بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 5 مارچ 2026 کو صبح 9 بجے سے دن کے دوپہر 2 بجے تک بیسیمہ کے علاقے پتک میں سی پیک شاہراہ کی مکمل ناکہ بندی کرتے ہوئے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس دوران سرمچاروں نے آنے اور جانے والے تمام گاڑیوں کی سخت تلاشی کا عمل جاری رکھا۔ تلاشی کے دوران بعض ریاستی اداروں سے وابستہ چند مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی گئی۔ تاہم تحریک دشمنی میں ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہ ملنے اور بلوچ ہونے کے باعث انہیں باحفاظت رہا کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ناکہ بندی کے دوران قابض پاکستانی فوج نے سرمچاروں کے خلاف پیش قدمی کی کوشش کی، جسے پہلے سے دفاعی پوزیشنوں پر تعینات مستعد سرمچاروں نے شدید جوابی حملے کے ذریعے پسپا کر دیا۔ دشمن نے اپنی ہزیمت مٹانے کے لیے کواڈ کاپٹروں کے ذریعے فضائی نگرانی اور مداخلت کی کوشش کی لیکن سرمچاروں نے اپنی گوریلا مہارت سے دو فوجی کواڈ کاپٹروں کو نشانہ بنا کر گرا دیا جس سے دشمن کا حملہ ناکام ہوگیا۔
ترجمان نے کہا کہ اسی روز ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے حب۔دریجی روڈ پر واقع ریاستی مواصلاتی ٹاور کو نذرِ آتش کر دیا۔ اس کامیاب کارروائی کے نتیجے میں دشمن کا مواصلاتی نظام مکمل طور پر مفلوج ہو گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک کارروائی میں سرمچاروں نے اسی روز خضدار کے علاقے زہری، نورگامہ کے مقام پر قائم فرنٹیر کور (ایف سی) کے چیک پوسٹ پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں دشمن فوج کو جانی و مالی نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ 5 مارچ کے روز ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے جھاؤ کے علاقے ڈولیجی میں پاکستانی فورسز پر اس وقت بھاری اور جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا جب وہ مرکزی کیمپ کی حفاظت کے لیے مورچہ سازی میں مصروف تھے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بھی فورسز کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 4 مارچ کو حب شہر میں سٹی پولیس اسٹیشن پر دستی بم سے حملہ کیا۔ دستی بم پولیس اسٹیشن کے اندر جا گرا، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 3 مارچ کو تربت کے علاقے گنہ میں قائم قابض پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ کو حملے میں نشانہ بنایا۔ حملے کے دوران سرمچاروں نے گرنیڈ لانچر کے متعدد گولے داغے، جو کیمپ کے اندر نشانے پر جا لگے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں دشمن فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فوجی کیمپوں، چوکیوں اور پولیس اسٹیشنوں پر حملوں سمیت ناکہ بندی اور مواصلاتی ٹاور کو نذرِ آتش کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔













































