فلسفہِ سرمچاریت، شعوری مرگ، انسانی مقصدیت، اور فنا ہونے کا حقیقی تصور!
تحریر: ہارون بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
علمِ فلسفہ میں کئی جگہ فنا ہونے کو ہی انسانی شعور کی انتہا سمجھا جاتا ہے، یا اسے شعور کی وہ سطح کہا جاتا ہے جہاں انسان وہ تمام حدود پار کر جاتا ہے جن میں وہ جکڑا ہوا ہو۔ یا وہ انسانی آزادی کے اس تصور اور مقام تک پہنچ جاتا ہے جو اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہتا ہے اور جو اپنی تشکیل خود کرتا ہے۔
کیونکہ فنا ہونے کا مطلب جسم کا مٹی بن جانا نہیں، بلکہ شعوری طور پر ان تمام سماجی و دنیاوی حدود سے الگ ہونا ہے جو انسان کے اندر کنسٹرکٹ کی گئی ہوں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آپ کا جسم محض ایک فکر انگیزی کا ترجمہ کر رہا ہو، جہاں زندگی مرگ کی فکری اور روحانی حقیقت کو جذب کر چکی ہو، اور اس حقیقت تک پہنچ چکی ہو جہاں انسان خود کو مکمل طور پر مقصد کے لیے معنی دے دیتا ہے، اور اس انسانی مقصدیت کو اپنی زندگی میں تلاش کر لیتا ہے جو نہایت پیچیدہ ہے اور عام انسانی تصور کی سمجھ سے بہت دور ہے۔
ہم اکثر جسمانی موت کو ہی زندگی کا فنا ہونا تصور کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کا خاتمہ اس وقت ہو جاتا ہے جب انسانی جسم کام کرنا ترک کر دیتا ہے، مگر جب ایک انسان شعوری مرگ تک پہنچتا ہے تو وہ ایک بالکل مختلف نوعیت کی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ وہ حقیقی معنوں میں زندگی کے بنیادی فلسفے اور اس کے تصور تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔
شعوری مرگ میں زندگی کا تصور ایک ایسا فلسفہ ہے جہاں ایک ڈھانچہ فکری صورت میں سانس لے رہا ہوتا ہے، البتہ وہ ذات سے مکمل طور پر لاتعلق ہوتا ہے۔ اس کی ذات جسمانی طور پر موجود ہوتی ہے، لیکن وہ شعوری اور فکری طور پر ختم ہو چکی ہوتی ہے، اور اب وہ ایک سوچ اور فکر انگیزی کے تحت زندہ ہوتا ہے۔ اس کی سانسیں جسم کی ہوتی ہیں، مگر اس کے خیالات ایک فکر کی قید میں ہوتے ہیں۔ وہ ہر سماجی اور مادی احساس سے الگ، ایک خالص فکری احساس کے ساتھ زندہ ہوتا ہے۔ اس کے محسوسات ذاتی کیفیت تک محدود نہیں رہتے بلکہ اجتماعی زندگی کے تصور اور فکر میں ڈھل جاتے ہیں۔
مجھے اس فلسفی کا درست علم نہیں، مگر میں نے کہیں پڑھا تھا کہ فنا ہونا انسانی شعور کے آخری مقام تک پہنچنے کا مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ انہوں نے یہ بات کس کیفیت اور احساس کے ساتھ کہی تھی، مگر اس مفہوم میں “فنا” وہ مقام ہے جہاں “میں” ختم ہو جاتا ہے اور صرف “وہ” باقی رہ جاتا ہے۔ تاہم، محض الفاظ کی حد تک اس بات کو سمجھ لینا اور حقیقتاً اس مقام تک پہنچ جانا دو مختلف مراحل ہیں۔
سرمچاریت کے فکری مقام تک پہنچنا بھی آسان نہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں “میں” کا تصور ختم ہو جاتا ہے، مگر یہ صرف لفظی دعویٰ نہیں ہوتا بلکہ ایک عملی اور وجودی کیفیت ہوتی ہے۔ میں پہلے یہ سمجھتا تھا کہ شعور ہمیشہ اس ہستی کا مرحلہ ہے جو شعور کو محسوس کرتی، سمجھتی یا اس کا ادراک رکھتی ہے، مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ انسان کے لاشعور میں بھی ایک اجتماعی شعور جنم لے، جسے وہ براہِ راست سمجھنے سے قاصر ہو، مگر اسی کیفیت کو جیتا رہے؟
وہ اس اجتماعی فکر کو شعور کے طور پر نہیں بلکہ سرمچاریت کے معیار کے طور پر اختیار کرتا ہے، حالانکہ بنیادی طور پر یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی شعور اپنی آخری انتہا کو پہنچتا ہے۔ اپنے لاشعور میں اس اجتماعی شعور کو پیدا کرنا یا اس مقام تک پہنچنا ہی فلسفہِ سرمچاریت کی بنیاد ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو ایک عام انسان کو کسی کالونیل سماج کی پیدا کردہ تمام زنجیروں سے آزادی دلاتا ہے نہ صرف جنگی یا سیاسی میدان میں بلکہ انسانی، اخلاقی اور شعوری سطح پر بھی اور اسے انسانیت کے اس مقام تک لے جاتا ہے جسے فلسفی محض ایک تصور کے طور پر زیرِ بحث لاتے رہے ہیں۔
سننے یا پڑھنے کی حد تک انسانی شعور کی اس انتہا تک پہنچنا ایک خیالی یا یوتوپیائی تصور محسوس ہو سکتا ہے، مگر غور کریں کہ ایک ایسا انسان جسے نام نہاد جدید علم کے ابتدائی اصولوں کا بھی علم نہ ہو، وہ اس مقام تک کیسے پہنچ جاتا ہے جہاں وہ اپنی ذات سے “میں” کا تصور مکمل طور پر ختم کر چکا ہوتا ہے؟
وہ اپنے احساسات اور جذبات کو ہماری طرح الفاظ کے بہاؤ میں بیان کرنے سے قاصر ہوتا ہے، مگر عمل کی سطح پر وہ شعوری مرگ اور اجتماعی تحریکی شعور تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اس نے اپنی ذات سے عملی طور پر “میں” کا تصور ختم کر دیا ہوتا ہے۔
شعوری طور پر مرگ انسان کے اس مقام تک پہنچنے کا مقام ہے جہاں آپ اپنے اختتام کے ساتھ ایک شعوری اور حقیقی رشتہ قائم کرتے ہیں، اپنے اختتام کو سمجھتے ہیں، اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں، اس کے بارے میں سوچ سکتے ہیں، لیکن اس نتیجے پر پہنچنے کا مقام کسی فرسٹریشن، جذباتیت، یا واقعے کے تناظر میں نہیں ہوتا بلکہ اس شعوری اور فکری مقام تک پہنچنے کے مقام پر ہوتا ہے جہاں آپ اجتماعی زندگی اور اجتماعی سماجی مفادات و اپنی زندگی کی مقصدیت حاصل کرنے کے لیے فنا ہونے کا تصور قبول کرتے ہیں۔ جہاں موت ایک شوق، خواہش یا ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک شعوری فکر کا حصہ بن جاتی ہے، یہاں اپنی موت کا صرف چناؤ نہیں بلکہ زندگی کے ہر لمحے کو انہوں نے ایک اجتماعی شعوری مقصد کے لیے فنا کر دیا ہے اور اب وہ سانسیں صرف اسی اجتماعی شعور کو آگے لے جانے کے لیے لے رہا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جسے فلاسفرز نے خدا سے ملاقات یا ملنے کا درجہ دیا ہے جہاں آپ خدا سے اپنا ایک روحانی تعلق قائم کرتے ہیں کیونکہ شعوری مرگ کا فلسفہ انسانی زندگی کے شعوری مقام کی آخری سطح تک پہنچنے کا مقام ہوتا ہے جس کے بعد انسانی زندگی کی ذاتی مقصدیت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ اس مقام تک پہنچنے کا عمل ہے جہاں آپ شعوری یا لاشعوری طور پر ان تمام پیدائشی تصورات کا خاتمہ کرتے ہوئے اپنی شرائط، فکر، انداز اور سوچ کے مطابق زندگی کی مقصدیت تک پہنچتے ہیں۔
جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ شعوری، فکری، معاشی، سیاسی کسی بھی حوالے سے لاعلم ہوتا ہے، جب وہ وقت کے ساتھ بڑا ہونا شروع کرتا ہے تو گھر سے اس کی زندگی کی عادتیں، زبان، سوچنے اور دیکھنے کے انداز کا فیصلہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ مدرسے میں پڑھ کر ایک مذہبی طرزِ زندگی اختیار کرے گا یا انگلش لینگویج سینٹرز یا مغربی طرز یا مغربی اورینٹڈ سلیبس پڑھ کر ایک مغربی تعلیمی نظام کے ڈھانچے کے دائرے میں رہ کر ایک انسان بنے گا یا اپنے اندر انہی خیالات و تصورات کو پیدا کرے گا۔ اس کے اخلاقیات کیا ہوں گے؟ اگر لڑکی ہوئی تو اسے کن بندشوں اور طریقوں کے مطابق اپنی زندگی کو شروع اور ختم کرنے کا ایک پورا ڈھانچہ دیا ہوتا ہے۔ ان کے گھر میں تیس سے ستر سال کے تجربہ یافتہ لوگ ہوتے ہیں جو انہیں یہ سکھاتے ہیں کہ زندگی کہاں اور کیسے شروع کرکے اس مقام تک پہنچا جائے اور کیسے موت تک انہی روایات اور سوچ کو اپنایا جائے۔ یہ سماج کے چند افراد کی تشکیل کردہ ایک زندگی ہوتی ہے جہاں آپ لاشعوری یا اجتماعی طور پر ایک غیر انسانی سماجی ڈھانچے کا پیدا کردہ ایک ڈھکوسلا زندگی گزارتے ہیں۔
انسان اس وقت زندگی کرنے کا آغاز کرتا ہے جب وہ ان بندشوں کو توڑنا شروع کر دیتا ہے، یہاں سماجی حقیقت یا سماج سے مزاحمت نہیں بلکہ ان دائروں اور تصورات سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہے جنہوں نے اسے زنجیروں کی طرح باندھ رکھا ہے۔ بالخصوص بلوچ جیسے ایک غلام سماج کے اندر رہتے ہوئے ہر چیز بے مقصدیت میں ڈھلی ہوتی ہے۔ آپ تصور کریں، جس تہذیب، علم، طرزِ زندگی، فکری سوچ اور شعور کی بنیاد پنجابی علم کے دائرے میں رکھی جائے یا انگریزوں کی غلامی کرنے والے ان نام نہاد قبائلی میر و معتبر کی جانب سے رکھی جائے جو انسانی شعور، سماجی تعلیمات، علمِ فلسفہ، سائنس، جدید اور ماڈرن نالج سسٹم سے دور دور تک تعلق نہ رکھتے ہوں اور وہ آپ کو زندگی جینے کے آداب یا تصورات دے رہے ہوں تو ایسی زندگی کس حد تک بے مقصد اور بے معنی رہتی ہے، آپ اس کا اندازہ لگانے سے بھی قاصر ہیں۔
ان تمام دائروں سے بغاوت کرنا بھی شعوری مرگ یا انسانی شعور کے اس مقام تک پہنچنا نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف ایک آغاز ہوتا ہے جہاں آپ ابتدائی قدم اٹھاتے ہیں۔ اس کے بعد خوف کا مرحلہ آتا ہے، بچپن سے لے کر جس عمر تک آپ شعوری یا لاشعوری طور پر بغاوتی سوچ اپناتے ہیں اس وقت تک خوف آپ کے اندر ڈھل چکا ہوتا ہے۔ اپنے خوف کا خاتمہ کرنا ایک نئی جنگ کا آغاز ہوتا ہے، پھر ان خواہشات کا خاتمہ جو سماجی فکر اور علم کے دائرے میں آپ کے شعوری یا ذہنی سطح کا حصہ بن چکی ہوتی ہیں، پھر ان سے چھٹکارہ حاصل کرنا۔
پھر بلوچ سماجی اجتماعی شعور اور سیاسی علم و شعوری و نظریاتی فکر سے تعلق اور پھر اس کے ساتھ آنے والی مادی خواری، تکالیف اور مشکلات کو قبول کرنا بھی ایک مرحلہ ہے۔ یہاں تک پہنچتے پہنچتے اگر آپ اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں تو یہاں بھی خودی کا اختتام نہیں ہوتا (یاد رہے یہ فلسفہِ سرمچاریت کے تحت لکھا جا رہا ہے اس لیے اس اجتماعی شعور یا مقصدیت کا تعلق بلوچ سماج کے تناظر میں ہے) بلکہ یہ بھی اس مقام تک پہنچنے کی ایک سیڑھی ہوتی ہے، البتہ یہاں آپ کو اجتماعی مقصدیت اور فکر انگیزی کا موقع ملتا ہے۔
یہاں سے وہ مادی حالات پیدا ہوتے ہیں جہاں آپ شعوری مرگ کے مقام تک پہنچ سکتے ہیں، جہاں آپ فنا ہونے کے حقیقی تصور اور فکر تک پہنچ سکتے ہیں۔ شعوری مرگ اور فنا ہونے کا تصور ایک معمولی یا عام علم نہیں، یہ صرف جان دینے و جان لینے یا بندوق ہاتھ میں لینے یا دشمن کے ساتھ دوبدو لڑائی لڑنے کا مقام بھی نہیں بلکہ یہ سرمچاری زندگی میں ایک ایسی خیالی یا تصوراتی حقیقیت ہے جس تک پہنچنا یقیناً چند مخصوص افراد ہی پہنچ سکتے ہیں، اور جو اس مقام تک پہنچتے ہیں وہ باکمال ہوتے ہیں، وہ اپنے اثرات چھوڑتے ہیں اور ان کا کردار کئی شکلیں اختیار کرتا ہے۔
بیشتر سرمچار اجتماعی شعور اور فکر کے سائے میں رہ کر لاشعوری طور پر اپنے عمل، کردار اور اجتماعی حقیقت و تحریکیت کو مدنظر رکھ کر یہ مقام حاصل کرتے ہیں جبکہ چند چنیدہ انسان اسے شعوری طور پر قبول کرنے کے لیے خود کی تشکیل کرتے ہیں۔ آپ شعوری یا لاشعوری دونوں مرحلوں میں کسی بھی نتیجے پر پہنچ کر جب یہ مقام حاصل کرتے ہیں تو آپ انسانی خوشی کی اس انتہا کو محسوس کرتے ہیں جو جنسی تعلق بھی آپ کو فراہم نہیں کر سکتا۔
یہ ایک ایسی کیفیت اور خمار ہے جو ایک لمحے یا ایک گھنٹے کے لیے یا ایک مقام تک پہنچ کر ختم ہونے والی چیز نہیں بلکہ اس خوشی کی شدت ہر لمحہ بڑھتی جاتی ہے۔ ہر ایک چھوٹا لمحہ آپ کو زندگی کی ایک نئی خوشی اور احساس عطا کرتا ہے، جہاں آپ ہر خوف، لالچ، غرض، شوق، خواہش اور طلب سے مکمل طور پر آزاد ہو جاتے ہیں۔ یہاں سے ایک ایسی فکری اور اندرونی سادگی آپ کے اندر جنم لیتی ہے جو بے غرض ہوتی ہے، جس کے لیے مادی حالات اور ضروریات معنی نہیں رکھتے، پھر وہ فکری و شعوری زندگی میں داخل ہو جاتا ہے جس میں اسے صرف “وہ” یعنی اپنی مقصدیت سے جڑے افراد کا خیال اور سوچ رہتا ہے، پھر وہ مقصد کا ہو جاتا ہے۔
جب آپ مکمل طور پر مقصد کا ہو جاتے ہیں تو پھر آپ ہر اس مقامِ عمل اور کردار سازی تک پہنچ سکتے ہیں جس کا تقاضا آپ کی مقصدیت آپ سے کرتی ہے۔ یقیناً دنیا کے تمام فلاسفرز اور مفکرین نے انسانی شعوری فکر پر کئی بڑے تبصرے کیے ہیں، لیکن ان میں سے چند چنیدہ افراد ہی ہوں گے جنہوں نے موت سے یا شعوری مرگ سے اپنا رشتہ قائم کر لیا ہو۔ جب کوئی انسان خود اس مقام تک نہیں پہنچتا تو وہ اس مقام کو کیسے بیان کر سکتا ہے، اور وہ بھی ایک حقیقی شکل میں؟ جب میں شعوری مرگ کی بات کر رہا ہوں تو اس مقام تک پہنچنے کا عمل بھی کوئی آسان ہدف نہیں ہوتا، اور نہ ہی اجتماعی طور پر ایک ایسے ماحول یا شعوری ارتقا کی بنیاد رکھنا ایک عام انسانی سوچ یا تصور کے دائرے میں آتا ہے۔
آپ اس کیفیت اور احساس کو سمجھنے میں اس وقت ناکام رہتے ہیں جب آپ خود شعوری مرگ کے مقام تک نہیں پہنچے ہوتے۔ شعوری مرگ کے لیے یقیناً اس اجتماعی شعور اور فکری مقام تک پہنچنا ضروری ہوتا ہے جہاں انسان فنا ہونے کے تصور کو اندرونی احساس اور جذبات کے ساتھ قبول کرے۔ فنا ہونے کا تصور یعنی خودی کا مٹ جانا ہے، اپنے ایگو، خواہشات اور خودی سے جڑے ہر جذبے کا ختم ہونا ہے۔ یہ ایک جسمانی موت کے برابر ہوتا ہے جہاں صرف آپ کی روح، اور “وہ” کے لیے یعنی مقصدیت کے لیے جذبات، احساسات اور شعور بچتا ہے۔ جہاں آپ زندگی خودی کے لیے نہیں گزار رہے ہوتے بلکہ ایک مقصد، ایک فکر یا دوسروں کے لیے گزار رہے ہوتے ہیں، جہاں آپ موت کے فیصلے کو خودی سے جوڑتے نہیں بلکہ اسے اجتماعی فلسفے اور شعور کا حصہ بناتے ہیں۔ فنا ہونے کا تصور انسانی فکر اور علم کے آخری مقام اور شعور کی انتہا تک پہنچنے کا مقام ہوتا ہے۔
اس شعوری مقام کی سطح کیا ہے؟ یہ تحریر سرمچاریت کے تصور اور فلسفے پر لکھی جا رہی ہے، اس لیے ایک سرمچار جب اس مقام اور سطح پر پہنچ جاتا ہے جہاں خودی کا اختتام ہوتا ہے، جہاں “میں”، “میرا” جیسے تصورات اختتام پذیر ہوتے ہیں اور آپ اس کیفیت تک پہنچ جاتے ہیں جہاں صرف “وہ” (قوم، سنگت، سرزمین، مقصد) رہ جاتا ہے، تو آپ اس مقام اور مرحلے تک پہنچ چکے ہوتے ہیں جہاں آپ شعوری یا لاشعوری طور پر ایک انسانی مقصدیت کے مقام پر پہنچے ہوئے انسان ہوتے ہیں۔ جہاں مقصد ایک سیاسی فکر، سوچ، حکمتِ عملی یا کسی ٹائم فریم کے لیے آپ کے عمل کے نتیجے، جذباتیت یا ردِعمل کے دائرے میں نہیں رہتا بلکہ اس مقام پر آپ سرمچاریت کے فلسفے تک پہنچ جاتے ہیں جہاں انسانی شعور اور مقصدیت ایک اختتامی کیفیت تک پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ اس مقام تک پہنچنے کے بعد آپ صرف جسمانی سطح پر زندہ رہتے ہیں مگر آپ کی روح موت کے ساتھ رشتہ قائم کر چکی ہوتی ہے اور آپ اس زندگی کا اختتام کر چکے ہوتے ہیں جسے عام انسان جی رہے ہوتے ہیں یا اسے جینے کے لیے دن بھر کی دوڑ لگا رہے ہوتے ہیں۔
یہاں سے انسانی شعور ایک خیالی شکل میں اختتام پذیر ہوتا ہے اور آپ فنا کے مقام تک پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ آپ ایک مقصدیت میں ڈھل چکے ہوتے ہیں۔ آپ میں اور ایک عام انسان میں یہ فرق رہ جاتا ہے کہ ایک عام انسان اس مقام تک پہنچے بغیر موت کا مرحلہ طے کرتا ہے، جبکہ آپ زندگی کے معنی کو تلاش کرکے زندگی کے دوران ہی اس جذبے اور کیفیت سے گزر رہے ہوتے ہیں اور اسے محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک سرمچار بننا، یا بندوق تھامنا، یا کسی بھی مرحلے یا تصور کے تحت جنگ کا حصہ بننے سے آپ فلسفہِ سرمچاریت کے اس مقام تک نہیں پہنچتے، البتہ اس کا آغاز ایک قومی سرمچار بن کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ جب تک آپ اس مقام تک نہیں پہنچتے، آپ اس شعوری مقام کو حاصل نہیں کر پاتے جہاں تحریک کے اندر موجود خوشی، لذت اور اندرونی آرام محسوس کریں، اور پھر چھوٹے چھوٹے مادی حالات اندرونی جذبات سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ آپ سرمچار ہوتے ہوئے بھی سرمچاریت کا احساس رکھنے سے محروم ہوتے ہیں، پھر آپ اس انسانی شعور کے مقام تک نہیں پہنچ پاتے جہاں ایک فرد اجتماعی انسانیت اپنا کر خودی کو فنا کر چکا ہوتا ہے۔
لذت اور تکلیف کیا ہے؟ یہ سوال یہاں اس لیے اہم ہے کہ تکلیف ہمارے نزدیک ان مادی حالات سے جڑی ہوتی ہے جہاں ہم اگر بے گھر رہیں تو یہ تکلیف دہ زندگی ہے، اور جب ہمارے پاس ایک بنگلہ ہو تو ہم خوش رہیں گے۔ لیکن شعوری دنیا میں حقیقی جذبات، احساسات، خیالات، یادیں اور شعور ہی انسانی خوشی، غم اور تکلیف کا تعین کرتے ہیں۔ کیونکہ گاڑی، بنگلہ اور انٹرنیٹ جیسی مادی چیزیں حالیہ انسانی دریافتیں ہیں، جبکہ ہزاروں سال پہلے بھی انسان انہی جذبات، شعور اور احساسات کے ساتھ خوش تھا۔
نطشے اس پر خوبصورتی سے کہتا ہے کہ درد اور تکلیف انسانی ترقی کا ایک راستہ اور ذریعہ ہیں۔ جب تک آپ مادی درد و تکالیف سے نہیں گزریں گے، آپ ان حقیقی کیفیات، احساسات، خیالات اور درد سے ناآشنا رہیں گے جو زندگی کے بنیادی تصورات ہیں۔ وہاں پہنچ کر آپ مکمل تو نہیں ہوتے مگر اس انسانی شعور کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں جو سماج اور مختلف افراد کے طے کردہ یا پیدا کردہ دائرے سے آگے ہوتا ہے۔ یہاں سے آپ خود بن کر اور اپنے مقام تک پہنچ کر ایک انسان بنتے ہیں اور انسانیت کے معیارات کو پورا کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ یہیں سے آپ کی عظمت کا آغاز ہوتا ہے۔
دنیا میں کوئی حتمی تکلیف یا لذت نہیں بلکہ یہ مراحل ہیں، یہ انسانی عمل (پروسیس) کا حصہ ہیں۔ آج سے سو سال پہلے انسانی خوشی و تکالیف کے مادی حالات مختلف تھے اور آج مختلف ہیں، لیکن انسان کل بھی خوش رہ سکتا تھا، آج بھی رہ سکتا ہے، اور کل بھی تکلیف محسوس کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہے۔ فلسفہِ سرمچاریت اس مقام تک پہنچنے کا درجہ ہے جہاں آپ شعوری یا لاشعوری طور پر ان مادی حالات کو سکون، لذت اور خوشی میں تبدیل کر دیتے ہیں جو عام انسان کو میسر نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر ایک سرمچار شناختی بحران کا شکار نہیں رہتا ہے، جبکہ ایک غلام سماج میں ہر دوسرا انسان اس مسئلے سے گزر رہا ہوتا ہے۔ شناختی بحران کیا ہے؟ دنیا میں ہر انسان شناخت رکھنے کی خواہش رکھتا ہے، یہ اس کی نفسیات سے جڑا ایک لاشعوری پہلو ہے۔ طاقت اور شناخت ایسی خواہشیں ہیں جو ہر انسان کے دل میں ہوتی ہیں۔ اسی طرح ایک سرمچار جب شناخت حاصل کرتا ہے تو اس کی زندگی اپنی مقصدیت حاصل کر لیتی ہے۔ پھر اس کے بعد وہ خوشی کیسے پیدا کرتا ہے؟ جب وہ خودی کا خاتمہ کرتا ہے، جب وہ شعوری مرگ کا فلسفہ اپناتا ہے، جب وہ اجتماعی شعور میں اپنی لذت اور سکون حاصل کرتا ہے۔
چند لمحے سوچیں: آپ ایک فدائی سنگت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اس کے ساتھ رات دن بسر کر رہے ہیں یا سفر کر رہے ہیں۔ ایک فدائی انسان کیا ہے؟ کیا وہ ایک معمولی انسان ہے؟ نہیں، وہ شعوری مرگ کے مقام تک پہنچا ہوا انسان ہے جو انسانیت کے اعلیٰ ترین مقام پر کھڑا ہے۔ ایک فدائی کے احساسات، جذبات اور حقیقت سے جب آپ کا تعلق بنتا ہے، چند لمحوں کے لیے اس کے اندر موجود خوشی کو سمجھیں، اس کی لذت کا ادراک کریں کہ آپ ایک ایسے انسان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جس نے اپنی موت کا فیصلہ خود کیا ہوتا ہے۔ اس نے یہ فیصلہ اجتماعی شعور اور مقصدیت کو مدنظر رکھ کر کیا ہوتا ہے۔
عام انسانی زندگی میں موت خوف کی انتہا ہے۔ انسان ہر وہ ذریعہ اور طریقہ اپناتا ہے، بھیک مانگتا ہے، چندہ کرتا ہے، اربوں روپے خرچ کرتا ہے، تاکہ وہ زندہ رہ سکے۔ اپنی زندگی بچانے کے لیے وہ ہر چیز کرنے کو تیار ہوتا ہے۔ جبکہ آپ ایک ایسے انسان کے ساتھ جی رہے ہوتے ہیں، یا خود وہ انسان بن جاتے ہیں، جو شعوری مرگ تک پہنچ چکا ہوتا ہے اور زندگی میں ہی اپنا اختتام قبول کر چکا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ رہنا، زندگی گزارنا، اور جب آپ دونوں ایک ہی مقصدیت کا تصور شیئر کر رہے ہوں، تو کیا اس کیفیت سے بڑھ کر کوئی خوشی یا لذت ہو سکتی ہے؟
آپ انسانی زندگی کے کسی بھی زاویے سے دیکھیں، جب آپ موت یعنی مرگ سے اپنا شعوری رشتہ قائم کرتے ہیں تو جسمانی طور پر تو آپ زندہ ہوتے ہیں، مگر آپ نے مرگ کو خودی کے معنی میں نہیں اپنایا ہوتا، نہ ہی کسی ذاتی مقصد یا “میں” سے جوڑا ہوتا ہے، بلکہ یہ ایک شعوری اور فکری مقام ہوتا ہے جہاں آپ خود کو اجتماعی فکر و شعور کے حوالے کر دیتے ہیں۔ پھر ان احساسات، جذبات اور درد کو سمجھنا یا ان میں جینا، چند لمحوں کے لیے اس کی لذت کا اندازہ کریں۔ جب آپ فنا ہوتے ہوئے بھی جی رہے ہوتے ہیں، ان احساسات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں جن کا عام دنیا میں تصور بھی بہت دور ہے، بلکہ یہاں تک پہنچنے کا تصور بھی نہیں کیا جاتا۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی لذت، خوشی یا احساس ممکن ہے؟
جب آپ فلسفہِ سرمچاریت کو اپناتے ہیں تو آپ اس مقام کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو عام انسانی زندگی میں ناممکن رہتا ہے، یا میں سمجھتا ہوں کہ اسی مقام تک پہنچنا انسانیت کے آخری مقام تک پہنچنے کا مرحلہ ہوتا ہے، جہاں آپ کے جذبات، خواہشات، فکر اور تصورات آپ کی ذات سے مکمل طور پر یا مادی حالات سے نہیں بلکہ دنیاوی شعور، فکر اور اجتماعی مفادات کے دائرے میں ہوتے ہیں، جب آپ اپنے اندر موجود خودی کا خاتمہ کر چکے ہوتے ہیں۔
اس مقام تک پہنچا ہوا کوئی انسان ایک معمولی انسان نہیں بلکہ شعوری سطح کے آخری مرحلے کو پہنچا ہوا انسان ہوتا ہے، جس کے لیے ہر فیصلہ، ہر کام، اور ہر درد و تکلیف سہنا آسان ہو جاتا ہے۔ پھر وہ ان دنیاوی خوشیوں سے آگے جا کر اسی سماج کے اندر رہتے ہوئے احساس، جذبات اور اندرونی خوشیوں سے تعلق قائم رکھتا ہے۔ اندرونی خوشی اور لذت مادی خوشی سے اس لیے اہمیت رکھتی ہے کہ وہ وقتی نہیں ہوتی بلکہ دائمی ہوتی ہے۔ آپ کا ہر لمحہ اندرونی لذت حاصل کر رہا ہوتا ہے، آپ ہر لمحے کو جی رہے ہوتے ہیں، آپ کا جسم کسی بھی تکلیف اور خواری کو محسوس نہیں کرتا بلکہ ہر لمحہ وہ لذت میں رہتا ہے۔ یہ اصل اور حقیقی خوشی اور لذت کے مقام تک پہنچنا ہوتا ہے۔
میں فلسفہِ سرمچاریت کو بلوچ سماج کے تناظر میں اعلیٰ ترین زندگی سمجھتا ہوں، بلکہ یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے۔ یہ ایک دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ بدقسمتی سے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ایک عام انسان کو فنا ہونے کے مقام تک پہنچنا ہوتا ہے، ان تمام سماجی رویوں اور دی گئی تعلیمات سے آزاد ہونا ہوتا ہے، کیونکہ یہاں آپ مادی تصورات، کالونیل ایجوکیشن، غلام سماج کی سماجی عادات، یادداشتوں اور بندشوں سے آزاد ہو کر اجتماعی مقصدیت کے اندر شعوری مرگ میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ مجھے علم نہیں کہ فلسفے کی زبان میں یہ کون سا مقام ہوتا ہے اور اس کو زندگی کے آخری مقام یا شعور حاصل کرنے کی سطح کہا جا سکتا ہے یا نہیں، البتہ جس کیفیت اور احساس سے اس مقام تک پہنچنے والا ایک سرمچار گزر رہا ہوتا ہے، وہ اس فکر اور اس لذت و خوشی کو محسوس کر رہا ہوتا ہے جو عام زندگی میں ممکن نہیں ہوتی۔ وہ ان احساسات سے گزر رہا ہوتا ہے یا انہیں محسوس کر رہا ہوتا ہے جن کے ساتھ ہر لمحہ خوشی اور لذت اپنی انتہا کو پہنچے ہوتے ہیں۔
یہاں درد ایک الگ معنی رکھتا ہے، مادی ضروریات الگ معنی رکھتی ہیں، اور جذبات ایک الگ شکل میں شعوری طور پر موجود ہوتے ہیں۔ یہاں مرتے وقت ایک نوجوان کے لیے موت کا خوف اہم نہیں ہوتا بلکہ یہ پیغام اہم ہوتا ہے کہ وہ قوم تک پہنچے کہ وہ اس زندگی کا اختتام کس مقصد کے لیے کر رہا ہے، اس کی زندگی کو مرنا کیوں ضروری ہے تاکہ وہ شعوری، فکری اور اس زندگی کا مقام حاصل کر سکے، کیونکہ وہ اجتماعیت کے اندر فنا ہو چکا ہوتا ہے۔
ایک دن بحث کے دوران ایک سرمچار بڑے معصومانہ اور عاجزانہ، مگر گہری کیفیت میں کہہ رہا تھا کہ مجھ جیسے ایک سرمچار کو مرنا ہے! میں نے کہا کہ ہم سب کو زندہ رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے اور مقصد و آزادی حاصل کرنی چاہیے۔ اس نے معصومانہ انداز میں ہنستے ہوئے کہا کہ ہم جیسے لوگ موت کے لیے ہیں، زندگی ان کو کرنی چاہیے جو ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں، یا ان ذمہ داریوں کو نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یا اس مقصد تک پہنچانے کے طریقے سے آشنا ہیں۔ ہمیں مرنا ہے تاکہ مقصد اور شعور زندہ رہیں، تاکہ مقصد اپنے اختتام کو پہنچے تاکہ قوم کے اندر غلامی و آزادی کا شعور بیدار ہو جائیں۔ وہ بہت ہی سادہ انداز میں بتا رہا تھا کہ اجتماعی کاز کو لے کر کیوں سینکڑوں انسانوں کو موت قبول کرنی چاہیے۔ سنگت کے لیے یہ ایک عام بحث یا خیال تھا، لیکن یہ ایک عام خیال یا فکر یا بات نہیں، بلکہ اس مقام تک پہنچنے کا علم ہے جہاں آپ نے اجتماعی شعور و مقصدیت میں خودی کا خاتمہ کر دیا ہے، جہاں آپ نے زندگی کو مکمل معنویت میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں شعور اجتماعی فکر کا حصہ بن چکا ہے اور ذات کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جب آپ “میں” کے علم و تصور سے نکل چکے ہوتے ہیں اور “وہ” کی زندگی اختیار کر چکے ہوتے ہیں، یعنی آپ کی ذات فنا ہو چکی ہوتی ہے اور آپ ایک مقصدیت کو مقدم رکھ کر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، اور آپ نے موت کو اندرونی احساس و جذبات کے اندر قبول کر لیا ہوتا ہے اور اپنی ذات کو فنا کر دیا ہوتا ہے۔
سرمچاریت کے مقام تک پہنچنے کے بعد ذات کو لے کر فلسفے کے جتنے بھی بنیادی اور اہم سوال ہیں، جیسے کہ میں کیا ہے؟ شعور اور خودی کا مرکز کیا ہے؟ میں کس حد تک آزاد ہوں اور کس حد تک اجتماعی یا کائناتی شعور کا حصہ ہوں؟ ذات کا فنا یا تحلیل ممکن ہے؟ لذت، خوشی، انسانی شعور و اخلاقیات، سماجی و اجتماعی شعور اور اس میں فرد کا کردار، ذات کی اخلاقی اور وجودی ذمہ داریاں، ایگو کا خاتمہ، انسانی زندگی کی مقصدیت، سماجی تعلقات بلکہ ہر سوال کا جواب اس مقام تک پہنچتے ہوئے ایک فرد حاصل کرتا ہے کیونکہ وہ شعور کے اعلیٰ مقام تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔
فلسفہِ سرمچاریت اپنانا بنیادی طور پر اس شعور کو اپنانے کا نام ہے جہاں آپ ہر حوالے سے مکمل ہوتے ہیں، کیونکہ بلوچ جنگ یا کاز بذاتِ خود ایک سیاسی مقصد یا پروگرام ہے جو بنیادی طور پر سماج سے تعلق رکھتا ہے، کیونکہ سیاسی مقاصد، نظریے اور پروگرام کا تعلق سماج سے جڑا رہتا ہے اور فرد سماج کی پیداوار ہوتا ہے۔ کوئی بھی فرد خود کو اپنے سماج کی حقیقت سے الگ نہیں کر سکتا کیونکہ فرد سماج کے اجتماعی شعور کا حصہ ہوتا ہے اور اس کی شناخت سے لے کر اجتماعی شعور کی کہانی میں سماجی حقیقت موجود رہتی ہے، اور آپ کی طاقت کی مرکزیت سماجی حقیقت میں پنہاں ہوتی ہے۔
جب آپ فلسفہِ سرمچاریت کے مقام تک پہنچتے ہیں تو آپ سماج کی حقیقت دریافت کرتے ہیں، اس کے اندر موجود خامیوں اور غلطیوں کا اندازہ لگانے میں کامیاب ہوتے ہیں، سماج کے اندر ہونے والے غلط اور صحیح کا فرق محسوس کرتے ہیں، برے اور اچھے میں تمیز کرتے ہیں اور اسے تبدیل کرنے کے لیے ہر انتہا تک جانے کو تیار رہتے ہیں اور یہی اجتماعی شعور آپ کی خودی کا خاتمہ کرتے ہوئے آپ کو ایک اجتماعی مقصدیت کے لیے فنا ہونے کے حقیقی مقام تک پہنچا دیتا ہے، جہاں سے پھر آپ کو وہ ماحول، وہ واقعات اور وہ مادی حالات دستیاب ہوتے ہیں، کیونکہ دنیا کا کوئی بھی فلسفہ یا علم اپنے سماج سے جڑا رہتا ہے۔ انفرادی طور پر انسان کچھ بھی نہیں ہوتا بلکہ وہ سماجی اجتماع کا حصہ ہوتا ہے، اس لیے اس کے اعمال اور زندگی کے تصورات کا سماج کے ساتھ گہرا رشتہ ہوتا ہے، اور ہر علم اپنے سماج سے تعلق رکھتا ہے۔
اگر آسان اور سادہ زبان میں کہا جائے تو فلسفہِ سرمچاریت اس مقام تک پہنچنے کا نام ہے جب آپ اپنے علم و عقل، اجتماعی کاز اور اجتماعی مفادات و تحریک کی اندرونی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر شعوری مرگ کی زندگی اختیار کرتے ہیں۔ شعوری مرگ کی زندگی اور سوچ و فکر آپ کو فنا ہونے کے حقیقی تصور سے ملا دیتی ہے، جہاں آپ کے اندر ذات اور “میں” ختم ہو جاتے ہیں اور آپ اجتماعی شعور و فکر کے اندر زندگی کرنے لگتے ہیں۔ یہاں آپ صرف مقصدیت کی زندگی نہیں بلکہ ایک لذت اور خوشی بھری زندگی گزارتے ہیں، جہاں ہر لمحہ خوشی سے بھرا رہتا ہے۔ آپ انسانیت کے اس درجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ آپ کے اندر ذات اختتام پذیر رہتی ہے، مگر آپ زندگی کر رہے ہوتے ہیں، البتہ یہ زندگی مادی حالات سے نہیں بلکہ احساسات، جذبات، فکر، شعور، خیالات اور یادداشت کے ساتھ گزرتی ہے۔ یہاں سے آپ کی زندگی ایک کیفیت اور شعوری شکل میں گزر رہی ہوتی ہے، اور ہر لمحے کی زندگی بامعنی اور مقصد بھری رہتی ہے۔ ہر تکلیف اور مشکل میں آپ کے حوصلے زندہ رہتے ہیں اور مقصدیت میں غم بھی شامل ہوتا ہے۔ آپ کے خواب سے لے کر مادی حالات تک کی زندگی اسی فکر و رویے کے ساتھ گزرتی ہے۔
آپ اس دی ہوئی شناخت کے ساتھ زندگی نہیں گزار رہے ہوتے جو گھر سے آپ کو دی گئی تھی، بلکہ آپ ان احساسات، جذبات، خیالات، شعور اور تجربات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں جو آپ نے جنگ کے دوران حاصل کیے ہوتے ہیں۔ اس مقام پر وہ سب چیزیں بے اثر ہو جاتی ہیں جو عام زندگی میں لوگوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں، یعنی عزت، نام، عہدے، پیسے، اختیارات، آرام، کمفرٹ، ذاتی خواہشات، یہ سب بے معنی لگتے ہیں۔ جبکہ شناخت، احساسات، خیالات، درد، یادداشت، اجتماعی شعور، فکر، قربانی، مقصدیت، سادگی، سنگتی یہ سب آپ کی زندگی کا مطلب اور مقصد رہتے ہیں۔ پھر آپ فنا کی زندگی گزار دیتے ہیں۔ یہ سرمچاریت کا اعلیٰ مقام ہے اور یہاں پہنچ کر آپ زندگی کے آخری انتہا کو جیتے ہیں۔ اس انتہا میں جینے کا کمال حاصل کرنا ایک باکمال لمحہ ہے، اور جو یہاں تک پہنچ چکا ہے، وہ سب سے بڑی زندگی گزار رہا ہے!
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































