بلوچستان: جبری گمشدگیوں کے بعد تین نوجوانوں کی لاشیں برآمد۔ بی وائی سی

18

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کی جانب سے نوجوانوں کو بلا جواز حراست میں لینے اور بعد ازاں ان کی لاشیں پھینکنے کا سلسلہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بیان کے مطابق گلی بلیدہ سے تعلق رکھنے والے مسلم داد ولد ملنگ داد کو 7 ستمبر 2025 کو دوپہر 1:30 بجے ان کے گھر میں فرنٹیئر کور (ایف سی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا۔

4 ماہ 28 دن بعد، 10 اپریل 2026 کو ان کی لاش کیچ کے علاقے سے برآمد ہوئی۔

اسی طرح صادق نور ولد نوراللہ، جو گلی بلیدہ سے تعلق رکھتے تھے، کو بھی 7 ستمبر 2025 کو گھر سے لاپتہ کیا گیا تھا۔ وہ بھی تقریباً 4 ماہ سے زائد عرصہ لاپتہ رہنے کے بعد 10 اپریل 2026 کو اسی علاقے میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

بی وائی سی کے مطابق دونوں نوجوانوں کو بغیر کسی عدالتی کارروائی یا الزام کے ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔

علاوہ ازیں دوسری جانب بلیدہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان طالب علم قمبر بلوچ ولد خدا بخش کو 7 اکتوبر 2025 کو ان کے گھر سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا۔

تقریباً 6 ماہ بعد 8 اپریل 2026 کو ان کی لاش ڈی بلوچ سے برآمد ہوئی۔ بی وائی سی کے مطابق ان کے جسم پر گولیوں کے متعدد نشانات اور شدید تشدد کے آثار موجود تھے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، تشدد اور ماورائے عدالت قتل ایک منظم اور مسلسل جاری عمل بن چکا ہے۔ تنظیم کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو نہ تو عدالت تک رسائی دی جاتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی قانونی شفافیت موجود ہے۔

بی وائی سی نے کہا کہ نوجوانوں کو لاپتہ کرنے کے بعد ان کی لاشیں پھینک دینا انسانی وقار، آئین پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

تنظیم نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کب تک خاندان اپنے پیاروں کی واپسی کی امید لگائے بیٹھے رہیں گے اور انہیں صرف لاشیں ہی ملتی رہیں گی؟

بی وائی سی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان میں جاری ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹ کلنگ کا فوری نوٹس لیا جائے کیونکہ صورتحال روز بروز مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔