بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جب ایک کارروائی، ایک دن یا ایک حملہ اپنے عسکری دائرے سے نکل کر تاریخ کے شعور میں ایک دراڑ بن جاتا ہے۔ ایسے لمحات کے بعد طاقت کے قائم شدہ تصورات، خوف کے جغرافیئے اور محکومیت کی نفسیات بیک وقت بدلنے لگتی ہیں۔ آپریشن ھیروف کو اسی فکری زاویئے سے دیکھنا ضروری ہے کیونکہ اسے صرف ایک جنگی کارروائی کے طور پر پڑھنا وسمجھنا دراصل اس کی اصل معنویت کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ واقعہ اس نوعیت کا ہے جسے فلسفی الین بدیو ایونٹ (واقعہ) کہتے ہیں، یعنی “ایسا لمحہ جو موجودہ سیاسی ترتیب کے اندر ایک ایسا امکان پیدا کردیتا ہے جو پہلے ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ اس سے پہلے دنیا ایک ترتیب میں چل رہی ہوتی ہے لیکن اس کے بعد وہ ترتیب مکمل طور پر پہلے جیسی نہیں رہتی۔” بلوچستان کی موجودہ تاریخ میں آپریشن ھیروف اسی نوعیت کی ایک دراڑ ہے جس نے نہ صرف ریاستی طاقت کے تصور کو چیلنج کردیا بلکہ بلوچ مزاحمت کے تصور کو بھی ایک نئی سطح پر منتقل کردیا ہے۔
ریاستیں اپنی طاقت کے گرد ہمیشہ ایک اساطیری پردہ بنائے رکھنا چاہتی ہیں۔ دنیا کی ہر فوج اپنے بارے میں ایک ایسی داستان تخلیق کرتی ہے کہ وہ ناقابلِ شکست ہے، اس کا نظم مضبوط ہے اور اس کے قلعے محفوظ ہیں۔ میشل فوکو کے مطابق “طاقت کا اصل میدان صرف میدانِ جنگ نہیں بلکہ وہ ڈھانچہ ہے جس کے اندر طاقت کو ناقابلِ چیلنج حقیقت کے طور پر پیش اور تسلیم کیا جاتا ہے۔” جب ایک ریاست اپنی طاقت کو ایک مقدس اور دائمی حقیقت بنادیتی ہے تو محکوم سماج کی مزاحمت کا پہلا مرحلہ اسی تصورکو توڑنا ہوتا ہے۔ آپریشن ھیروف نے یہی کام کیا ہے، ھیروف نے طاقت کے اس اساطیری تصور کو چیلنج کردیا، جس کے ذریعے قابض ریاست اپنی موجودگی کو ابدی ظاہر کرتی رہی ہے۔ جب دشمن کی فوج اپنے ہی قلعوں کے اندر محصور ہوجائے تو طاقت کا وہ اساطیری پردہ جو برسوں میں تعمیر کیا جاتا ہے، وہ ٹوٹ جاتا ہے اور پھر ایک معرکہ صرف عسکری کارروائی نہیں رہتا بلکہ سیاسی معنی پیدا کرنے لگتا ہے۔
آپریشن ھیروف نے بی ایل اے کو ایک محدود شدت کی گوریلا قوت کے تصور سے نکال کر ایک اسٹریٹجک عسکری قوت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے۔ یہ تبدیلی صرف عسکری نہیں بلکہ گہری سیاسی معنویت رکھتی ہے کیونکہ جب ایک تحریک اس سطح پر اپنی تنظیمی صلاحیت اور کمانڈ کی ہم آہنگی دکھاتی ہے تو وہ اپنے دشمن کو صرف میدان میں نہیں بلکہ فکری سطح پر بھی ایک پیغام دیتی ہے کہ وہ محض ایک منتشر مزاحمتی گروہ نہیں بلکہ ایک منظم تاریخی قوت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل کے کسی بھی سیاسی منظرنامے میں بلوچ قوم کی طاقت کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہے گا۔ جنگ کی کلاسیکی تھیوری میں معروف پروشین عسکری تھیورسٹ کارل وان کلازویٹز نے لکھا تھا کہ “جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ ارادوں کی لڑائی بھی ہوتی ہے۔ جب ایک فریق اپنے ارادے کی شدت کو اس سطح پر ظاہر کردیتا ہے کہ دشمن کی تصوراتی برتری کا پردہ ٹوٹ جائے تو جنگ کا توازن بدل جاتا ہے۔” آپریشن ھیروف نے یہی توازن ہمیشہ کیلئے بدل دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اکتیس جنوری کو بلوچ، ارادے کی جس شدت سے نکل کر دشمن پر ٹوٹ پڑے تھے، اس نے دشمن کو حقیقی معنوں میں ڈرادیا ہے۔
قومی تشکیل، وہ تاریخی عمل ہے جس میں ایک بکھرا ہوا سماج ایک مربوط سیاسی شعور میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ فرانز فینن نے نوآبادیاتی معاشروں کے بارے میں لکھا تھا کہ “آزادی کی جدوجہد صرف سیاسی آزادی کا عمل نہیں بلکہ انسان کی نفسیاتی اور سماجی تخلیقِ نو کا عمل بھی ہوتا ہے۔” بلوچ سماج میں اس تبدیلی کی سب سے واضح مثال خواتین کا کردار ہے جو اب ایک ایسی قوت بن چکی ہیں جسے شکست دینا ممکن نہیں ایک دہائی پہلے تک بلوچ خواتین کا سماجی مقام مخصوص روایات اور چار دیواری تک محدود تھا، لیکن موجودہ بلوچ قومی تحریکِ آزادی نے ان زنجیروں کو ہمیشہ کیلئے توڑ کر انہیں بااختیار بنا دیا ہے۔ آج بلوچ خواتین صرف روایت کی محافظ نہیں بلکہ سیاسی عمل کی فعال شریک اور ہراول دستہ ہیں۔ جب ایک سماج کی خواتین اپنی سیاسی ایجنسی کو دریافت کرلیتی ہیں تو وہ سماج کبھی پہلے جیسا نہیں رہتا اور بلوچ سماج میں یہی خاموش انقلاب برپا ہوچکا ہے۔ بلوچ خواتین اب اس مقام پر پہنچ چکی ہیں جہاں وہ، برابری، اپنے حقوق اور اپنے قومی کردار کے بارے میں کسی سمجھوتے کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ بلوچ عورت کا کردار اب اتنا مرکزی اور اساسی ہوچکا ہے کہ انہیں دوبارہ گھروں کی خاموشی میں بند کرنا اب کسی فرد، ریاست یا فرسودہ نظریئے کے بس کی بات نہیں رہی۔
بلوچ خواتین کی اس سماجی و نفسیاتی تخلیقِ نو کا سب سے تزویراتی اور عملی ظہور ہمیں آپریشن ہیروف میں نظر آتا ہے، جہاں بلوچ خواتین نے محض سیاسی حمایت تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ فدائین اور جنگجووں کی شکل میں مقتل کے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ آپریشن ہیروف میں خواتین کی فدائی حملوں اور عسکری کارروائیوں میں براہِ راست شرکت اس بات کا اعلان ہے کہ بلوچ مزاحمت اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں صنف کی بنیاد پر قائم کردہ تمام نوآبادیاتی اور روایتی حدود مٹ چکی ہیں۔ جب ایک قوم کی خواتین اپنے وجود کو بارود میں ڈھال کر دشمن کے قلعوں پر دستک دیتی ہیں، تو یہ محض ایک فوجی حکمتِ عملی نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ پورا سماج اپنے نظریاتی جوہر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ خواتین فدائین کا میدانِ عمل میں اترنا اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ آزادی کا شعور اب بلوچ سماج کے اعصابی نظام میں سرایت کرچکا ہے، جہاں عورت صرف گھر کو نہیں بلکہ محاذ کو سنبھالنے کی شعوری اہلیت پاچکی ہے۔ ہیروف کی کامیابی میں ان خواتین کا لہو اس نئے بلوچ سماج کا دیباچہ ہے جہاں مزاحمت اب صرف مردوں کا فریضہ نہیں بلکہ ایک پوری قوم کا اجتماعی اور صنفی امتیاز سے بالاترعہد بن چکی ہے۔
آپریشن ھیروف کی عسکری جہت کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو اس کا ایک اور پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ ھیروف نے دشمن کے انٹیلیجنس اور نگرانی کے پورے نظام کو بری طرح ناکام بنادیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر ہمہ وقت حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر کامیابی سے عملدرآمد اس بات کی دلیل ہے کہ بی ایل اے کا اپنا انٹیلیجنس ڈھانچہ نہ صرف فعال ہے بلکہ دشمن کے جدید ترین نگرانی کے نظام کو بھی چکمہ دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ جنگ کی تاریخ میں انٹیلیجنس برتری اکثر ہتھیاروں کی برتری سے زیادہ فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے کیونکہ جب دشمن کو یہ احساس ہوجائے کہ اس کا اپنا گھر بھی محفوظ نہیں اور اس کی معلومات کا نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے تو اس کا مورال ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کا نفسیاتی اثر صرف دشمن کے سپاہی تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ پوری فوجی قیادت کی حکمتِ عملی کو دفاعی بنادیتا ہے۔ جب ایک قابض فوج دفاعی پوزیشن پر آجائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ جنگ کا ابتدائی توازن مزاحمت کاروں کے حق میں منتقل ہوچکا ہے۔
خوف وہ دیوار ہے جو عوام کو شعوری طور پر مزاحمت سے دور رکھتی ہے لیکن جب عوام اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ریاست ناقابلِ شکست نہیں تو اس خوف کی دیوار میں ایسی دراڑیں پڑتی ہیں جنہیں بھرنا ممکن نہیں ہوتا۔ فینن کے مطابق “مزاحمت کا سب سے بڑا نفسیاتی اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ محکوم انسان کو اس کی اپنی گمشدہ قوت کا احساس دلاتی ہے۔” بلوچستان میں یہی عمل جاری ہے اور جب لوگ دیکھتے ہیں کہ دشمن کی فوج اپنے ہی مضبوط قلعوں میں محصور ہوسکتی ہے تو وہ اس نوآبادیاتی تصور سے باہرآجاتے ہیں کہ طاقت ہمیشہ یک طرفہ ہوتی ہے۔ اب بلوچ عوام طاقت کو صرف ریاست کی ملکیت نہیں سمجھتے بلکہ وہ اسے اپنے بازوؤں میں محسوس کرنے لگے ہیں۔
آپریشن ھیروف نے عالمی سطح پر بلوچ مسئلے کے بیانیئے کو بھی جڑوں سے متاثر کردیا ہے کیونکہ ریاستیں ہمیشہ یہ کوشش کرتی ہیں کہ قومی تحریکوں کو صرف دہشت گردی یا سیکیورٹی کے مسئلے کے طور پر پیش کیا جائے۔ لیکن جب ایک تحریک اتنی بڑی تنظیمی صلاحیت، سیاسی گہرائی اور اخلاقی برتری کو ظاہر کردیتی ہے تو عالمی میڈیا اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا فہم بدلنے لگتا ہے۔ اب بلوچستان کو صرف ایک داخلی بدامنی کے طور پر پیش کرنا ریاست کیلئے پہلے جتنا آسان نہیں رہا کیونکہ دنیا کو اب یہ تسلیم کرنا پڑرہا ہے کہ یہاں ایک منظم، شعوری اور قومی سطح کی مزاحمت موجود ہے جو اپنی زمین کے ایک ایک انچ پر حقِ حاکمیت رکھتی ہے۔ یہ عالمی توجہ مستقبل میں بلوچ مسئلے کو بین الاقوامی فورمز پر ایک نئی اہمیت عطا کرے گی اور دشمن کے معاشی مفادات کو بلوچ رضامندی سے مشروط کردے گی۔ قابض پاکستانی فوج، ایک کاروباری فوج ہے، اسے اپنے سپاہیوں کی جان کی پرواہ نہیں، لیکن جب اس کارباری فوج کے معاشی شہہ رگ پر بلوچ کی گرفت مضبوط ہوئی تو پھریہ پتلونیں پیچھے چھوڑنے کا اپنا پرانا ریکارڈ بھی توڑسکتا ہے۔
تاریخ کے پہیے جب گھومتے ہیں تو وہ بڑے بڑے بتوں کو روند ڈالتے ہیں۔ بلوچ سماج کے اندرونی ارتقاء کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تحریک اب صرف جذباتی نعروں سے نکل کر ایک سائنسی حقیقت بن چکی ہے۔ جب تحریک کے سپاہی صرف لڑنے والے جنگجو نہ ہوں بلکہ گہرا سیاسی اور فنی شعور رکھنے والے لوگ ہوں، جب ایک پورا سماج اپنی قومی شناخت کو نئے سرے سے دریافت کررہا ہو، جب خواتین اپنی تاریخ کو اپنے لہو سے خود لکھنے لگیں اور جب خوف کی پرانی دیواریں ٹوٹ کر مٹی میں ملنے لگیں تو اس کا مطلب صاف ہوتا ہے کہ ایک گہرا تاریخی عمل اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسے عظیم عمل کو صرف ایک معرکے یا ایک خبر کے ذریعے نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ یہ وہ ارتقا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اثرات کو مزید نمایاں کرتا جائے گا۔
پاکستان، دنیا یا خود کچھ بلوچوں تک کو اس بات کا ادراک نہیں کہ جب ایک قومی تحریک میں بوڑھی خواتین بندوق اٹھا کر فدائی حملے کرنے نکلتی ہیں، تو یہ کوئی کٹا ہوا یا محض جذباتی واقعہ نہیں ہوتا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ بلوچ سماج اپنی جڑوں سے کس قدر تبدیل ہوچکا ہے اور اس کی فکری کایا پلٹ کس گہری سطح تک پہنچ چکی ہے۔ دنیا کو اور خود بلوچوں کی ایک بڑی تعداد کو ابھی اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ ان بے پناہ قربانیوں اور گزشتہ دو دہائیوں کی طویل ترین تحریک نے بلوچ سماج کو اندرونی طور پر کس نہج پر تبدیل کردیا ہے۔ یہ اندر کی تبدیلی اب ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہے اور جب کسی قوم کے سینکڑوں نوجوان ایک ساتھ مرنے کیلئے قطاریں بنا کر نکلنے لگیں، تو ایسی قوم کا راستہ روکنا پھر کسی دنیاوی طاقت کے بس میں نہیں رہتا۔ اب بات یہ نہیں رہی کہ کیا بلوچ آزاد ہوگا، اب اصل سوال صرف یہ ہے کہ کب بلوچ آزاد ہوگا۔ امکان پر اب کوئی شبہ نہیں۔
آپریشن ھیروف کی اس غیر معمولی تزویراتی کامیابی کا اصل راز اس فکری و نفسیاتی انقلاب میں پوشیدہ ہے جس نے بلوچ سرمچار کو موت کے خوف سے بے نیاز کرکے بقائے قومی کے شعور سے لیس کردیا ہے۔ ھیروف کے شہداء اور غازیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے بلوچ مزاحمت کو جس نئی نہج پر استوار کیا ہے، اس نے بلوچ مزاحمت کا رخ اور سطح ہمیشہ کیلئے بدل دیا ہے۔ تاریخ ان کرداروں کو محض ایک معرکے کے شرکاء کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسی پروقار نسبت کے طور پر محفوظ کریگی جو آنے والی نسلوں کے لیے سرمایہ افتخار ہوگی۔ اب وقت آگیا ہے کہ بلوچ قوم ان جانثار سرمچاروں کو ان کے شایانِ شان مرتبے پر فائز کرے۔ ھیروف کے دونوں مراحل میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ہر فرزند کو “ھیروفی شہید” کے مقدس لقب سے پکارا جائے، اور دشمن کے غرور کو خاک میں ملا کر زندہ لوٹنے والے ہر جنگجو کو تاحیات “ھیروفی غازی” کے معتبر نام سے یاد رکھا جائے۔ یہ القاب صرف نام نہیں، بلکہ اس عہد کے گواہ ہیں کہ جب تاریخ نے کروٹ لی تو بلوچ نے اپنے لہو سے آزادی کی نئی تحریر لکھی۔ ھیروف اب محض ایک آپریشن کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی ابدی نسبت بن چکا ہے جس پر فخر کرنا ہر آنے والی نسل کا مقدر ہوگا۔
















































