ہر کہانی کا اختتام ایک نئے کہانی کا آغاز – آپریشن ہیروف معرکہ گوادر – علی جان بلوچ

1

ہر کہانی کا اختتام ایک نئے کہانی کا آغاز – آپریشن ہیروف معرکہ گوادر

تحریر: علی جان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

انقلاب ہمیشہ اپنے بیٹوں کو چنتا ہے اور اس کی پرورش کرتا ہے، انہیں دنیا کی سخت حالات سے گزار کر ایک عظیم جنگجو بناتا ہے۔ پتہ ہے انقلاب کی ایک بہت ہی خوبصورت شے ہے، وہ ایک خدائی صفت کا مالک ہوتا ہے جو کسی حسبِ نصب کا رعایا نہیں ہوتا، ہر چیز کو برابر یکساں دیکھتا ہے اور اپنے چاہنے والوں کو ہمیشہ زندہ رکھتا ہے، دنیا کی فنا ہونے تک ان کو سنہرے الفاظ میں یاد رکھتا ہے، خواہ وہ سفید ہو یا کالا، بوڑھا ہو یا جوان، مرد ہو یا عورت، اس سے انقلاب کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیا ہے، صرف وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس نے انقلاب کے لیے کیا کیا ہے۔

دنیا میں ایسے کئی لوگ دفن ہیں جن کو آج ہم تصور بھی نہیں کرتے کہ اس طرح کا انسان ارضِ زمین پر گزر چکا ہے، خواہ وہ کتنا ہی چالاک ذمہ دار کیوں نہ ہو لیکن اس کا انقلاب سے کوئی تعلق نہیں تھا، آج وہ ہزاروں مٹی کے نیچے گمنام ہیں۔ لیکن آج ہمیں ایسے ہزاروں لوگ ملیں گے اور اس کے بارے میں ہم سنھیں گے جن کے نام تاریخ کے بابِ اول میں درج کیے گئے ہیں، جنہوں نے ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا مقابلہ کیا اور انقلاب کی روایت کو برقرار رکھا۔ اور آج انقلاب نے انہیں ہزاروں میں سے الگ کرکے ایک نہ ختم ہونے والی تاریخ کا حصہ بنا دیا، چاہے ان کی لاشیں ٹن مٹی کے نیچے ہوں یا بارود کی راکھ میں بھاپ بن چکی ہوں، خواہ وہ کسی گمنام زمین پر بے نام قبر ہوں یا کوئی مسخ شدہ لاش۔ لیکن انقلاب ہمیشہ ان کا گیت گاتا رہے گا، لوری سناتا رہے گا، لوگوں کی خوابوں کی زینت بنتے رہیں گے، وہ ریحان سے ریحان، بارود سے بارود بنتے رہیں گے، وہ ہمیشہ ان مجلسوں میں زیرِ بحث ہوں گے جہاں ظالم اور مظلوم کی بات ہوگی، جہاں سچ اور باطل کو الگ تھلگ کیا جائے گا۔ جہاں لوگوں کو خوف شور سے زیادہ خاموشی سے ہوگی۔ اسی مجلس سے ایک عظیم انقلابی اپنی زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ لے کر اٹھے گا اور اپنے سفر کی جانب گامزن ہوگا۔

وہ سفر انتہائی مشکل، کٹھن اور تھکا دینے والا سفر ہوگا لیکن انقلابی کی یہی اعلیٰ ظرف ہے کہ وہ سارے رکاوٹوں کو عبور کر کے خود کو ایک حقیقی انقلاب کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوگا۔ اور اس فیصلے کا انتخاب کسی عام شخص کے فہم و گمان سے کہیں زیادہ آگے ہوتا ہے جہاں عام ذہن اس انتخاب کو تو دور کی بات اس کا تصور تک نہیں کر پائے گا۔ کس نے سوچا تھا کہ ایک ماں باپ اپنے بیٹے کو ایک ایسے سفر کے لیے بھیجیں گے جہاں واپسی کی کوئی امید نہیں اور نہ ہی انجام کی کوئی خبر، لیکن انقلاب میں خدائی صفت ہوتی ہے، وہ کسی حالات اور انجام کے محتاج نہیں ہوتے۔ اس فیصلے نے ریحان سے ریحان پیدا کیے اور کیسے ایک بوسہ نے طوفان برپا کرکے دشمن کے دل و دماغ نکال لیے۔ اسی بوسے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ہزاروں فدائیں اپنی کیمپوں، گھروں، پر آسائش زندگی کو الوداع کر کے مقصد کی جانب نکل پڑھتے ہیں جہاں واپسی کی کوئی امید نہیں۔

آغازِ جنگ سے ایک دن پہلے موبائل کی گھنٹی بجتی ہے، آگے سے ہائی کمانڈ کا پیغام موصول ہوتا ہے (31 جنوری صبح 5:30 بجے)۔ اوتاک (کیمپ) کے سنگت ایک دوسرے کو مبارکباد دے کر گلے لگاتے ہیں (وتی حق ان پہل کنے مارا ببکش ات)، ایک دوسرے کو پُرمہر آنکھوں سے الوداع کر کے اپنی آخری سفر کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔

31 جنوری کی صبح مؤذن کی اذان سے دو گھنٹے پہلے کسی گمنام جگہ میں ایک ساتھی اپنے دوسرے ساتھیوں کو جگا کر کہتا ہے: اٹھو، اپنی اسلحہ و جنگ ساز سامان کو درست کرو، وقت قریب ہے، ٹارگٹ کے لیے نکلنا ہے۔ اور جوں ہی سنگت دوسرے کمرے کی بتی جلاتا ہے تو دیکھتا ہے پہلے سے ہی وطن کی بیٹی دروشم اسلحہ و جیکٹ پہنے ہوئے تیار ہوتا ہے اور ہنستے ہوئے کہتی ہے “من تیار انت دوشیگینیں پہ وشیا منہ ہچ واب نے اتکہ” (میں تیار ہوں، رات بھر مجھے خوشی کے باعث نیند نہیں آئی ہیں)۔ اس کے بعد سارے فدائی آخری بار ‘رخصت اف اوارن’ (رخصت نہیں، ملتے ہیں۔۔) کہتے ہیں۔

جب صبح کی سفید لکیر اندھیروں کا سینہ چیرتا ہوا نمودار ہوتا ہے تو عین اسی وقت ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے جہاں بلوچستان میں قابض کے سب محفوظ سمجھے جانے والے شہر کو فدائین کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ محض ایک دھماکہ نہیں بلکہ فدائین کی جانب ایک بلند آواز ہے کہ ہم موجود ہیں، دیکھ رہے ہیں، سن رہے ہیں، بس ہم وقت آنے کا انتظار کر رہے تھے اور آج ہمارا وقت آ گیا ہے، ہم آپ کے انتظار میں ہیں، آپ کو بلا رہے ہیں کہ آجاؤ مقابلہ کرو، کب تک آپ نہتے عام بلوچ شہریوں پر زور آزمائی کرو گے، آجاؤ ہم انتظار میں ہیں۔

آج لوگوں کی بیداری دھماکوں اور گولیوں کی شور سے ہوتی ہے، ہر کوئی ایک دوسرے سے سہمی آواز سے پوچھتا ہے کیا ہو رہا ہے۔ اسی دوران بی ایل اے کی طرف سے بیان جاری ہوتا ہے کہ آپریشن ہیروف 2 کا آغاز ہو چکا ہے، بلوچستان بھر میں بلوچ سرمچار فدائین سمیت داخل ہو چکے ہیں، دشمن کی مختلف پوزیشنز پر حملہ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد بی ایل اے کی جانب سے بی ایل اے سربراہ سنگت بشیر زیب بلوچ کا پیغام شائع ہوتا ہے جس میں وہ بلوچستان کے نامعلوم مقام سے بلوچ عوام سے مخاطب ہوکر آپریشن ھیروف کا اعلان کرتے ہیں۔ بعدازاں مزید دو ویڈیوز جاری کی جاتی ہیں جن میں 2 بلوچ عورتیں مختلف مورچوں پر دشمن سے براہِ راست مقابلہ میں فدائین کے ساتھ شریک ہیں۔ 20 سالہ تاریخ میں پہلی بار بلوچ عورتیں جنگ میں معاون بننے کے بجائے اپنے بھائیوں کے ساتھ ایک ہی مورچے میں فدائی فلسفہ پر عمل پیرا ہیں، جس نے بلوچ جنگ کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔

آدھے گھنٹے میں فدائی یاگی، لاشاری، چنگیز، دروشم اپنے آپریشن کے پہلے مرحلے کو مکمل کرتے ہیں۔ آئی ایس آئی کمپاؤنڈ میں موجود تمام اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد کمانڈ کو پیغام دیتے ہیں کہ یہاں موجود تمام اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے اور ہم آپریشن کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، مزید دشمن کے انتظار میں مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ دو گھنٹے گزرنے کے بعد دشمن بکتر بند گاڑی کو آگے کر کے خود پیچھے گاڑی سے داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ فدائی لاشاری اور چنگیز بکتر بند پر بمب اور گولیوں کی بوچھاڑ شروع کر دیتے ہیں، فدائی دروشم یاگی کو کور دیتا ہے، یاگی راکٹ سے تین فائر کرتا ہے جس میں 2 فائر بکتر بند اور ایک فائر دشمن کی گاڑی کو لگتا ہے، گاڑی میں سوار کئی اہلکار ہلاک و زخمی ہو جاتے ہیں اور دشمن کے ساتھ ایک خوفناک جھڑپ شروع ہو جاتی ہے۔

صبح 5:35 کو شروع ہونے والی جنگ اب دن کے 10:35 بج رہے ہیں، فدائین نے دشمن کے کئی اہلکار ہلاک و زخمی کیے ہیں۔ 5 گھنٹے گزرنے کے باوجود دشمن اپنی پوری مشینری استعمال کرنے کے بعد بھی فدائین کی پوزیشن کو تھوڑنے میں ناکام ہے، اردگرد کے چھتوں پر فوجی اہلکار، سنائپر، ڈرون کیمروں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، لوگوں کو گھروں تک محدود کر رکھا گیا ہے، علاقے میں وقفے وقفے سے گولیوں بموں کی آواز گونجتی رہتی ہے، ہر گلی، دفتر، گھروں میں لوگ بلوچ جنگ کی بحث مباحثہ میں لگے ہوئے ہیں۔ دشمن اپنی کمزوریوں کو لاکھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن سب لوگ دیکھ رہے ہیں کہ جنگ کس کی طرف پلٹ رہی ہے۔

صبح کے 11:15 بجے فدائی دروشم کمانڈ کو پیغام کرتا ہے، جنگ اب آخری مرحلے میں ہے، ہمارے پاس چند گولیاں بچی ہیں، فدائی لاشاری فرنٹ پوزیشن میں لڑتے ہوئے شہید ہو چکا ہے اور فدائی چنگیز بھی آخری گولی کے فلسفہ کی طرف اشارہ دے رہا ہے۔ فدائی یاگی آپ سب کو سلام کہہ رہا ہے۔ اب ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں، ہماری طرف سے دوستوں کو سلام کہنا، ہم جسمانی طور پر آپ دوستوں سے جدا ہو رہے ہیں لیکن ہمارا نظریہ اور مقصد ہمیشہ ایک رہے گا، جیسا کہ ہم نے اپنے گزرے ہوئے دوستوں کے مورچوں کو آخری دم تک سنبھالا ہے، ہمیں یقین ہے ہمارے بعد بھی دوست اس جنگ کو آخری منزل تک لے جائیں گے۔ فدائی دروشم کمانڈ کو آخری پیغام دیتے ہوئے اپنی واکی ٹاکی کی بٹن بند کرتا ہے۔ تینوں فدائی بندوق کی بیرل کو موڑ کر اپنے حلق کے نیچے لاتے ہیں، ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور تینوں دشمن کی بے بسی پر ہنس کر آخری ذمہ داری ٹریگر پر چھوڑتے ہیں۔ اس طرح 4 نام ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کے پنوں میں پیوست ہو جاتے ہیں جنہیں اب مٹانے کی طاقت دنیا میں کسی کے پاس نہیں، وہ اب ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے، ایک نہ ختم ہونے والی کہانی کا حصہ بن گئے۔

کہانی کا دوسرا رخ کہیں اور گردش کر رہا تھا۔ پانچ فدائی، فدائی سرباز، ارمان، شہزاد، کریم، اسلم فدائین کا دوسرا دستہ دشمن کے تاک میں بیٹھے کمانڈ کے پیغام کا انتظار کر رہے تھے۔

صبح 6:45 بجے کمانڈ پیغام بھیجتا ہے: آپریشن کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا، دشمن کو منتشر کرو، اسے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچاؤ۔ فدائین کا دوسرا دستہ کمانڈ کے حکم کے مطابق گوادر میں بلوچستان کے پرچم کیساتھ پیدل گشت شروع کر دیتے ہیں جہاں وہ اپنے لوگوں سے ملتے ہیں، بات کرتے ہیں، انہیں جنگ کی حقیقت سے آشنا کرتے ہیں، مسجدوں کی لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کرتے ہیں کہ آج اس زمین کے اصل محافظ آئے ہیں، نکلو اور دیکھو دشمن کس قدر خوفزدہ ہے، وہ ہزاروں میں ہیں لیکن پھر بھی وہ سر چھپا رہے ہیں، باہر نکلنے سے ڈر رہے ہیں، آؤ دیکھو اس کی اصل حیثیت کیا ہے۔ بچے بوڑھے مرد عورتیں بلا خوف باہر آتے ہیں، اپنی زمین کے اصل محافظوں کو دیکھتے ہیں، ان سے گفتگو کرتے ہیں، ان کے ساتھ تصویر لیتے ہیں۔

گوادر جہاں چین پاکستان نے CPEC کے نام پر بلوچ وسائل پر قبضہ، سکیورٹی کے نام پر ہزاروں پابندیاں، معاشی قتل اور عوام کو مفلسی کی دلدل میں دھکیل کر ذہنی غلام بنا رکھا ہے، وہیں آج اسی شہر میں گوادر کے فرزند (فدائی عدنان عرف چنگیز، فدائی شعیب عرف شہزاد) جو اسی سر زمین پرورش پاتے ہیں، آج وہ قربانی کے فلسفے پر عمل پیرا ہو کر اپنے خون سے اس زمین کو زرخیز کرنے آئے ہیں، وہ باور کروانے آئے ہیں کہ ہم اپنی سر زمین کی حفاظت کے لیے آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں اور دشمن کے ساتھ خون کی آخری قطرے تک، آزادی کی صبح تک لڑتے رہیں گے۔ دو ڈویژن کی آرمی، چین جیسے سپر پاور ملک کی مدد کے ساتھ دشمن فدائین کے قدموں کو نہیں روک سکی اور وہ کامیابی کے ساتھ اپنی آپریشن کے دوسرے مرحلے کو مکمل کر کے گلی گلی اپنی قوم سے مخاطب ہو کر تمام سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے بعد واپس اپنی پوزیشن پر جاتے ہیں اور کمانڈ کو پیغام بھیجتے ہیں کہ آپریشن کا دوسرا مرحلہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے اور اب ہم آپریشن کے تیسرے مرحلے (قہر یونٹ) کو فعال کرنے جا رہے ہیں۔ فدائی سرباز، کریم، ارمان ڈرون کو ترتیب دینے لگ جاتے ہیں، فدائی شہزاد، اسلم سامنے فرنٹ پر مورچہ سنبھالتے ہیں۔

جس کے بعد وہ پورٹ کے مختلف جگہوں پر ڈرون سے حملہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح بی ایل اے اپنی صفحوں میں ایک نئی اور جدید یونٹ کی قیام کو عمل میں لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے جو قاضی ایرو آئیوو رینجرز (قہر) کی شکل میں ابھرتی ہے۔

وقت صبح 12:07 بجے دشمن فدائین کی جانب 3 تین گاڑیوں کا قافلہ روانہ کرتا ہے جس میں ٹوٹل 18 اہلکار سوار ہوتے ہیں۔ جوں ہی گاڑیاں فدائین کی ٹارگٹ رینج میں داخل ہوتی ہیں پہلی گاڑی پر فدائی کریم راکٹ فائر کرتا ہے اور فدائی اسلم، شہزاد جدید ہتھیاروں سے دشمن پر حملہ آور ہوتے ہیں، پہلی گاڑی میں سوار 6 اہلکار موقع پر ہلاک ہوتے ہیں اور 2 گاڑیاں پسپا ہو کر واپس کیمپ کی جانب روانہ ہوتی ہیں۔

ایک گھنٹے بعد دشمن مکمل تیاری کے ساتھ فدائین کی چاروں اطراف اہلکار تعینات کرتا ہے اور چاروں اطراف سے دشمن حملہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ایک بار پھر وطن کے زرپہاز اور دشمن کے درمیان جھڑپ شروع ہو جاتی ہے جو تین گھنٹے مسلسل چلتی رہتی ہے اور دشمن ایک بار پھر پسپا ہوتا ہے۔ فدائی اپنی مضبوط پوزیشن میں رہ کر کمانڈ کو جنگ کی تفصیل بتاتے ہیں جس میں دشمن کے 20 سے زائد اہلکار ہلاک کرکے کئی اہلکار زخمی کرتے ہیں۔

وقت 3:30 بجے دوپہر دشمن اپنے ساتھ مزید نفری لے کر آتا جس میں بکتر بند گاڑیاں، اسپیشل یونٹ اور اس میں RPG والے دستے شامل ہوتے ہیں جو بلڈنگ کے نزدیک آکر اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جنگ مضبوط مشینری سے نہیں بلکہ بہترین حکمت عملی، مضبوط کلیجے سے جیتی جاتی ہے جو ایک حقیقی وطن دوست کی وراثت ہوتی ہے۔ دشمن کے ساتھ تیسری بار جھڑپ شروع ہوتی ہے۔

وقت 6:00 بجے شام دشمن کے ساتھ تیسری جھڑپ جاری ہے، علاقے میں چھوٹے بڑے ہتھیاروں کی شور نے سب کو اپنی طرف متوجہ کر دیا ہے، اردگرد کے لوگ دور سے اپنی چھتوں پر کھڑے رہ کر جنگ کا نظارہ دیکھ رہے ہیں اور اس کو تاریخ کے سنہری پنوں میں محفوظ کرنے کے لیے گواہ بن رہے ہیں کہ کس طرح پانچ وطن زاد اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن سے مدمقابل ہیں اور دشمن کو ایک طویل جھڑپ میں دھکیل کر ان کا حوصلہ پست کر رہے ہیں۔ فدائین کے پاس اب کم گولیاں بچی ہیں، وہ انہیں دشمن کے خلاف آہستہ آہستہ استعمال کر رہے ہیں تاکہ وہ مزید دشمن کو ذہنی دباؤ میں رکھ سکیں۔ صبح کی اذان سے پہلے گوادر شہر دھماکوں اور گولیوں کی آواز سے گونج رہا تھا، اب مغرب کی اذان قریب ہے، گولیوں کی آواز اب بھی وقفے وقفے سے جاری ہیں، اب بھی لوگوں کو فدائین کی موجودگی کا احساس ہو رہا ہے، وہ جانتے ہیں کہ ہمارے محافظ زمین کی حفاظت کے لیے تاریخ رقم کر رہے ہیں۔

وقت 7:15 بجے رات اب فضا میں گولیوں کی آواز تھم گئی، سڑکوں پر موٹر سائیکل گاڑیوں کی آہستہ رفتار، ایمبولینس کی سائرن، دشمن کی گاڑیوں کی تیز آمد رفت، آسمان میں آدھے سیاہ سفید بادل، خاموش ہوائیں، لگتا ہے زمین زاد اپنا قرض چکا کر زمین کے آغوش میں سو گئے، پھر ایک خاموشی جو شور سے کئی زیادہ خوفناک ہے۔

ایک اور سلسلہ، ایک اور کہانی جو تاریخ کے پنوں میں ہمیشہ کے لیے پیوست ہو گئی جہاں نو فدائین اپنی زمین اور اپنے دوستوں کی وعدے کو پورا کرتے ہوئے زمین کی آغوش میں سو گئے اور اپنی وراثت میں صرف یادیں اور ذمہ داری دے کر چلے گئے۔ تاریخ ہمیشہ انہیں سنہرے الفاظ میں یاد رکھے گی کیونکہ وہ ہی انقلاب کے حقیقی وارث ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔