بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں دو نوجوانوں کی جبری گمشدگی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ایک واقعہ گزشتہ ہفتے تربت کے علاقے جدگال ڈن (ڈی بلوچ) میں پیش آیا، جہاں پاکستانی فورسز نے ناکہ بندی کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران ایک گاڑی کو روک کر تلاشی لی گئی، اور اس دوران 25 سالہ نوجوان کو حراست میں لیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے نوجوان کو بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا، اور اس کے بعد سے اس کے بارے میں کوئی مستند معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
لاپتہ نوجوان کی شناخت سمیر احمد ولد محمد عارف کے نام سے ہوئی ہے، جو اللہ بخت کلاتک کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔
دوسری جانب، چھ اپریل کو تربت کے علاقے کوگدان سے پاکستانی فورسز نے گھر سے نوجوان الیاس ولد میا داد کو حراست میں لیا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ایک عرصے سے جاری ہے، اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اس حوالے سے تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

















































