اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے لبنان میں اپنی زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد سے بدھ کے روز ’سب سے بڑے حملے‘ کیے ہیں، دوسری جانب لبنانی میڈیا نے ملک بھر میں متعدد مقامات پر اسرائیلی بمباری کی اطلاعات دی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’10 منٹ کے مختصر وقت میں بیک وقت لبنان کے مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے تقریباً 100 ہیڈ کوارٹرز اور فوجی تنصیبات‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج ’ہر موقع سے فائدہ اٹھائے گی‘ اور حزب اللہ پر حملے جاری رکھے گی۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم بغیر رُکے یہ کارروائیاں جاری رکھیں گے۔‘
اسرائیلی فضائی حملوں کی ایک بڑی لہر کے بعد لبنان بھر میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے جبکہ متعدد افراد کے منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے ان حملوں کو اس تنازع کے دوران ’حملوں کی سب سے بڑی لہر‘ قرار دیا ہے۔
یہ حملے بیروت کے جنوبی مضافات، جنوبی لبنان اور مشرقی وادی بقاع تک پھیل گئے ہیں۔
اب نعیم قاسم کی باری آئے گی: اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکی
اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان بھر میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز پر اچانک حملوں میں سینکڑوں جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے بعد اب ’اُن کی باری‘بھی آئے گی۔
اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم نے نعیم قاسم کو خبردار کیا تھا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے عوض حزب اللہ کو بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی—اور آج ہم نے اس وعدے کی ایک اور تکمیل کر دی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سرکردہ دہشت گرد نعیم قاسم کی باری بھی آئے گی۔‘
ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود لبنان میں وسیع پیمانے پر حملے جاری رہنے کے تناظر میں اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ’ایران اور لبنان کے محاذوں کو الگ رکھنے‘ پر زور دیا ہے، تاکہ ’لبنان میں زمینی حقیقت کو تبدیل کیا جا سکے اور اسرائیل کے شمالی علاقوں کے رہائشیوں کو لاحق خطرات کو ختم کیا جا سکے۔‘
لبنانی وزیر اعظم کی تمام ’دوست ممالک‘ سے اسرائیلی کارروائیاں رکوانے کی اپیل
لبنان کے وزیرِ اعظم نے اسرائیلی فضائی حملوں کی بڑی لہر کے بعد ’لبنان کے تمام دوست ممالک‘ سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی کو ’تمام دستیاب ذرائع سے‘رکوانے میں مدد کریں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان دیتے ہوئے لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے کہا کہ ’اسرائیل اپنی جارحیت کا دائرہ مسلسل وسیع کر رہا ہے، جس کے تحت گنجان آباد رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور لبنان کے مختلف حصوں، بالخصوص دارالحکومت بیروت میں، نہتے شہری اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔‘
ان کی یہ اپیل اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائی کے آغاز کے بعد آج لبنان بھر میں ’سب سے بڑے حملے‘ کیے ہیں۔
نواف سلام نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے بین الاقوامی قانون کے لیے ’مکمل بے اعتنائی‘ کا اظہار ہوتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’لبنان کے تمام دوستوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس جارحیت کو روکنے کے لیے ہر دستیاب ذریعے سے ہماری مدد کریں۔‘
دوسری جانب مغربی ممالک کے ایک گروپ نے ایران میں ’تیز رفتار اور دیرپا امن‘ کی اپیل کرتے ہوئے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مکمل پابندی کریں، جس میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے۔
اس مشترکہ بیان پر برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، نیدرلینڈز اور سپین کے رہنماؤں کے علاوہ یورپی کمیشن اور یورپی کونسل کے نمائندوں کے دستخط موجود ہیں۔
بیان میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور پاکستان اور دیگر ثالثوں کا شکریہ ادا کیا گیا ہے جنھوں نے ’اس اہم معاہدے کو ممکن بنانے میں سہولت کاری‘ کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اب مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آئندہ چند دنوں میں جنگ کے فوری اور دیرپا خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔ یہ صرف سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ ہم ایک بامعنی اور مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے حل کی طرف تیز پیش رفت کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایران کی شہری آبادی کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔‘
آخر میں بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جنگ بندی پر عمل درآمد کریں، بشمول لبنان میں۔‘



















































