قلات میں پاکستانی فورسز کے کیمپ کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
قلات کے علاقے منگچر میں کالج میں قائم پاکستانی فوج کے کیمپ میں فورسز پوزیشنز کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ ڈرون حملے ایسے موقع پر کئے گئے ہیں جب بلوچستان بھر میں بلوچ لبریشن آرمی کے مربوط حملے جاری ہے جبکہ منگچر میں گذشتہ روز پاکستانی فورسز کے نو پوسٹوں و چوکیوں کو بیک وقت حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
خیال رہے رواں سال بلوچ لبریشن آرمی نے پہلی بلوچ فضائی یونٹ “قہر” کا اعلان کیا۔ ترجمان جیئند بلوچ نے بیان میں کہا کہ تنظیم اعلان کرتی ہے کہ تنظیم کا جدید فضائی اور ڈرون وارفیئر یونٹ “قہر” (QAHR – Qazi Aero Hive Rangers) باقاعدہ طور پر آپریشنل ہوچکا ہے، اور آپریشن ہیروف دوم کے دوران اپنے ابتدائی آپریشنز انتہائی کامیابی سے مکمل کرچکا ہے۔
مزید کہاکہ ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال نے تنظیم کو نہ صرف دور مار حملے کی صلاحیت دی ہے بلکہ دشمن کے حساس علاقوں تک پہنچنے، ان کی نگرانی کرنے اور انہیں غیر متوقع لمحوں میں نشانہ بنانے کی وہ طاقت دی ہے جو زمینی جنگی دائرے سے باہر کی دنیا میں استحکام پیدا کرتی ہے۔ بی ایل اے سمجھتی ہے کہ جدید جنگ کا میدان صرف زمین پر نہیں، فضا اور سائبر اسپیس میں بھی وسعت اختیار کرچکا ہے، اور قہر انہی دائروں میں تنظیمی موجودگی کا ابتدائی مگر بھرپور اظہار ہے۔


















































