اسلام آباد مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ نہ ہو سکا

15

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے اور امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس واپس امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔

سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب رات گئے مذاکرات کے سیشن کے بعد اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ’ایک اچھی اور ایک بری خبر‘ کا تذکرہ کیا۔

ان کے مطابق ’ہم نے ایرانیوں کے ساتھ کافی ٹھوس بات چیت کی ہے، یہ اچھی ہے اور بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہچے۔‘

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ خبر امریکہ کے لیے جتنی بری ہے، اس سے کہیں زیادہ ایران کے لیے ہے۔‘

امریکہ کے نائب صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کی ہیں جو کہ ایران نے تسلیم نہیں کیں۔‘

ان کے مطابق ایرانی وفد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی واضح عزم سامنے نہیں آٰیا۔

ان کے مطابق ’ہمیں واضح اور مثبت تصدیق درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔‘

بات چیت کے دوران جے ڈی وینس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رابطے میں رہے اور نصف درجن سے زائد بار ان سے بات کی۔

اسلام آباد میں ہونے والی یہ بات چیت 1979 میں ایران میں آنے والے انقلاب کے بعد سے ایک دہائی سے زائد کے عرصے کے دوران پہلی امریکی و ایرانی حکام کی ملاقات تھی۔

اس اہم آبی گزرگاہ کو ایران نے امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے بعد بند کر دیا تھا جس سے عالمی سطح پر توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں بہت اضافہ دیکھا گیا۔

ایرانی حکومت کی جانب سے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ بات چیت ختم ہو گئی ہے اور دونوں اطراف کے تکنیکی ماہرین دستاویزات کا تبادلہ کریں گے۔

 بیان کے مطابق ’اختلافات کے باوجود مذاکرات جاری رہیں گے۔‘

تاہم پوسٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بات چیت دوبارہ کب شروع ہو گی۔

مذاکرات ختم ہونے کے کئی گھنٹے بعد ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ امن کے لیے ہونے والی کوششوں کو کامیاب بنانا چاہتا ہے تو ’حد سے زیادہ مطالبات‘ اور ’غیرقانونی درخواستوں‘ سے گزیر کرے۔

وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر لکھا کہ ’اس سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار مخالف فریق کی سنجیدگی، نیک نیتی، ضرورت سے زیادہ مطالبات اور غیر قانونی درخواستوں سے گریز اور ایران کے جائز حقوق و مفاد کو تسلیم کرنے پر ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ فریقین نے مختلف سٹریٹیجک معاملات ’آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام، جنگ کی تلافی، پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے خلاف جنگ کے مکمل خاتمے سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔