی مزاحمت اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی بروقت کمک پہنچنے پر حملہ آوروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، حملے میں فورسز کے جانی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔
مزید برآں، ڈپٹی کمشنر کمپلیکس کے قریب سے ایک بم بھی برآمد ہوا، جسے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنا دیا۔
تاحال کسی نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی جانب سے پاکستانی فورسز اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔













































