بلوچستان میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران پیش آنے والے مختلف حادثات میں کم از کم 7 افراد جاں بحق جبکہ 4 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں، جب کہ متعدد علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔
پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک بچے کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی، جبکہ ژوب میں ایک کمرے کی چھت گرنے سے ایک اور بچہ جان کی بازی ہار گیا اور کئی افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق تحصیل بالا ناری میں دریائے ناری کے پشتے میں شگاف پڑنے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، جہاں 100 سے زائد مکانات متاثر ہوئے، تقریباً 400 ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آ گئی اور 50 سے زائد مویشی ہلاک ہو گئے۔
ضلع ہرنائی میں بھی بارشوں کے باعث 60 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ مسلسل بارشوں کے سبب ہرنائی سے سنجاوی اور کوئٹہ جانے والی شاہراہیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئیں۔ اس کے علاوہ متعدد اندرونی رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہوئیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں کے نتیجے میں ہرنائی، چمن اور قلعہ عبداللہ کے ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
ضلع قلعہ عبداللہ میں موسلا دھار بارشوں کے باعث شدید سیلابی صورتحال دیکھنے میں آئی، جہاں قلعہ عبداللہ بازار، حبیب زئی، عبدالرحمن زئی، گلستان، آرامبی اور توبہ اچکزئی میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مچکا، آرامبی، باغک اور گلستان کاریز میں اونچے درجے کے سیلابی ریلے بہتے رہے۔
ریسکیو کارروائیوں کے دوران گلستان کے قریب سیلابی پانی میں پھنسنے والی ایک منی کوچ کو بحفاظت نکال لیا گیا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت 15 افراد سوار تھے، جبکہ مچکا ندی سے مزید دو گاڑیوں کو بھی ریسکیو کیا گیا۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ کچھی میں دریائے ناری کے پشتے کی مرمت کے لیے بھاری مشینری تعینات کر دی گئی ہے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
ریلیف کمشنر و ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان غوری کے مطابق صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور تمام ضلعی اداروں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ادھر محکمہ داخلہ نے صوبے میں مزید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ تمام ریسکیو اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسٹینڈ بائی رکھا گیا ہے۔

















































