اسلمی شعور اور بانورِ ہیروفی فدائی یسما بلوچ – ڈاکٹر ھبیتان بشیر

35

اسلمی شعور اور بانورِ ہیروفی فدائی یسما بلوچ

تحریر: ڈاکٹر ھبیتان بشیر

دی بلوچستان پوسٹ

آج کے اس بناوٹی، نمائشی، حقیقت سے دور اور فریب میں غرق دنیا میں میرے لیے ایک مقدس احساس، جذبہ اور شعور، شعورِ انسان کا اعلیٰ درجہ رکھتا ہے۔ آج اگر ہم اپنے سماج پر شعوری، حقیقی اور عملی نگاہ ڈالیں تو بیشتر روحیں زمان و مکان کی قید میں بند بوجھل روحوں کے ساتھ ہر گزرتا ہوا لمحہ بوجھل گزارتی ہیں۔

خوف، حرص، لالچ، منافقت، ناجائز طاقت اور شہرت کے چکر میں گم سماج میں ایک مقدس اور پاک جذبے کا جنم میرے لیے کائنات کی اصل طاقت، قوت اور سب سے اعلیٰ خوبصورتی ہے۔

وہ لمحہ کتنا حسین اور ساتھ ہی کتنا دردناک ہوگا جب یسما اپنے نو سالہ بیٹے عمر جان کو آخری الوداعی نگاہ ڈال کر اپنے مقصد اور مشن پر روانہ ہوئی ہوگی۔ یسما اپنے مشن پر روانگی کے دن ایک بانور کی طرح خود کو سجا کر روانہ ہوتی ہیں۔ روانگی کے وقت اس کا نو سالہ بیٹا عمر جان سو رہا ہوتا ہے۔ وہ اسے آخری بوسہ اور آغوش بھی نہیں دے سکتی، شاید اس سوچ اور خیال کے ساتھ کہ وہاں دوسرے ساتھیوں کو خبر نہ ہو کہ وہ ایک فدائی مشن پر جا رہی ہیں، اور شاید اس احساس کے ساتھ کہ دوستوں کو محسوس نہ ہو کہ وہ اپنے اعلیٰ اور مقدس مقصد کے درمیان ممتا کو لے آئی ہیں لیکن اپنے وجود کے اصل میں وہ اسی آخری نگاہ سے لے کر اپنی ہستی کی آخری گولی تک عمر جان کو بوسہ اور محبت دیتی رہیں۔

یسما کا اپنے بیٹے عمر جان کو آخری نگاہ دینا وہ شعور ہے جس سے انسان کو پوری طاقت، حوصلہ اور ہمت ملتی ہے کہ ایک مقدس مقصد کے لیے کیا کچھ قربان نہیں کیا جا سکتا۔

اس مقدس جذبے اور ہمت کو شاید کوئی منطق ناپ نہ سکے، کوئی سائنسی قانون اور تھیوری بیان نہ کر سکے، کوئی مذہبی عقیدہ تول نہ سکے، کوئی سیاسی نظریہ اس تک پہنچ نہ سکے، کوئی فلسفیانہ شاخ اس کا جواب نہ دے سکے، کوئی نفسیات کا پہلو اس کی حد کا تعین نہ کر سکے، کوئی تہذیبی اور ثقافتی بندھن اس کی اصل تک رسائی حاصل نہ کر سکے، اور نہ ہی کوئی پست معیار پر زندگی گزارنے والا انسان اسے محسوس یا ہضم کر سکے۔

اس مقدس جذبے کو محسوس کرنے کے لیے تم کو قطرے سے نکل کر مکمل سمندر بن جانا ہے۔ تپش، دھوپ اور لہروں سے گزر کر اپنے اصل سے ابھرنا ہے اور درد کے اوپر سے گزر جانا ہے۔ اپنے وجود کے درد اور زخموں کو اپنے لیے روشنی اور مشعل بنانا ہے۔ اس مقدس جذبے کو شاید ہر کوئی اپنی بساط اور قد کے مطابق بیان کر سکے، لیکن اس کے نور تک رسائی انہی کو ہوگی جو عشقِ جنون سے گزر چکے ہوں گے۔

بقولِ نطشے: “جو چیز ہمیں مار نہیں دیتی، وہ ہمیں مضبوط بنا دیتی ہے۔”

کیسے ایک وجود خود کو فنا کر کے اپنی بقا اور اپنی اصل تک پہنچنے کا راستہ خود اپنی ہی فنا میں ڈھونڈتا ہے؟

یسما کا اپنے بیٹے عمر جان کو آخری نگاہ دینا وہ شعور ہے جو استاد اسلم اپنے بیٹے ریحان جان کو آخری بوسہ دے کر ندر ہونے کے لیے روانہ کرتے ہیں۔ یہی وہ شعور اور اجالا ہے جو ہر تاریکی کو روشنی میں بدل رہا ہے۔ دشمن کے لیے شکست کا دن وہی لمحہ تھا جس دن استاد اسلم نے ریحان جان کو ندر ہونے کے لیے آخری بوسہ دیا۔

استاد اسلم کا یہ بوسہ مکمل شعور اور اجالا رکھتا ہے۔

استاد اسلم کے شعور اور اجالے کی حد صرف جنگ تک محدود نہیں، جنگ کا حاصل صرف طاقت نہیں بلکہ اس شعور اور اجالے میں ایک ایسی سماج، قوم اور انسانوں کی تخلیق اور تشکیل ہے جہاں انسان اپنی کائناتی وجود، اپنی اصل ہستی اور معیارِ انسانی کے حقیقی جوہر پر اپنی زندگی کا تعین کر سکے۔

آج اس نور اور اسلمی شعور سے بلوچ جو تاریخ اپنے وجود کو فنا کر کے تخلیق کر رہے ہیں، یہ محض واقعات اور حادثات نہیں بلکہ یہ مکمل شعور اور عظیم تخلیقِ انسان کی بنیادیں ہیں۔ ہستیِ کائنات بھی انسان کو کامل بنا کر اس سے اس کی مرضی کی آزادی چھین سکتی تھی، لیکن ہستیِ کائنات نے انسان کو کامل بنانے سے زیادہ انسان کی آزادی کو ترجیح دی۔ پھر ہم کیوں اس آزادی کے خلاف اپنی زندگیاں گزاریں؟ ہم کیوں خوف، بزدلی اور ڈر کے سائے میں اپنی آزادی کا سودا کر لیں؟ آزادی سے بڑھ کر انسان کا کوئی بھی معیارِ زندگی نہیں ہو سکتا۔

وہ آزادی جو تمہاری شعوری اور ارتقائی ہستی کو تمہاری اصل سے جوڑتی ہے، اس کے لیے فنا ہونا موت نہیں بلکہ زندگیِ آزادی کا حق ہے۔ ڈر اور خوف کے سائے میں جی کر عظیم مقصدِ انسان سے دور رہنا اور غلامی کو پست انسانی معیارِ زندگی کے طور پر قبول کرنا کیا خود اپنی ہستیِ وجود کے ساتھ ظلم نہیں؟

بے شعوری اور ذلت کے معیار پر جینے سے شعور اور شان کے ساتھ مرنا کہیں بہتر ہے۔ شعور اور شان پر بے شعوری اور ذلت کو قربان کرنا خود ہی اعلیٰ شعور ہے۔ یہ جنگ ہماری شعوری جنگ ہے، ہماری شان اور عظمت کی جنگ ہے، ہماری زمین اور ہماری وقار کی جنگ ہے۔ اگر اس جنگ کو ہم نہ لڑیں گے تو کل ہم ذلت کے ساتھ کسی اور کی جنگ میں بے آبرو ہو کر مریں گے۔ اس سے زیادہ اذیت ناک اور کیا ہو سکتا ہے؟

اس لیے ہم استاد اسلم کی اس تعلیم پر عمل پیرا ہیں: “ہماری اس جنگ کا حاصل ہماری قومی آزادی ہے، اس سے کم بس ہماری شہادت ہے۔”

یہ ہمارا یقین اور ایمان ہے کہ اس جنگ میں سرخروئی ہماری ہوگی، کیونکہ ظالم کے وس و اختیار میں بس اتنا ہے کہ وہ ہمارے جسم اور ذہن کو غلام رکھ سکتا ہے، اس شعور کو نہیں جو جسم اور ذہن سے ماورا ہے۔ جو شعور اور نور استاد اسلم اس جہد کو عطا کر چکے ہیں، اسے اب قید یا ختم کرنا کسی کے بس میں نہیں۔ اس شعور کے ساتھ جو بھی جڑے گا، ظاہری اور وقتی طور پر شاید درد اور تکلیف محسوس کرے، لیکن عملی اور حقیقی طور پر مسرتوں سے بھرپور انسان کے اعلیٰ مقام تک پہنچے گا۔

یہ اس طرح ہے جیسے شروع میں دریا سمندر میں اترنے سے ڈرتا ہے۔

بقولِ خلیل جبران: “سمندر میں داخل ہوتے وقت دریا خوفزدہ ہوتا ہے…”

اس شعور کی ترجمانی بلوچ سرمچاروں کے پاؤں کے وہ چھالے کر رہے ہیں جو اپنی پاک روح سے ہر سختی کو جھیل کر ہر طوفان سے گزرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ بلوچ جوانوں کے جسم کے وہ ٹکڑے اور ان کے بدن کو چیرتی ہوئی وہ آخری گولی گواہی دے رہی ہے کہ شعورِ اسلم سے لیس لوگ اپنی موت کا انتخاب خود کرتے ہیں۔ دشمن کے ٹارچر سیلوں میں بند وہ عظیم جہدکار ہیں جو دشمن کی ہر اذیت کو سہہ کر اپنی آزادی کے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

بلوچ ماؤں اور بہنوں کی وہ فریاد اور سسکیاں جو درد سے نکلتی ہیں، اور ہر بلوچ جہدکار کا وہ اعلیٰ شعور جو ان قربانیوں، احساسوں، جذبوں اور اس شعورِ قربانی کے ساتھ وفادار ہے، اس شعور کا عملی اور حقیقی اعلیٰ مقام وہ ہے جہاں ہم دھوکہ، فریب، تسلی، وقتی حاصل، ذاتی نفع و فائدہ، نمائشی بناوٹ اور ذاتی طبع و مزاج سے دور رہ کر شعوری، حقیقی اور عملی طور پر جہدِ آزادی کے تقاضوں کو صرف تصوراتی اور خیالی بنیادوں پر نہیں بلکہ عملی اور حقیقی طور پہ پورا کرتے ہیں۔

جو انصاف ایک ماں ہونے کے ناطے یسما کو عمر جان کے ساتھ مکمل کرنا تھا، وہ اس نے اپنے مقدس جذبے اور مقدس مقصد کے لیے ادھورا چھوڑ دیا۔ شاید اس ادھورے انصاف کو ہم میں سے کوئی بھی مکمل نہ کر سکے، لیکن ہم یسما کے اس مقدس جذبے اور مقدس مقصد کے ساتھ انصاف ضرور کر سکتے ہیں۔

اس کے لیے ہمیں ہر لمحہ، ہر ساعت اپنے سوچ، خیالات، ترجیحات، رجحانات اور عمل کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔
ہر پہلو پر اپنے وجود، اپنی ہستی، اپنے کردار اور اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔

اگر ہم نے مخلصی کے ساتھ حقیقی اور عملی طور پر ان مقدس جذبوں کے ساتھ انصاف کیا تو کوئی بھی طاقت ہمیں اس مقدس مقصد کی منزل تک پہنچنے سے روک نہیں سکتی، جس مقدس مقصد کے لیے یسما نے خود کو نذر کیا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔