بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے نے بلوچ سمندروں کے دفاع کے لیئے اپنے باقاعدہ بحری ونگ حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس (Hammal Maritime Defence Force – HMDF) کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ بی ایل اے کی اس نئی ذیلی فورس نے اپنی پہلی آپریشنل کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے، بروز پیر 12 اپریل 2026 کو صبح 10 بجے کے قریب، گوادر کے علاقے جیونی میں ‘مِل تیاب’ کے مقام پر قابض پاکستانی نیوی کی ایک پیٹرولنگ کشتی کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا۔ ہمارے سرمچاروں کی شدید فائرنگ کے نتیجے میں کشتی پر سوار تینوں قابض نیوی اہلکار نائیک افضل، سپاہی جمیل اور سپاہی عمر موقع پر ہلاک ہوگئے۔ کارروائی کے بعد ہمارے سرمچار اپنے محفوظ ٹھکانوں پر پہنچنے میں کامیاب رہے۔
ترجمان نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ بلوچ قومی تحریکِ آزادی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں دشمن کے لیئے بلوچستان کی زمین کے ساتھ ساتھ اس کی سمندری حدود بھی ناگزیر مقتل ثابت ہونگی۔ قابض پاکستان اور اس کے سامراجی شراکت داروں نے برسوں سے بلوچ سمندروں کی غیر قانونی نیلامی کررکھی ہے، جہاں ہمارے ماہی گیروں کا معاشی قتلِ عام جاری ہے اور ساحلوں کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس کا قیام ہماری قومی نیوی کی ابتداء ہے، جو بلوچ وسائل کی سمندری لوٹ مار کو روکنے، دشمن کی بحری نقل وحرکت کو مفلوج کرنے اور مقبوضہ ساحلوں کا دفاع کرنے کے لیئے ہمہ وقت تیار رہے گی۔
انہوں نے کہاکہ بی ایل اے نے اپنے اس مخصوص نیول یونٹ کا نام عظیم بلوچ مزاحمتی کردار حمل جیئند بلوچ کے نام سے منسوب کیا ہے۔ حمل جیئند بلوچ تاریخ کے وہ جری فرزند ہیں جنہوں نے سولہویں صدی میں اس دور کے جدید ترین پرتگالی استعمار کے خلاف بحری مزاحمت کی بنیاد رکھی اور اپنی عسکری بصیرت سے غیر ملکی قابضین کو شکست دی۔ حمل جیئند کا کردار بلوچ قومی یادداشت میں غیرت، جرات اور سمندری دفاع کی ایک لازوال علامت کے طور پر نقش ہے۔ انہوں نے ثابت کیا تھا کہ وسائل سے لیس استعمار کے مقابلے میں قومی جذبہ اور گوریلا حکمتِ عملی ہمیشہ فتح یاب ہوتی ہے۔ بی ایل اے نے اس نام کا انتخاب اس عزم کے اعادہ کے لیئے کیا ہے کہ ہماری موجودہ مزاحمت اسی معتبر تاریخی ورثے کا تسلسل ہے۔ جس طرح حمل جیئند نے پرتگالیوں کے توسیع پسندانہ عزائم کو خاک میں ملایا، اسی طرح حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس دورِ حاضر کے قابضین کو بلوچ سمندروں سے نکال باہر کرے گی۔
آخر میں کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی دشمن کو متنبہ کرتی ہے کہ اب ہمارا عسکری دائرہ کار صرف پہاڑوں اور شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہم دشمن کو اس کی بحری تنصیبات اور اثاثوں سمیت گہرے سمندروں میں بھی ہدف بنانے کی مکمل صلاحیت حاصل کرچکے ہیں۔ ہماری یہ جنگ دشمن کے مکمل انخلاء اور آزاد وخود مختار بلوچ ریاست کی بحالی تک اپنی پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔


















































