تین دن، سترہ علاقے اور 65 حملے
تحریر: زگرین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
مارچ کے آخری دنوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے خبریں آرہی تھیں۔ ایک کے بعد ایک واقعہ، ایک کے بعد ایک اطلاع اور ایک اضطراب جو پنجگور سے شال تک، دالبندین سے ڈیرہ بگٹی تک، قلات سے جھل مگسی تک اور زامران سے نوشکی تک پھیلتا چلا گیا۔ زمین اچانک بولنے لگی تھی کوئی ایک محاذ نہیں تھا اور کوئی ایک شہر بھی نہیں تھا بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے زمین خاموش رہنے سے انکار کررہی ہو، جیسے جغرافیہ خود اپنے وجود کی گواہی دے رہا ہو۔
جنگ ہمیشہ بندوق کی آواز سے شروع نہیں ہوتی بلکہ وہ پہلے خیال میں جنم لیتی ہے، پھر احساس میں سانس لیتی ہے اور آخرکار جغرافیہ کو اپنی زبان بنا لیتی ہے۔ 29 مارچ سے 1 اپریل تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پھیلنے والے حملے محض عسکری واقعات نہیں تھے بلکہ وہ ایک ایسی یادداشت کی تشکیل تھے جس میں طاقت، شناخت اور اختیار کے درمیان جاری مکالمہ واضح ہوکر سامنے آیا۔
تین (3) دن وقت کے پیمانے پر ایک مختصر وقفہ ہے مگر وقت کی حقیقت اس کی مدت میں نہیں بلکہ اس کے معنی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ کبھی ایک لمحہ تاریخ کے طویل ابواب سے زیادہ وزنی ہوجاتا ہے اور بعض اوقات ایک لمحہ صدیوں کے سوالات کو زندہ کردیتا ہے۔ ان تین دنوں میں جو کچھ ہوا وہ صرف کارروائیاں نہیں تھیں بلکہ وہ ایک اجتماعی احساس کا اظہار تھا ایک ایسی کیفیت جس میں زمین، سیاست طاقت اور انسان ایک دوسرے کے سامنے کھڑے نظر آئے۔
جب سترہ (17) علاقوں میں بیک وقت اضطراب پھیلتا ہے تو جغرافیہ نقشے کی حدوں سے نکل کر علامت بن جاتا ہے۔ جب پنجگور، قلات، شاپک، بسیمہ، نصیرآباد، سبی، نوشکی، دالبندین، ڈیرہ بگٹی، مستونگ، سوراب خاران، واشک زامران، دشت، شال اور جھل مگسی میں یکے بعد دیگرے دھماکوں، جھڑپوں اور حملوں کی خبریں آئیں تو دراصل زمین بول رہی تھی ہر مقام ایک سوال تھا، ہر حملہ ایک اعلان اور ہر گولی ایک نہ لکھی ہوئی داستان تھا۔
پینسٹھ (65) حملے اس پورے منظر نامے کا سب سے نمایاں اظہار بنے مگر اعداد ہمیشہ حقیقت کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے بلکہ اصل اہمیت اس تسلسل میں تھی جس نے مختلف مقامات کو ایک مشترکہ تجربے میں بدل دیا۔ یہ واقعات وقت کے مختلف لمحوں میں ظاہر ہوئے مگر یاد داشت میں ایک ہی واقعہ بن گئے۔ جیسے تاریخ بکھرے ہوئے واقعات کو جمع کرکے ایک معنی تخلیق کرتی ہے۔ ہر واقعہ ایک نشان تھا اور ہر خبر ایک بازگشت تھا۔
3 دن، 17 علاقے اور 65 حملے اس لیے صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مزاحمتی یادداشت ہیں۔ ایک ایسا لمحہ جس میں وقت نے خود کو محسوس کروایا اور جغرافیہ نے اپنی موجودگی ظاہر کی۔ جنگ اکثر میدانوں میں ختم ہوجاتی ہے مگر یادداشت میں زندہ رہتی ہے۔ جنگ ہتھیاروں سے نکل کر ذہنوں میں منتقل ہوجاتی ہے، تاریخ سے نکل کر یادداشت بن جاتی ہے اور یاد رہے تاریخ واقعات کو محفوظ کرتی ہے جبکہ یادداشت ان کے معنی کو محفوظ کرتی ہے۔ شاید مزاحمتی یادداشت کی حقیقت یہی ہے کہ انسان صرف جیتنے کے لیے نہیں لڑتا بلکہ یاد رکھے جانے کیلئے بھی لڑتا ہے کیونکہ جب یاد باقی رہتی ہے تو مزاحمت باقی رہتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































